سیکولر بھینسا اور رائٹ لیفٹ کے پیادے – ابن حجر

لوگوں کے جان و مال اور ان کی ماؤں بہنوں کی عزتوں سے کھلواڑ کرنے والے بدنام زمانہ ڈاکو تھے، جو ریاست کی پولیس کے ہتھے چڑھ گئے، اور پولیس نے ان کو ”ڈرائنگ روم کی سیر“ کروا دی.
ڈاکوؤں نے جن افراد کا مال لوٹا تھا، جان لی تھی اور ان کی عورتوں کی عزتیں برباد کی تھیں، انھی لواحقین کی طرف سے بیان: ”یہ گرفتار ہونے والے ایڈونچر پسند نوجوان تھے، پولیس کی طرف سے ان مظلوموں پر کیے جانے والے ظلم اور اس غیر قانونی پولیس گردی کی شدید مذمت کرتے ہیں.“

کچھ دلال طوائفوں کا اڈے چلاتے تھے، پورے علاقے میں تعفن پھیلایا ہوا تھا، کوئی شریف نوجوان بھی ان کی شر سے نہیں بچ سکتا تھا. لیکن یہ دلال پھر ”پُلس“ کے ہتھے چڑھ گئے اور عدالت میں پیش کیے بغیر حوالات میں رکھا گیا ہے.
علاقے کے ”شرفاء“ کا احتجاج : “جناب ! یہ لوگ گوشت کے بیوپاری تھے، ہم ان کی غیر قانونی طور پر گرفتاری پر شدید مذمت کرتے ہیں، اگر انہوں نے کچھ غلطی کی ہے تو عدالت سے قانونی طریقے سے سزا دلائی جائے.“

اسلام اور انسانیت دشمن، توہین رسالت کے مرتکب، بدنام زمانہ فیس بک پیجز موچی، بھینسا اور روشنی چلانے والے دو تین افراد اپنے کرتوتوں پر غلط جگہ پھنس گئے، لیکن اب آپ کا سارا احتجاج ان کے ”پھنس جانے کی نوعیت“ پر ہو رہا ہے

میں پوچھوں، آپ لوگوں کو قانون صرف اس وقت یاد آتا ہے جبکہ ظالم اپنے ہی کرتوتوں کا برا انجام بھگت رہا ہو؟ سارا احتجاج اس وقت جب چوروں کو مور پڑ جائیں؟ اور آپ موروں کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ جائیں؟ ڈاکوؤں کے دو گروہوں میں تصادم ہو جائے اور ان میں سے ایک گروہ مارا جائے تو اس پر غریب عوام افسوس کرے؟ یا پھر خوشی منائے؟

مسلمانوں پر ہونے والے ظلم پر کوئی میڈیا کوریج نہ ہونے پر رونا رونے والے، اور اسلام کے خلاف چن چن کر الفاظ استعمال کر کے اسلام کے خلاف نفرت پیدا کرنے پر احتجاج کرنے والے خود اس پروپیگنڈا کی لہروں کے شکار ہوئے جاتے ہیں. بدی کے پیادوں اور مہروں کو بچانے اور ان کا دفاع کرنے کو تو پہلے ہی بدی کی طاقتیں موجود ہیں، اور بہت حاوی بھی ہیں، پھر نیکی کے دعویداروں کو کیا چیز چین نہیں لینے دے رہی؟ کہ بدکاروں کو ذرا سی آنچ آنے پر آپ کو اچانک انسانی حقوق اور قوانین یاد آ گئے؟ کیا آپ کو اپنے لوگوں کے دفاع سے فرصت مل گئی تھی، جو آپ نے گھنٹوں کے گھنٹے ان ملحدین کے حق میں احتجاجی تحریریں اور تقریریں کرنے میں لگا دیے؟

اسلام ضرور کسی غیر مسلم ذمی کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے، جب تک کہ وہ ذمی خود بھی اپنی طرف سے شر نہ پھیلانے کی ضمانت دیتا رہے، لیکن یہاں کسی بے ضرر ذمی پر ظلم نہیں ہو رہا، بلکہ آگ سے کھیلنے والوں پر چند چنگاریاں آ گری ہیں، اور آپ اس غم میں ہلکان ہوئے جا رہے ہیں. گویا بیگانے کی شادی میں عبداللہ دیوانہ.

جامعہ حفصہ، اور آنٹی شمیم کا اڈہ، دونوں فریق غیر قانونی تھے؟ فحاشی کے خلاف سراپا احتجاج جامعہ حفصہ تو کب کی قصہ پارینہ ہوئی، لیکن آنٹی شمیم کے اڈے آج بھی اپنی جگہ قائم اور آباد ہیں، تو پھر جان لیں کہ یہاں بات قانون کی نہیں بدنیّتی کی ہے، اور قانون اس بدنیّتی کے حق میں بطور ہتھیار استعمال ہوا ہے.

میدان جنگ میں مکّار اور بے اصول زخمی دشمن کو پانی پلانے سے پہلے اپنوں پر ہونے والی تیروں اور نیزوں کی بوچھاڑ کی خبر تو لے لیں! دشمن کے قیدیوں کو گرفتار کرنے کے بعد ضرور قانونی ضوابط پورے کر لیجیے گا.

ویب ڈیسک

web.desk

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam