لبرل ازم اور سلمان حیدر - ڈاکٹر رانا تنویر قاسم

لبرل ازم اور سیکولرازم کی آڑ میں اسلام اور مسلم سماج پر جہاں فکری یلغار جاری ہے، وہاں سرمایہ دارانہ استعمار اور ’’انتہا پسندی‘‘ و ’’دہشت گردی‘‘ جیسے مذموم نعروں کی آڑ میں بعض طبقات کا بڑے پیمانہ پر استحصال بھی ہو رہا ہے۔ کمیونزم اور سوشلزم کی شکست کے باوجود مذکورہ دونوں نظریات اپنی نوع کے اعتبار سے اصل نظریات نہیں ہیں، بلکہ لبرل اِزم اور سیکولرازم کے ہی محض فروع ہیں۔ لبرل ازم اور سیکولرازم کی جکڑ بندیوں میں مسلم سماج بری طرح گھرا ہوا ہے۔ لبرل ازم اور سیکولرازم کے علَم بردار خدا، رسول، قرآن اور اسلام کا نام بھی لیتے ہیں، مگر عملی زندگی میں اسلامی تعلیمات کے نفاذ سے بِدکتے بھی ہیں۔ ان کے نزدیک ایک شخص بیک وقت مسلمان اور سیکولر یا لبرل ہو سکتا ہے۔ یہ لوگ سیاسی، ادبی، صحافتی اور ثقافتی حلقوں میں اثر و نفوذ رکھتے ہیں اور ذرائع ابلاغ اور حکومتی وسائل کو استعمال کرتے ہوئے نہایت آہستگی اور خاموشی کے ساتھ معاشرے کے تمام شعبوں سے خدا اور اسلام کو بےدخل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ سیکولرازم کی ساخت کے عین مطابق یہ سیکولر حکمراں یا دانشور مسلمانوں کے عقائد، مراسمِ عبودیت اور رسوم و رواج کی نہ صرف یہ کہ مخالفت نہیں کرتے بلکہ خود بھی ان کو اختیار کر کے عوام کو اپنے متعلق پکے مسلمان ہونے کا تا ثر دیتے ہیں اور مسلمان ہیں کہ ان سے لگاتار دھوکہ کھائے جا رہے ہیں۔

لفظ ”لبرل“، قدیم روم کی لاطینی زبان کے لفظ ”لائیبر“ (Liber) اور پھر ’لائبرالس“ (Liberalis) سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ہے ”آزاد، جو غلام نہ ہو“۔ آٹھویں صدی عیسوی تک اس لفظ کے معنی ایک آزاد آدمی ہی تھا۔ بعد میں یہ لفظ ایک ایسے شخص کے لیے بولا جانے لگا جو فکری طور پر آزاد، تعلیم یافتہ اور کشادہ ذہن کا مالک ہو۔ اٹھارھویں صدی عیسوی اور اس کے بعد اس کے معنوں میں خدا یا کسی اور مافوق الفطرت ہستی یا مافوق الفطرت ذرائع سے حاصل ہونے والی تعلیمات سے آزادی بھی شامل کر لی گئی، یعنی اب لبرل سے مراد ایسا شخص لیا جانے لگا جو خدا اور پیغمبروں کی تعلیمات اور مذہبی اقدار کی پابندی سے خود کو آزاد سمجھتا ہو، اور لبرل اِزم سے مراد اسی آزاد روش پر مبنی وہ فلسفہ و نظام اور اخلاق و سیاست ہوا جس پر کوئی گروہ یا معاشرہ عمل کرے۔ یہ تبدیلی اٹلی سے چودھویں صدی عیسوی میں شروع ہونے والی تحریکِ احیائے علوم (Rebirth of Renaissance) کے اثرات یورپ میں پھیلنے سے آئی۔ دنیا کے مختلف ممالک میں خدا، حیات بعد الموت اور دین اسلام کی دنیاوی امور سے متعلق تعلیمات کے بارے میں آج جو بےاطمینانی پائی جاتی ہے، اس کا سرچشمہ یہی یورپ کی خدا سے برگشتہ فکر ہے جس کی ذرا سخت قسم لبرل اِزم اور کچھ نرم سیکولراِزم ہے۔ یہ لبرل ازم اور سیکولرازم ہی ہے جس کی بنیاد پر بعض عصری تعلیمی اداروں میں تصور وحی کے انکار جیسے تعلیمی نظام کو فروغ دینے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ نتیجتاً ہر خاص و عام، مادیت اور نفسانی خواہشات میں مبتلا ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں:   سیکولر ازم کی مخالفت کیوں کی جاتی ہے؟ محمد عامر خاکوانی

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلام آباد کی فاطمہ جناح یونیورسٹی سے منسلک سلمان حیدر نامی لیکچرار چھ جنوری کی رات سے لاپتہ ہیں۔ میڈیا کے مطابق ان کی گاڑی مل گئی ہے لیکن وہ خود کہاں ہیں، اس بارے میں کسی کو کوئی علم نہیں۔ میڈیا نے سلمان حیدر کو پاکستان میں بنیاد پرستی کے خلاف آواز اٹھانے والی ایک مؤثر آواز قرار دیا ہے۔ (اگرچہ اغوا سے قبل یہ آواز کسی کو سنائی نہیں دی، اغوا کے بعد معلوم ہوا کہ کوئی سلمان حیدر بھی تھے اور آواز بھی رکھتے تھے) رپورٹس کے مطابق ان کے ساتھ وقاص احمد گورایا، عاصم سعید اور نصیر احمد رضا بھی غائب ہیں۔ انہیں سنٹرل پنجاب اور وفاقی دارالحکومت سے اٹھایا گیا۔ یہ سب سوشل میڈیا ایکٹوسٹ تھے، جن کے نزدیک پاکستان میں پھیلی مذہبی جنونیت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ذمہ دار پاکستان کے مقتدر ادارے ہیں۔ سوشل میڈیا پیجز ”بھینسا، موچی اور روشنی“ کے بھی یہی خالق تھے، جس پر اسلام اور اس کی تعلیمات، نبوی منہج، دینی اقدار و شعائر کاکھلم کھلا مذاق اڑایا جا رہا تھا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالی اور آنحضور ﷺ کی شخصیت اور احادیث و روایات پر بھی تنقید کی جاتی تھی۔ ان کے غائب ہونے کے بعد مذکورہ پیچز بھی ڈی ایکٹویٹ ہو گئے۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ انھیں چلانے والے یہی لوگ تھے ۔

اصولی بات تو یہی ہے کہ سیاسی کارکنوں، طالب علموں، دانشوروں، ادیبوں، مظلوم اقوام کے لوگوں کی جبری گمشدگیاں قابل مذمت ہیں۔ کوئی بھی اغوا نہیں ہونا چاہیے۔ نہ مولوی نہ فنکار، نہ سیاستدان نہ ان کے بیٹے، نہ صحافی، نہ پروفیسر، نہ کوئی طالب علم، نہ کوئی تاجر، نہ کوئی خواجہ سرا، نہ کوئی مذہبی وجہادی راہنما نہ کوئی فلم ساز، نہ طبلہ نواز، نہ کھلاڑی، کسی بھی شہری کو کسی کو اغوا کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ ہاں کوئی مجرم ہے تو سیدھے طریقے سے اس کے خلاف مقدمہ درج کرکے اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ یہ ریاست کا حق ہے کہ وہ معاشرے میں قیام امن کے لیے اقدامات کرسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   "مذہب تو موروثی چیز ہے"؛ تو پھر کیا ہوا؟ محمد زاہد صدیق مغل

سلمان حیدر اور ان کے ساتھیوں کو کس نے اغوا کیا؟ وہ کیسے لاپتہ ہوئے؟ اغوا یا لاپتہ ہوئے بھی ہے یا نہیں، کوئی مصدقہ اطلاع نہیں، معاملہ ابھی تک پراسرار ہے۔ مگر مجھے روزنامہ امت میں شائع ہونے والی اس رپورٹ نے ضرور چونکا دیا ہے کہ موصوف کس مشن پر تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر یہ سب کچھ درست ہے اور اسے اس بنیاد پر اگر کسی ادارے نے اٹھایا ہے تو اسے ریاستی سطح پر واضح کردینا چاہیے کہ موصوف کو اس جرم کی پاداش میں اٹھایا گیا ہے، تاکہ سول سوسائٹی اور اس کے حامی افراد کے مظاہرے اسے قوم کے سامنے مظلوم بنا کر پیش نہ کریں اور نہ ہی اسے عوامی ہمدردی سمیٹنے کا موقع ملے۔

حیرانی اس بات پر بھی ہے کہ چند ہفتے قبل پنجاب یونیورسٹی کے ایک پروفیسر صاحب بھی لاپتہ ہوئے تھے، اگرچہ وہ چند دنوں کے بعد واپس آگئے تھے، مگر ان کے لاپتہ ہونے پر کوئی شور اٹھا نہ کوئی سول سوسائٹی سڑکوں پر آئی۔ اگر امت کی رپورٹ کے مطابق سلمان حیدر کے نظریات واقعتاََ ہو بہو ایسے ہی ہیں تو پھر یہ ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ چوری اوپر سے سینہ زوری۔ کیا یہ انتہا پسندی نہیں؟ مذہب کو گالی دینا، استہزا کرنا اگر لبرل ازم ہے تو ہم اس سے پناہ مانگتے ہیں۔ اسلام تو کسی بھی مذہب کے شعائر کی توہین کا درس نہیں دیتا۔ یہود و نصاری، ہندو، سکھ، سب کے مذہبی شعائر ہیں۔ کیا کوئی عیسائی، ہندو، یہودی اور سکھ اپنے معاشروں میں لبرل ازم کے نام اپنے مذہب اور اپنے شعائر کو گالی دینا برداشت کرے گا۔

سول سوسائٹی اور بعض دانشور جو اپنے آپ کو بہت پڑھا لکھا سمجھتے ہیں، ان کے نزدیک اگر کوئی مذہبی شخص اپنے مسلک اور فقہ کو دوسروں پرجبرا مسلط کرتا ہے، جو اگرچہ درست نہیں، اسے تو انتہا پسندی اور شدت پسندی کے القابات ملتے ہیں، اور اگر یہ موم بتی مافیا اور دیسی لبرلز مذہب کو گالی دیں، تو پھر انہیں کون سا لقب دینا پسند کریں گے۔ لبرل ازم کے انھی رویوں کی وجہ سے ہمارے ہمارے ہاں ممتاز قادری پیدا ہوتے ہیں. میرے نزدیک یہ انتہا پسندی، تنگ نظری اور جہالت کی بدترین مثال ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ سلمان حیدر جہاں بھی ہے، اسے بازیاب ہونا چاہیے، اور اسے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرکے پوچھا جائے کہ صاحب! یہ کرتوت آپ کے ہیں۔؟ اسے لاپتہ رکھ کر مظلوم نہ بننے دیا جائے، اور نہ ہی اس کے لیے ہمدرددیاں سمیٹنے کا سامان کیا جائے۔

Comments

ڈاکٹر رانا تنویر قاسم

ڈاکٹر رانا تنویر قاسم

ڈاکٹر رانا تنویر قاسم انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور کے اسلامک سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں، مذاہب ثلاثہ میں امن اور جنگ کے تصورات کے موضوع پر پی ایچ ڈی کر رکھی ہے، تدریسی و صحافتی شعبوں سے برابر وابستہ ہیں، ایک ٹی وی چینل میں بطور اینکر بھی کام کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں