کرپشن کرنے والوں کے نام - سید معظم معین

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی پر آج تک ایک پیسے کی کرپشن ثابت نہیں کی جا سکی۔

داد دینی پڑتی ہے ہمارے سیاستدانوں کی راست گوئی کی کہ غلط بیانی سے کام نہیں لیتے۔ یہ نہیں کہتے کہ ہم نے کرپشن نہیں کی، یا ہم کرپٹ نہیں ہیں، بلکہ جب بھی کہتے ہیں یہ کہتے ہیں کہ ہماری کرپشن ثابت نہیں ہوئی یا نہیں کی جا سکی۔ گویا کرپشن ہوئی تو ہے مگر ثابت نہیں ہوئی۔ اب ظاہر ہے کہ دنیاوی قانون کے تحت تو کوئی سزا نہیں دے سکتا کیونکہ کچھ ثابت نہیں ہوا، لیکن پھر سوال یہ ہے کہ آخر قوم کا پیسہ جاتا کہاں ہے؟ وہ کون ہے جو کرپشن کرتا ہے؟ اگر سب حکمران اور سیاستدان پاک صاف ہیں بیوروکریٹ بھی دودھ کے دھلے ہیں تو پھر آخر مسئلہ کہاں ہے؟ کیوں یہ ملک سیدھی راہ پر نہیں آتا؟

اللہ تعالی سورۃ قیامہ میں فرماتے ہیں کہ انسان خود اپنے آپ کو جانتا ہے اگرچہ دنیا والوں کے سامنے خواہ کتنی بھی صفائیاں پیش کرتا پھرے۔ انسان خود اپنے سب کرتوت جانتا ہے یا اس کا رب العالمین جانتا ہے کہ اس نے کیا کیا کچھ کر رکھا ہے. دنیا کے سامنے چاہے کچھ بھی ثابت نہ ہو، میڈیا یا عدالت کے سامنے خواہ کچھ نہ آ سکے، مگر ایک دن سب کچھ دنیا کے سامنے آ ہی جائے گا۔ اس دن کیا ہوگا‪ ‬انسان کو یہ سوچنا چاہیے۔

چند روزہ چمک دمک کی خاطر ملک و قوم کے سودے کرنے والوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا میں کوئی سدا نہیں رہتا، انھوں نے بھی ہمیشہ نہیں رہنا۔ کسی کا عروج مستقل نہیں۔ کسی کا اقتدار ہمیشہ رہنے والا نہیں۔ دنیا میں کئی آئے اور چلے گئے۔ ہم نے بھی چلے جانا ہے۔ پھر اللہ پاک سارا دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دے گا۔ تب کوئی قطری شہزادہ کام نہیں آئے گا، کوئی پسندیدہ تقرری یا کرپشن سے کمایا ہوا پیسہ کام نہیں آئے گا۔ تب صرف اور صرف اعمال بولیں گے۔ تب کیا ہوگا؟ کرپشن کر کے کوئی اللہ کے سامنے کیسے بچ سکتا ہے؟

یہ بھی پڑھیں:   پہلے خود کو بدلو! - محمد فیصل ضیاء

بیان کیا جاتا ہے کہ ایک بار مقاتل بن سلیمان رحمۃ اللہ علیہ خلیفہ منصور کے دربار خلافت میں تھے، تو خلیفہ نے ان سے کہا: مجھے کچھ نصیحت کیجیے۔
کہنے لگے: کیسی نصیحت سنو گے، آنکھوں دیکھی یا کانوں سُنی؟
منصور نے کہا: اپنی آنکھوں دیکھی سُنائیے۔
کہا: اے امیرالمؤمنین، حضرت عمر بن عبدالعزیز کو اللہ پاک نے گیارہ بیٹے عطا فرمائے، جب فوت ہوئے تو ان کا کل ترکہ اٹھارہ دینار تھا۔ پانچ دینار کا کفن لیا گیا، چار دینار سے قبر اور دفن کی قیمت دی گئی، باقی کے پیسے بیٹوں میں تقسیم کر دیے گئے۔
ہشام بن عبد الملک کو بھی اللہ پاک نے گیارہ بیٹے عطا فرمائے، ان کے مرنے کے بعد ان کے ہر بیٹے کو دس لاکھ دینار ترکہ ملا۔
اللہ کی قسم اے امیر المؤمنین، میں نے اپنی آنکھوں سے عمر بن عبدالعزیز کے ایک بیٹے کو ایک دن سو گھوڑے جہاد کے لیے اللہ کی راہ میں صدقہ کرتے ہوئے، اور اپنی انھی آنکھوں سے ہشام کے ایک بیٹے کو بازاروں میں بھیک مانگتے ہوئے دیکھا ہے۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز جب بستر مرگ پر تھے تو لوگوں نے ان سے پوچھا؛ اے عمر! اپنے بیٹوں کے لیے کیا چھوڑے جا رہے ہو؟
بولے؛ اُن کے لیے اللہ کا ڈر اور تقویٰ چھوڑے جا رہا ہوں۔ اگر یہ نیک ہوئے تو اللہ پاک صالحین کے رکھوالے ہوتے ہیں، اور اگر اس کے علاوہ کچھ ہوئے تو ان کے لیے کچھ نہ چھوڑنا ہی بہتر ہے تاکہ اللہ کی نافرمانی میں تو کچھ خرچ نہ کریں۔

اپنی اولاد کے سیاسی اور معاشی مستقبل کو محفوظ کرنے کے لیے ہر جائز ناجائز حربے کو اختیار کرنے والوں کو تاریخ کا مطالعہ کرتے رہنا چاہیے تاکہ معلوم رہے کہ دنیا میں نہ کوئی سلطنت ہمیشہ رہی ہے، اور نہ کوئی خاندان ہمیشگی لکھوا کر لایا ہے۔ آج اگر عدالتوں کے سامنے کچھ ثابت نہیں ہو پایا تو کوئی بات نہیں، تاریخ وقت کے ساتھ بہت کچھ ثابت کر دیتی ہے، اور اگر تاریخ بھی ثابت نہ کر پائے تو اللہ کی عدالت تو کہیں نہیں گئی، وہاں سارے مقدمات ٹھیک ٹھیک فیصل ہو جائیں گے۔ تم بھی انتظار کرو ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔

Comments

سید معظم معین

سید معظم معین

معظم معین پیشے کے اعتبار سے مہندس کیمیائی ہیں۔ سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ مشینوں سے باتیں کرتے کرتے انسانوں سے باتیں کرنے کی طرف آئے مگر انسانوں کو بھی مشینوں کی طرح ہی پایا، وفا مگر مشینوں میں کچھ زیادہ ہی نکلی۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں