لاپتہ ایڈمنز اوردست وگریباں عوام – محمد علی نقی

گزشتہ کچھ دنوں سے جس طرح فیس بک پیجز کے ایڈمنز لاپتہ ہوئے ہیں، اسی طرح سوشل میڈیا میدان جنگ کا روپ دھار چکا ہے. مختلف نظریات رکھنے والے لوگ ان واقعات کو مختلف زاویوں سے دیکھ رہے ہیں، کہیں سے اداروں پر انگلی اٹھائی جارہی ہے تو کچھ اس بات کے قائل ہیں کہ یہ معاملہ عام اغوا کیس کی نوعیت کا ہے جو عموماً معاشرے میں دیکھنے کو ملتا ہے، لیکن کچھ طبقات اس بات پر بضد ہیں کہ جو بھی ہوا بالکل درست ہوا، یا ان لاپتہ بلاگرز کے ساتھ اس سے بھی برا کیا جانا چاہیے تھا۔

خیر! یہ تیسرا طبقہ انتہاپسندی کی اس نہج پر ہے جس پر تبصرہ کرنے کی فی الحال کوئی ضرورت نہیں جبکہ باقی دونوں طبقات میں سے کوئی بھی اپنی رائے کے حق میں ثبوت پیش کرنے سے عاری ہے۔ معاملہ عام اغوا کا ہوا یا طبقہ اول کی جانب سے لگائے گئے الزامات کا، قانون دونوں کی کسی صورت اجازت نہیں دیتا۔

یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ سیکولر اور لبرل طبقہ سماج میں لادینت یا مذہب مخالف پروپیگنڈے کو پروان چڑھا رہا ہے، اس کا بھی کوئی جواز نہیں بنتا کیونکہ سیکولر کا مطلب ریاست اور مذہب کو الگ رکھ کر معاملات کو پرکھنا ہے، تاکہ ریاست کسی مخصوص مذہب کے باشندوں کی جاگیر نہ بن جائے، بلکہ اس میں بسنے والے تمام مذاہب کے لوگوں کو برابر حق ہو کہ وہ ریاست سے فائدہ اٹھائیں۔ جو کہ آئین میں واضح کردیا گیا ہے کہ ریاست پاکستان کے تمام شہری خواہ کسی بھی مذہب، ذات، یا نسل سے تعلق رکھتے ہوں، ریاست کی نظر میں مساوی ہیں۔ اسی طرح لبرل کی اصلاح کا غلط مفہوم پیش کرکے یہ تاثر عام کیا جا رہا ہے کہ لبرل ازم مذاہب کی مخالفت یا مذہب سے دوری کا نام ہے. درحقیقت لبرل ازم کا مقصد کسی کے ذاتی معاملات خواہ مذہبی ہوں یا کسی پرائیویٹ نوعیت کے ہوں، میں مداخلت نہ کرنے کے ہیں، لبرل ازم کا مقصد اپنے لیے اپنا مذہب اور دوسرے کو اس کا مذہب مبارک کرنا ہے.

گرفتار یا اغوا شدہ لوگوں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ریاست مخالف پالیسی کا حصہ تھے یا مذہب کی توہین کرنےمیں پیش پیش تھے تو ان پر قوانینِ پاکستان کے مطابق کارروائی کی جانی چاہیے، اگر تو یہ توہین مذاہب میں ملوث تھے تو ان پر مقدمہ کیوں نہ درج کروایا گیا؟ انہیں گرفتار کرکے چوبیس گھنٹے کے اندر اندر عدالت میں کیوں نہ پیش کیا گیا؟

اگر مسئلہ صرف لبرل لوگوں کی آرا سے ہے جو کسی صورت ملکی مفادات کے پیشِ نظر صحیح نہیں ہے یا ان کی آرا سے کوئی ناپسندیدگی کا اثر ظاہر ہوتا ہے تو سوشل میڈیا پر ایسے پیجز بھی موجود ہیں جو انتہاپسندی کو آئے روز تقویت بخش رہے ہیں. ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس طرف بھی اپنی توجہ مبذول کرے، اس سے قبل کہ زہر کے یہ پودے تنا آور درخت بن کر عیاں ہوجائیں اور بعدازاں زیادہ مشکلات پیدا کردیں۔

معاملے کا عالمی سطح پر اجاگر ہونا ریاستی کارکردگی پر انگلیاں اٹھا رہا ہے، دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ پاکستان ہیومن رائٹس اور ہیومن رائٹس ورکرز کے لیے خطرناک ملک ہے۔ حکومت اور تمام ریاستی اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ لاپتہ ایڈمنز کے معاملے کو جلد حل کریں تاکہ عوام الناس کے ذہنوں سے غلط فہمیاں دور ہوں اور لوگوں کو مبث پیغام ملے۔

Comments

FB Login Required

Protected by WP Anti Spam