مخلوط تعلیمی ادارے اور والدین کی ذمہ داری - تنزیلہ یوسف

آج سے دس پندرہ سال پہلے تک مخلوط تعلیمی ادارے کا تصور ہی محال تھا۔ ایسے ادارے میں بچوں کو بغرض تعلیم بھیجنا والدین اچھا خیال نہیں کرتے تھے اور پوری کوشش یہ کی جاتی تھی کہ لڑکے اور لڑکی کا داخلہ علیحدہ سکول میں کروایا جائے۔ کم ازکم کالج لیول تک لڑکے اور لڑکی کو الگ الگ تعلیمی ادارے میں بھیجنے کو ترجیح دی جاتی تھی۔
یہ ایک طرح سے احتیاط برتنے کا ہی طریقہ تھا جسے اس وقت چند ایک ہی دقیانوسیت خیال کرتے تھے۔ پھر آہستہ آہستہ ہم سبھی لبرل ہونے کے نام پر بے حیا ہونے لگے۔ بہت آہستگی کے ساتھ ہماری رگوں میں لبرل پن انجیکٹ ہونے لگا، اور یہ سوچ کہ بچوں کا ایڈمیشن ایک ہی سکول میں کروا دیتے ہیں، اب کون بیٹے کو ایک سکول اور بیٹی کو دوسرے سکول چھوڑنے جائے اور لے کر آئے۔ پہلے محض پرائمری لیول تک مخلوط تعلیمی ادارے کا تصور عام ہوا، اور پھر یہ تصور بڑھتے بڑھتے میٹرک لیول تک عام ہوگیا۔

اور اب یہ حال ہے کہ بظاہر بوائز کو پہلے ہی سکول سے چھٹی مل جاتی ہے، جن کی اکثریت گرلز کی چھٹی ہونے کے انتظار میں سکول کے آس پاس منڈلاتے نظر آتے ہیں۔ زیادہ تر پھر یہ ہوتا ہے کہ چونکہ نئی نئی جوانی ہوتی ہے تو خمار بھی جوبن پر ہوتا ہے، اسی لیے یہ ٹین ایجرز ماں باپ کو دھوکا دینا اور ان کی آنکھوں میں بڑی آسانی کے ساتھ دھول جھونکنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ضرورت کے نام پر موبائل فونز، انٹرنیٹ، واٹس ایپ اور دوسری آسائشات جو والدین بچوں کے ہاتھوں میں دے کر ان سے غافل ہوجاتے ہیں، ان کی بربادی میں اپنا بخوبی کردار نبھا رہے ہیں۔ وقت سے پہلے ملنے والی سہولت سہولت نہیں ہوتی سامان تعیش کہلاتا ہے اور وقت سے پہلے ملنے والا علم برباد ہی کرتا ہے۔ یہ سب ہی جانتے ہیں کہ انٹرنیٹ آن کرتے ہی بہت سی واہیات سائٹس خود ہی کھل جاتی ہیں، جو اچھے بھلے انسان کو گمراہ کرنے کے لیے کافی ہوتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   بھائی! مائیں تو سب کی سانجھی ہوتی ہیں! سید معظم معین

ماں باپ کا بات بات پہ روک ٹوک کرنا، نوجوان نسل کو اپنی پرائیویسی میں مداخلت محسوس ہوتا ہے۔ یہ نئی نئی جوان پود خود کو بہت عقل مند خیال کرنے لگی ہے، یہ گمان کرتے ہیں کہ جیسے بہت سمجھدار ہو گئے ہیں، اور اپنا بھلا برا جاننے لگے ہیں۔ مگر جس کو یہ اپنی سمجھداری قرار دیتے ہیں، وہ دراصل سراسر حماقت ہوتی ہے۔ یہ والدین کو دھوکا دے کر باہر ملنے لگتے ہیں، اور بڑھتے بڑھتے یہ نشہ اتنا ہونے لگتا ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھائی جاتی ہیں۔ ایک دوسرے کے آنسو پونچھے جاتے ہیں اور پھر قربتوں کا انجام تو پھر معلوم ہی ہے کہ کیا ہوتا ہے۔

جب مرد اور عورت تنہائی میں ملتے ہیں تو ان کے درمیان تیسرا شیطان ہوتا ہے، جو دونوں کے درمیان اس شرمناک تعلق کو ہوا دیتا ہے کہ جس کو کوئی اچھا نام نہیں دیا جاسکتا۔ وہ ان دونوں کو اکساتا ہے کہ بس اتنی قربت، بس ایک بار کا ملنا اور پھر نہیں ملیں گے۔ والدین اگر اپنے بچوں کے ساتھ پیار، محبت اور نرمی کا برتاؤ روا نہ رکھیں تو ایسے بچوں کے بھٹکنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

بچوں کی تربیت کرنا جہاں ماں کی ذمہ داری ہے وہیں باپ کا بھی اتنا ہی فرض ہے کہ اپنے بچوں کی تربیت میں اپنا کردار بخوبی نبھائے۔ دنیا کے کامیاب افراد کی تاریخ اگر دیکھی جائے تو معلوم ہوگا کہ تقریبا سبھی کو گھروں سے اعتماد ملا۔ ان پر طعنہ و تشنیع نہیں ہوتی تھی، ان کو ہر دوسرے کے سامنے ڈی گریڈ نہیں کیا جاتا تھا کہ رہنے دو تم یہ کام نہیں کرسکتے۔

انبیائے کرام نے اپنے بچوں کی تربیت میں کوئی کمی نہ چھوڑی، حضرت آدم، حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب، حضرت داؤد علیھماالسلام، ان کی روشن مثالیں ہمارے سامنے کھلی کتاب ہیں۔ اولاد نافرمان ہو، وہ علیحدہ بات ہے کہ جو نصیحت قبول نہ کرنا چاہے اس کو برباد ہونے سے کون روک پایا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   لڑکیوں میں سوشل میڈیا کا غلط استعمال - سعدیہ نعمان

ضروری نہیں بچوں کو ضرورت کے نام پر محض آسائشوں کی ہی احتیاج ہوتی ہے، انہیں ماں اور باپ کی ہر قدم پر اتنی ہی ضرورت ہوتی ہے جتنی ایک چھوٹے بچے کو ہوتی ہے جو چلنے سے پہلے بار بار ماں اور باپ دونوں کو دیکھتا ہے۔ خدارا اپنے ان آبگینوں کی حفاظت کریں، ورنہ یہ جو آئے دن ایسے کیس سامنے آتے ہیں کہ لڑکی معلوم نہیں کیسے پریگننٹ ہوگئی؟ ہر دوسری ماں سر پکڑ کر بیٹھی ہوگی کہ کیسے بھول ہوئی اور بچے کے قدم بہک گئے۔

کوشش کیجیے کہ بچوں کا داخلہ الگ الگ کروائیے، مخلوط تعلیمی ادارے میں بھیجنا مجبوری ہو تو آنکھیں اور کان کھلے رکھیے، اور بلی کی طرح اپنے بچوں کی حفاظت کیجیے، جو اپنے بچوں سے دور بھی ہو تو ان سے غافل نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی اس کے بچوں کو ہاتھ بھی لگانے لگے تو اچانک کہیں سے غراتی آجاتی ہے۔ کبھی مرغی کو انڈوں پر بیٹھا دیکھا ہی ہوگا، کیسے احتیاط سے بیٹھتی ہے کہیں اپنے ہی وزن سے انڈے ٹوٹ نہ جائیں اور جو کوئی انڈوں کو چھونا بھی چاہے تو اپنی چونچ سے اس بیرونی مداخلت کو باز رکھتی ہے۔ اپنے بچوں کو زمانے کی گرد سے بچانا ہے تو ایسے احتیاط اور حفاظت کرنی ہوگی.

Comments

تنزیلہ یوسف

تنزیلہ یوسف

تنزیلہ یوسف نے پنجاب یونیورسٹی سے اسلامک اسٹدیز میں ایم اے کیا ہے۔ ہاؤس وائف ہیں۔ دلیل سے لکھنے آغاز کیا۔ شعر کہتی ہیں، اور ادب کے سمندر میں قطرے کی مانند گم ہونے کے بجائے اپنی پہچان بنانا چاہتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں