شکار … مبشر علی زیدی

میں نہر پاناما میں کانٹا ڈال کر بیٹھ گیا۔
آپ تو جانتے ہیں، میں کتنا بڑا شکاری ہوں۔
گھاٹ گھاٹ کا پانی پی چکا ہوں،
گھاٹ گھاٹ کی مچھلی پکڑ چکا ہوں۔
وائٹ، بلیک، براؤن، ہر رنگ کی مچھلی۔
سرمئی، پاپلیٹ، کنڈ، رہو، ہر قسم کی مچھلی۔
کسی نے مجھے نہر پاناما کے بارے میں بتایا۔
میں وہاں کانٹا ڈال کر بیٹھ گیا۔
بہت دیر بیٹھا رہا لیکن گوہر مقصود ہاتھ نہ آیا۔
صبح سے شام ہوگئی۔
پھر ایک سمجھدار آدمی نے کہا،
’’خان صاحب! کس نہر پر شکار کرنے آ گئے!
یہاں مچھلیاں نہیں، صرف مگرمچھ پائے جاتے ہیں‘‘۔

Comments

FB Login Required

Protected by WP Anti Spam