سوشل میڈیا پر چیک کا یہ مطلب؟ نصرت جاوید

عمر کے اس حصے میں مجھے ’’لاپتہ‘‘ ہونے یا اپنے ’’باغیانہ‘‘ خیالات کی وجہ سے جیل جانے کا کوئی شوق نہیں فکرصرف اس بات کی کھائے جارہی ہے کہ نام نہاد ریاستی مفاد وغیرہ کے تحفظ پر مامور چند افراد کچھ ایسی حرکتیں کرنا شروع ہوگئے ہیں جو مجھے اپنے ملک کے بارے میں نادم ہونے پر مجبور کررہی ہیں۔
1984ء کا نومبر مجھے آج بھی پوری طرح یاد ہے۔ اندرا گاندھی کے قتل کے چند ہی روز بعد میں زندگی میں پہلی بار بھارت گیا تھا وہاں نئے انتخابات کے لئے مہم جاری تھی۔ بھارتی سیاست کی باریکیوں کو سمجھنے کے لئے مجھے وہاں کے صحافیوں کے ساتھ رابطے استوار کرنا ضروری تھا تاکہ اس مہم کے تمام تر ممکنہ پہلوئوں کی سمجھ آسکے۔
بھارتی صحافیوں سے لیکن جب ملاقات ہوتی تو بجائے اپنے ملک کی سیاست پر بات کرنے کہ وہ بڑے تفاخر اور رعونت کے ساتھ مجھ سے یہ دریافت کرنا شروع ہوجاتے کہ ایک ’’جمہوری ملک‘‘ کی ’’آزاد فضا‘‘ میں سانس لینا مجھے کتنا حیران کن مگر خوش گوار محسوس ہورہا ہوگا۔
پہلے پہل تو میں ان کی اس بات کو مہذب انداز میں نظراندازکرتا رہا۔ احساسِ برتری والی ’’شفقت‘‘ مگر مجھ سے برداشت ہی نہیں ہوتی۔بالآخر 6کے قریب بہت ہی سینئر بھارتی صحافیوں کی ایک محفل میں پھٹ پڑا۔ اپنی آواز بلند کرتے ہوئے میں نے اعتراف کیا کہ پاکستان میں ضیاء الحق کا مارشل لاء ہے۔ اس مارشل لاء کے خلاف لوگوں نے مگر آواز بھی بلند کی اور اس کی وجہ سے کوڑوں جیسی اذیت ناک سزائیں بھی برداشت کیں اندرا گاندھی نے جب بھارت میں ایمرجنسی لگائی تھی تو ان کے ہاں عوامی مزاحمت کی ایسی بھرپور مثالیں کیوں نظر نہیں آئیں۔
صحافت کی بات کریں تو نام نہاد عالمی قوتوں کی بھرپور معاونت کے ساتھ ضیاء الحق ان دنوں افغانستان کو کمیونسٹ روس کی افواج کے قبضے سے ’’جہاد‘‘ کے ذریعے آزاد کروا رہا تھا۔ مجھ ایسے بے شمار صحافیوں نے اس ’’جہاد‘‘ کے عروج کے دنوں میں بھی تسلسل کے ساتھ اس پالیسی کے خلاف لکھا۔ اس پالیسی کے ممکنہ مضمرات کے بارے میں بھی ذکر ہوتا رہا۔ بھارت میں کسی ایک صحافی نے بھی لیکن اپنی ریاست کی کشمیر پالیسی کے بارے میں ایک تنقیدی فقرہ تک نہیں لکھا۔ بھارتی صحافی میرا مان توڑنے کے لئے ایک لفظ بھی نہ کہہ پائے میرا سراس برس کے بعد سے بھارت کے تمام تر دوروں کے دوران ہمیشہ فخر سے بلند ہی رہا۔
1986ء میں 12غیر ملکی صحافیوں کے ہمراہ مجھے امریکہ میں ایک تعلیمی دورے کے لئے تین سے زیادہ مہینے گزارنا پڑے تھے۔ اس دوران ہم امریکہ کے تمام بڑے اخبارات کے دفاتر بھی گئے وہاں کے بے شمار، دنیا بھر میں مشہور ہوئے صحافیوں سے ملاقاتیں بھی رہیں۔
یہ صحافی بھی کافی رعونت کے ساتھ امریکہ میں آزادی اظہار کی روایت وغیرہ کا ذکر کرتے انہیں غریب اور پسماندہ ملکوں سے آئے مجھ ایسے صحافیوں پر بہت ترس آتا وہ ہمیں ’’ذہنی غلام‘‘ سمجھتے اس دورے کے آغاز کے تین دن بعد ہی لیکن میں نے بڑے فخر اور اعتماد کے ساتھ ان کی رعونت کو چیلنج کرنا شروع کردیا۔
امریکی اخبارات ان دنوں افغانستان میں ’’مجاہدین‘‘ کی کامیابیوں کی داستانوں سے بھرے ہوتے تھے میں نے انہیں آگاہ کیا کہ اسلام آباد میں مقیم ایک سفارت کار روزانہ شام کو غیر ملکی خبررساں ایجنسیوں کے نمائندوں کو اپنے دفتر بلاتا ہے انہیں کافی کے مگ دینے کے بعد وہ ایک کاغذ لہراتا ہے جو اس کے بقول اسے کیبل کے ذریعے کابل سے وصول ہوا ہے۔ اس کیبل میں افغانستان کے مختلف مقامات میں ہوئی ’’چھاپہ مارکارروائیوں‘‘ کا ذکر ہوتا۔ بغیر Double Checkکئے کابل سے آئی اس کیبل میں بتائی داستانیں دوسرے روز دنیا بھر کے اخبارات میں چھپ جاتیں۔ نام لے کر گنوائے میرے کئی واقعات امریکی پھنے خانوں کو معذرت خواہانہ خاموشی اختیار کرنے پر مجبور کردیتے۔
معذرت چاہتا ہوں تمہید ذرا طویل ہوگئی۔ عرض مجھے صرف یہ کرنا ہے کہ اپنی دل کی بات کسی نہ کسی صورت کہہ دینا ہم پاکستانیوں کی جبلت میں شامل ہے۔ بڑے ظالم بادشاہوں کے ہوتے ہوئے بھی لاہور کے ملامتی شاہ حسین نے استعاروں کا سہارا لئے بغیر دل کی بات کہہ دی تھی۔ قصور کا بلّھے شاہ تو اس حد تک چلا گیا کہ ’’آئی صورتوں‘‘ ہر صورت سچا رہنے پر زور دیتا رہا۔
اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے خوئے غلامی سے اُکتائے اقبال نے اپنے ربّ سے وہ تمنا عطا کرنے کی فریاد کی جو قلب کو گرمائے اورروح کو تڑپائے رکھے۔ حبیب جالب تو ہماری حالیہ تاریخ کا ایک دیوانہ ہے۔ میاں منظور قادر انتہائی پڑھے لکھے انسان تھے۔ انہوں نے بڑی محنت سے پاکستان کے پہلے فوجی آمر’’فیلڈ مارشل ایوب خان کے لئے‘‘ 1962ء کا دستور لکھا تھا۔ جالب نے صرف ’’ایسے دستور کو، صبح بے نور کو ’’میں نہیں مانتا‘‘ میں نہیں مانتا‘‘ والی نظم لکھ کر اس کے پرخچے اُڑا دئیے تھے۔ مرتے دم تک منظور قادر صاحب نجی محفلوں میں اعتراف کرتے رہے کہ جالب کی اس ایک نظم نے ان کی برسوں تک پھیلی تعلیم اور وکالت کو فضول اور وقت کا ضیاع ثابت کردیا۔
سوشل میڈیا سے مجھے ذاتی طورپر بھی بہت تکلیف پہنچی ہے۔ عمران خان کے چاہنے والوں نے اس کے ذریعے مجھے ’’لفافہ‘‘ بنادیا۔ ایمان کی حرارت سے بھڑکتے کئی لوگوں نے بھی مجھے قابلِ گردن زدنی قرار دیا۔ اسی میڈیا کی بدولت مگر ہمارے نوجوانوں کو اپنے من میں آئی بات کہہ دینے کی سہولت عطا ہوئی ہے۔ جب تک کوئی شخص اپنے سوشل میڈیا اکاوئنٹ کے ذریعے خلقِ خدا کو فساد پر اُکسانے والے شرکا ارتکاب نہ کرے،اسے نظرانداز کریں، برداشت کریں لوگ اپنے دل میں آئی باتوں کو برجستہ کہتے رہیں گے تو بالآخر اجتماعی خیر کے کئی راستے ہمارے سامنے آئیں گے۔ تخلیقی خیالات سوشل میڈیا پر پھیلی واہی تباہی کے شور ہی میں سے کہیں کوندتے نظر آئیں گے۔
لوگوں کی جان کے تحفظ اور فسادِ خلق کے امتناع کے لئے سوشل میڈیا پر البتہ کوئی نہ کوئی چیک بالکل ضروری ہے۔ اس ’’چیک‘‘ کا مطلب یہ بھی تو نہیں کہ چند باغیانہ نظمیں لکھنے والے شاعر کو اسلام آباد ایکسپریس روڈ سے اُٹھاکر ’’غائب‘‘ کردیا جائے۔
اگر کوئی شخص کسی خاص شخص،گروہ یا مسلک کو مکمل بدنیتی کے ساتھ مسلسل نشانہ بنائے ہوئے ہے تو اس کی پکڑ کے لئے مناسب قوانین موجود ہیں۔ انہیں استعمال کریں اور عدالت کے روبرو اس شخص کا پھیلایا زہریلا مواد پیش کرکے مناسب سزائوں کا بندوبست کریں ایسا مگر ہمارے ہاں ہوتا نہیں ہے۔
عام انسانوں کی بات چھوڑدیں، نومبر 2016ء کے آخری دنوں میں جب جنرل راحیل شریف کے ممکنہ جانشینوں کی تلاش جاری تھی تو موجودہ آرمی چیف کے عقیدے کو ایک منظم مہم کے ذریعے متنازعہ بنایا گیا تھا۔ میں جنرل باجوہ کو قطعاً نہیں جانتا مجھے ان کی سرپرستی حاصل کرنے کی بھی ہرگز خواہش نہیں ہے۔ ہماری عسکری قیادت جب ملکی سیاست میں دخل انداز ہوتی ہے تو مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے اپنے تئیں پاک فوج مگر ایک شاندار ادارہ ہے اس ادارے میں مسلک ونسل کی کوئی تمیز نہیں۔ صرف اور صرف میرٹ کی بنیاد پر آگے بڑھاجاتا ہے۔
ایسے ادارے کے ایک ممکنہ سربراہ کے عقیدے پر سوال اٹھاتے ہوئے جو آگ بھڑکانے کی کوشش ہوئی اس کے عواقب بہت خوفناک ہوسکتے تھے۔ چند ’’باغیانہ‘‘فقرے اپنے نام کے ساتھ لکھنے والے لوگوں کو ’’لاپتہ‘‘ کرنے والے مستعد افراد کو ان لوگوں کا سراغ بھی تو لگانا چاہیے تھا جنہوں نے ہمارے ایک انتہائی منظم اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے ذمہ دار ادارے کے بارے میں شکوک وشبہات پھیلانے کی کوشش کی تھی۔ ’’لسی سامیوں‘‘پر غصہ اُتارنا چھوڑئیے۔ پاکستان کو پاکستان ہی رہنے دیجئے جہاں کے لوگ ’’منہ آئی‘‘ بات کہے بغیر رہ ہی نہیں سکتے۔

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam