سونا عورت کی کمزوری نہیں، طاقت ہے – ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

حوا کا یہ اثاثہ جسے وہ چیونٹی کی مانند ذرہ ذرہ کر کے جوڑتی ہے اور مرد کے طعنے سنتی ہے، عموما اس کے آدم کے کام ہی آتا ہے. اس زرد عشق کا خمیر بھی حوا کی چیونٹی والی فطرت سے جڑا ہے.

بےشک سجنے سنورنے کا معاشرتی رویہ بھی سونے سے تسکین پاتا ہے اور یہ اسٹیٹس سمبل بھی ہے. لیکن دو چار پانچ سال کی بچی کے لیے سالگرہ یا کسی بھی اہم موقع پر سونے کا تحفہ سلیکٹ کرنے والی ماں اپنی بیٹی کی بےفکری کی عمر سے ہی ایک لاشعوری ٹریننگ کر دیتی ہے، کہ یہ اچھا تحفہ ہے، کام آئےگا. بچی کو چاہے کھلونے چاہیے ہوں، اسے سونے کے بندوں کی کوئی خواہش ہو، نہ ہی اس کا معنی پتہ ہو، لیکن وہ ماں کی خوشی کے لیے چپ کر جائے گی یا جھڑک کر خاموش کروا دی جائے گی. اصل مسئلہ ماں کا عدم تحفظ ہے جسے وہ اپنی غیر شعوری حرکات سے بیٹی کو منتقل کر رہی ہوتی ہے.

دراصل ”سونے کا گھڑا ہوا زیور“ عورت کی ملکیت سمجھا جاتا ہے جبکہ ”سونے کا بسکٹ یا اینٹ“ یعنی خام سونا ایک کرنسی کی مانند ایکسچینج ایبل اینٹٹی exchange able entity like cash مانا جاتا ہے. جسے کسی بھی ضرورت کے وقت فوری طور پر تڑوایا اور کیش کروایا جا سکتا ہے. بالکل ایسے ہی جیسے بینک میں محفوظ رقم جو ضرورت پڑنے پر نکلوا لی جائے یا بانڈز. عموما عورت کی بچت اسکیموں سے بچا بچا کر خریدے گئے سونے کے بسکٹ، عورت کی لاعلمی میں مرد کے خیالی کاروباری پلانز کے لیے پہلی بنیاد کا کام کرتے ہیں یا کاروباری نقصان کی صورت میں پہلا ازالہ ثابت ہوتے ہیں. گویا یہ تمام بچت اسی لیے تو کی گئی تھی. کون سا باپ کے گھر سے لائی تھی. مرد کے دیے پیسوں سے ہی تو یہ سونا خریدا گیا تھا. اسی ناگہانی سے بچنے کے لیے خواتین عموما اپنی بچت خفیہ رکھتی ہیں، یا اسے سونے کے حسین زیورات کی صورت میں ذاتی ضرورت کی اشیا کے طور پر محفوظ کرتی ہیں، جن کا خیال ذہن میں لاتے ہوئے مرد ہچکچاتا ہے.

اسی طرح خاندانی مواقع پر خواتین سونے کے زیورات صرف شیخی بگھارنے کے لیے نہیں پہنتیں. ہم سب جانتے ہیں کہ شادی بیاہ، خوشی غمی کے فنکشنز، رشتے دیکھنے اور سلسلہ جنبانی کے لیے نقطہ آغاز ثابت ہوتے ہیں. ایسے میں لڑکے یا لڑکی کے گھر والوں نے کیا اوڑھا پہنا ہے، اس پر بھی غور کیا جاتا ہے. اسی طرح ان خواتین کے زیورات سے اس خاندان کی مالی حیثیت، آمدنی، کاروباری و معاشی حالات، اور رکھ رکھاؤ کا بھی اندازہ لگایا جاتا ہے. ظاہر پرست معاشرے میں کسی کے خاندانی ہونے کا ثبوت بھی اس کے خاندانی زیورات ٹھہرتے ہیں.

اب ایسا بھی نہیں کہ عورت کے گھڑے گھڑائے زیورات کو اس کا مرد کاروبار یا قرضوں میں استعمال نہیں کرتا، لیکن بہرحال ان زیورات کے ٹوٹنے سے بچنے کے چانسز زیادہ ہوتے ہیں . عورت کے یہی زیورات نہ صرف شوہر کے اسٹیٹس سمبل کو مینٹین کرتے ہیں اور کاروبار کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا کام کرتے ہیں، بلکہ بچوں کی اعلی تعلیم، بیٹی کے جہیز، بیٹے کی بری اور کسی جانی یا مالی ایمرجنسی کی صورت میں بھی استعمال میں لائے جاتے ہیں. ذاتی گھر بنانے میں چند اینٹیں کم پڑ جائیں تب بھی یہی زیورات ان اینٹوں کی خالی جگہ پر کرتے ہیں.

اسی طرح طلاق یا بیوگی کی صورت میں جہاں جائیداد اور وراثت کے معاملات عموما عورت کے ہاتھ سے نکل جاتے ہیں، یہ وفادار پیلی دھات ان خزاں رتوں میں بھی اپنی مالکن کا ساتھ نہیں چھوڑتی. سچ تو یہ ہے کہ وفا کی قدر عورت سے زیادہ کون کر سکتا ہے. پس حوا کا یہ اثاثہ جسے وہ چیونٹی کی مانند ذرہ ذرہ کر کے جوڑتی ہے اور مرد کے طعنے سنتی ہے، عموما اس کے آدم کے کام ہی آتا ہے. اس زرد عشق کا خمیر بھی حوا کی چیونٹی والی فطرت سے جڑا ہے.

عورت کے اندر کی ایک سمجھدار بزنس ویمن یہ جانتی ہے کہ اس کا یہ اثاثہ جامد نہیں بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ دگنا تگنا چوگنا ہو رہا ہے. سو اس انویسٹمنٹ میں نقصان نہیں. خاتون سونا مختصر مدت کے لیے نہیں خریدتی بلکہ طویل عرصے تک کے لیے پکا زیور بناتی ہے. وجہ وہی کی وقت کے ساتھ ساتھ یہ کاروباری انویسٹمنٹ بڑھتی چلی جائے گی. لیکن آخر برصغیر کی عورت سونے کی اتنی شوقین کیوں ہے؟ جائداد کی کیوں نہیں. وجہ یہاں کی روایات ہیں. خواتین کے نام سے جائیداد خریدنے یا مکان گاڑی بنانے کا رواج نہیں. اگر گھر عورت کے نام ہوا تو مرد کے لیے شرم کی بات. گاڑی عورت کے نام ہوئی تو بیوی کی گاڑی چلانے میں مرد کی غیرت کے لیے تازیانہ. پھر زمین جائیداد کے رولوں میں خواتین کو کورٹ کچہری میں حاضر ہونے سے بچانے کے لیے بھی خواتین کو جائیداد سے محروم رکھا جاتا ہے. اس معاشرتی جبر نے عورت کے اندر کی محتاط بزنس ویمن کو اپنی انویسٹمنٹ کا رستہ پیلی دھات کی صورت میں دکھایا ہے، جسے بلا شرکت مرد وہ اپنا اثاثہ کہہ سکتی ہے، اور اس میں مرد کے لیے بھی کسی شرمندگی کا کوئی نکتہ موجود نہیں بلکہ مرد کے لیے فخر کا مقام ہے کہ اس نے اپنی عورت کو سونے میں پیلا کر رکھا ہے.

گاڑی ہو یا گھڑی، شو روم سے نکلتے ہی اس کی قیمت گرنے لگتی ہے، لیکن سونا خریدنے کے بعد قیمت بڑھتی ہے. یہ انویسٹمنٹ برصغیر کی عورت کی جبلت میں شامل ہو چکی ہے. اسے آپ کریز کہہ لیں یا عورت کی کاروباری سمجھداری. خاتون کو گولڈ پسند ہے.

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam