سیلف مینجمنٹ - سید قاسم علی شاہ

انسان کی زندگی مختلف مراحل پر مشتمل ہے جیسے بچپن، لڑکپن، جوانی، ادھیڑ پن اور بڑھاپا۔ انسان کی زندگی کا جب آغاز ہوتا ہے تو اسے کسی قسم کا شعور نہیں ہوتا، یہاں تک کہ اسے بےلباسی کا احساس نہیں ہوتا، پھر جیسے ہی عمر پانچ یا چھ سال ہوتی ہے، اس کے اندر شرم و حیا کا رویہ جنم لیتا ہے، وہ محسوس کرتا ہے کہ مجھے اپنے جسم کو ڈھانپنا ہے، اپنا آپ چھپانا ہے، جب مزید بڑا ہوتا ہے تو اس کے اندر چاہت آتی ہے، وہ چاہتا ہے کہ لوگ میری باتیں سنیں، اور میری باتیں مانی جائیں، وہ شاباشی ملنے پر خوشی محسوس کرتا ہے۔ انسان کی عمر میں جیسے جیسے اضافہ ہوتا ہے، ویسے ویسے اس کے شعور میں پختگی آتی ہے۔

سیلف کا مطلب ہے ”میں“۔ بےشمار لوگ ایسے ہوتے ہیں، وہ جس چیز کو مینیج کرنا چاہتے ہیں، وہ اس چیز کے بارے میں نہیں جانتے؟ جیسے یہ کہ گھر کیا ہے؟ گھر کسے کہا جاتا ہے؟ معاش کیا ہے؟ یہ کیوں ضروری ہے؟ شادی کیا ہے؟ شادی کرنا کیوں ضروری ہے؟ وغیرہ وغیرہ، یہ وہ تمام احساسات ہیں جو انسان کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ ”میں“ ہوں، اسی کو ہی سیلف مینجمنٹ کہا جاتا ہے۔ جس کے اندر یہ احساسا ت نہ ہوں، اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ نارمل نہیں ہے۔ معاشرے میں جو لوگ کپڑوں کے بغیر پھر رہے ہوتے ہیں، وہ جہاں چاہتے ہیں بیٹھ جاتے ہیں، لیٹ جاتے ہیں. ایسے لوگوں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان میں شعور نہیں ہے۔ جن کے پاس رونے یا ہنسنے کی وجہ عجیب ہو یا وہ زندگی کی ڈگر سے ہٹ گئے ہوں، ایسے لوگوں میں سیلف مینجمنٹ نہیں ہوتی۔ کچھ لوگوں کی سیلف مینجمنٹ کا لیول اتنا ہائی ہوتا ہے کہ ان کے دنیا سے چلے جانے کے باوجود بھی ان کے افکار زندہ رہتے ہیں، جیسے سدھارتھا (گوتھم بدھ) نے کہا کہ ”خواہش مار دو، تو غم مر جائے گا“. آج لوگوں کو گوتم بدھ کی شکل وصورت کا نہیں پتا، مگر اس کی سیلف یا خودی سے نکلی ہوئی بات کے متعلق آج بھی دنیا سوچ رہی ہے۔ اسی طرح یہ جملہ کہ ”اگردجلہ و فرات کے کنار ے کتا بھی مر جائے تو عمر اس کا بھی جواب دہ ہے.“ تو یہ جملہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سیلف مینجمنٹ کو ظاہر کرتا ہے۔

سیلف مینجمنٹ سے پہلے سیلف کا سفر ہے، سیلف کی پالش ہے، سیلف کو جاننا ہے اور سیلف کی شناخت ہے، اس کو خودی کے سفر کا نام بھی دیا جا سکتا ہے۔ عام طور پر ہم نے جو سیلف کی شناخت کی ہوتی ہے، وہ سیلف نہیں ہوتی۔ وقت کے ساتھ ساتھ سیلف میں بہتری آنی چاہیے، اگر بہتری نہیں آتی تواس کا مطلب ہے سیلف کا سفر جہاں سے شروع ہواتھا، وہ وہیں کا وہیں ہے۔ اس دنیا میں ایونٹ، بندے، حادثات، خوشیاں، غم اور تجربات خودشناسی کا بہترین آئینہ ہیں۔ سیلف کو جاننے کے مواقع تب زیادہ ہوتے ہیں جب بندہ زندگی کی سٹرک پر احساسات کے ساتھ چلتا ہے۔ اللہ کے رسولﷺ نے آخری پیغام دیا جس سے پتا چلا کہ چلتے رہنا ہی خود شناسی ہے جبکہ اس پہلے خود شناسی کا مطلب یہ تھا کہ شادی نہیں کرنی، دنیا کو چھوڑ دینا ہے، جنگلوں میں رہنا ہے۔ زندگی بذات خود انسان کو اپنے آپ سے آشنا کراتی ہے، مگر شرط یہ ہے کہ اس کے احساس زندہ ہوں۔ یہ احساس کہ زندگی ایک بار ملی ہے، یہ احساس کہ میں نے کچھ کرنا ہے، یہ احساس کہ دوبارہ موقع نہیں ملنا، خوش قسمتی کی علامت ہے۔

جو لوگ دوسروں کے لیے چھوٹی چھوٹی آسانیاں پیدا کرتے ہیں، وہ سیلف لیس لوگ ہوتے ہیں، وہ اپنے سیلف کی شناخت کے بعد بے پروا ہو جاتے ہیں۔ میسلو کہتا ہے کہ دنیا میں بڑے لوگ ایسے ہیں جو سیلف کی شناخت کے بعد سیلف لیس ہو جاتے ہیں۔ لوگوں کی اکثریت زندگی کی چھوٹی ریس میں پھنسی ہوئی ہے، یہ لوگ اپنی آسانی کے لیے بہت کچھ بنا لیتے ہیں مگر ان کے سیلف میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ بڑے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو یہ سوچتے ہیں کہ زندگی میں تو میں کچھ کر نہیں پایا، تو پھر کیوں نہ میں روحانیت میں آ جاؤں، یہ زندگی سے راہ فرار ہے. کمال یہ ہے کہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا جائے۔ ہم کہتے ہیں کہ نیکی تب ہو تی ہے جب لوگ دیکھیں جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے نیکی تب ہوگی جب میں قبول کروں گا، اور قبولیت چیزوں سے نہیں ہوتی، نیت سے ہوتی ہے. سیلف کا ایک بڑا حصہ تزکیہ کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ سیلف کا ایک حصہ ایسا ہے جس کا حساب ہی نہیں ہے، اور وہ ہے نیچر، جو چیز نیچر میں ہے، اس کا حساب نہیں ہے، لیکن جو چیز اختیار میں ہے، اس کا حساب ہوگا۔

سب سے بہادر انسان وہ ہے جو اپنے افکار پہ سوال اٹھا سکے، ایسا کرنا بہت مشکل ہے، آپریشن کے ذریعے بازو کاٹنا آسان ہے لیکن آپریشن کر کے نظریات کو نکالنا مشکل کام ہے۔ معاشرے میں جتنی بھی جنگیں لڑی گئیں، وہ ”میں صحیح اور وہ غلط“ کے نظریا ت پر لڑی گئیں۔ بہت سے لوگ اپنی طرف سے یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ ہم میں بہتری آ رہی ہے، لیکن اصل میں بہتری نہیں ہوتی، کسی کو دیکھ کر اگر سیلف کا سفر شروع کرنا ہے تو پھر یہ سفر نہیں ہوگا۔ سیلف مینجمنٹ میں سب سے پہلا قدم خود کو جاننا ہے، اس کے بعد اپنے نظریات کو بدلنا۔ وہ تمام سوچیں، نظریات جو پروگریسو نہیں ہیں، ان پر ضرور سوال اٹھانے چاہییں، اس کو سمجھنے کا آسان حل یہ ہے کہ زندگی میں جس جس گوشے میں بہتری نہیں آرہی، اس میں بہتری لائیں۔ جب تک نئے افکار، نئی چیزیں، اور نئے یقین نہیں آئیں گے، سیلف مینجمنٹ میں بہتری نہیں آئےگی۔

ہماری زندگی میں جو ہماری ٹرین چل رہی ہوتی ہے، بعض اوقات وہ سفر اچھا نہیں لگ رہا ہوتا، لیکن جو شخص باہر بیٹھا ہوتا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ اس کا سفر ٹھیک ہے، اس لیے زندگی کے سفر میں بہتری لانے کےلیے کسی کوچ کو اپنی زندگی میں شامل کریں، اس کے لیے لازم نہیں ہے کہ بیعت ہی کرنی پڑے، لازم نہیں ہے کہ وہ کوئی مرشد ہو، وہ کوئی بھی ہو سکتا ہے، اگر دل کے دروازے کھلے ہیں تو پھر لوگ مل جائیں گے۔ ہمارے ساتھ یہ مسئلہ ہے کہ ہم پہلے پیمانہ بناتے ہیں، پھر اس سے لوگوں کو جانچتے ہیں، جس کی وجہ سے ہمیں لوگ نہیں ملتے۔ حضرت واصف علی واصف ؒ فرماتے ہیں ”ہم دوسروں کو ماپنے کے پیمانے بناتے ہیں اور خود کو ماپنے کا وقت ہی نہیں ملتا“۔ سیلف مینجمنٹ کو بہتر کرنے کے لیے درج ذیل چیزوں کو اپنی زندگی میں شامل کریں:
1۔ سوچ مینجمنٹ
2۔ یقین مینجمنٹ
3۔ انسپائریشن
4۔ مطالعہ
5۔ ذاتی بہتری کی فہرست

اللہ پاک ہمیں آسانیاں عطا کرے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا کرے۔ آمین