خطبہ جمعہ کی تیاری ایسے کریں – عادل لطیف

ہمارے یہاں جمعۃ المبارک کے دن نمازجمعہ سے پہلے مساجد میں موقع محل کے لحاظ سے بیانات ہوتے ہیں. رمضان المبارک ہو تو اس کے فضائل و مسائل کا بیان، ربیع الاول ہو تو حضور علیہ السلام کی سیرت طیبہ کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو، اور محرم الحرام ہو تو واقعہ کربلا اور شہادت حسین (رضی اللہ تعالی عنہ) کا ذکر کیا جاتا ہے، علی ھذا القیاس. یہ ایک مستحسن امر ہے، اس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے کیونکہ ائمہ کے فرض منصبی کا تقاضہ ہے کہ وہ اپنے متعلقین کی دینی ضروریات پوری کریں، لیکن بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی، اصل بات ہے خطبہ جمعہ کے موقع پر گفتگو کرنے کے لیے مواد کی تیاری کی.

مواد کی تیاری کے لیے عموما قرآن و حدیث سے استفادہ کے بجائے کسی نامور خطیب کے مجموعہ خطبات کو دیکھا جاتا ہے، اس کو رٹہ لگایا جاتا ہے، اور پھر منبر پر آ کر طوطے کی طرح اس رٹے رٹائے کو سنا دیا جاتا ہے، اس رٹی رٹائی نقل میں اصل کا جوش و جذبہ بھی جھلک رہا ہوتا ہے، مگر اس طرح رٹہ سسٹم میں بیان کرنے والے کے اپنے کوئی خیالات ہوتے ہیں نہ کوئی سوچ و فکر ہوتی ہے، جو کچھ ہوتا ہے ان مجموعہ خطبات کا کمال ہوتا ہے. اگر اس میں فرقہ واریت کی بات ہے تب بھی ٹھیک ہے، مسلکی تعصب کی بات ہے تب بھی اسے اس بات سے کوئی غرض نہیں ہے، اسے تو بس اپنا جمعہ نمٹانا ہوتا ہے اور وہ رٹہ لگا کر نمٹا دیتا ہے. یہ امر اگر قابل مذمت نہیں تو قابل اصلاح تو ضرور ہے. جمعہ کے خطاب کی تیاری کا درست طریقہ یہ ہے کہ براہ راست قرآن کریم اور احادیث مبارکہ سے استفادہ کیا جائے. اس کے نتیجہ میں چند فوائد حاصل ہوں گے جس سے جمعہ کے بیان کا مقصد حاصل ہو جائے گا.

(1) قرآن وحدیث سے براہ راست استفادہ کرنے کی صورت میں قرآن کریم کی آیت مبارکہ کو سمجھنے کے لیے مختلف تفاسیر کی طرف مراجعت کی ضرورت ہوگی جس سے صلاحیت و استعداد بڑھے گی اور علم میں نکھار پیدا ہوگا.
(2) قرآن و حدیث کی تعلیمات میں تنوع ہے، براہ راست مطالعہ سے موضوعات میں بھی تنوع آجائےگا جس سے ان امور پر بھی بات ہو جائے گی جن پر عموما نہیں ہوتی.
(3) قرآن و احادیث مبارکہ کا براہ راست مطالعہ قلب و نظر پر اثر انداز ہوگا، روح کی پاکیزگی کا نور نصیب ہوگا جو شاہراہ حیات کے مسافروں کے لیے قندیل ایمانی کا کام دے گا، سامعین مجلس سے روحانیت لے کر اٹھیں گے.
(4) سامعین مطمئن ہوں گے کہ روحانی غذا مسجد کے امام صاحب سے مل جاتی ہے، ہمیں کسی کو دور بلانے کی ضرورت نہیں ہے، یوں وہ لوگ جو دین کے نام پر اپنا چورن بیچ رہے ہیں، عوام کی ان سے جان چھوٹ جائے گی.

اگرچہ یہ کام محنت طلب ہے لیکن اس کے ثمرات سے پوری قوم مستفید ہوگی اور جن کو یہ کام مشکل لگتا ہے، ان سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ یہ جگہ کسی اور کے لیے خالی کر دیں. کیا معلوم کوئی صاحب دل آجائے جس کی شبانہ روز محنت سے منبر و محراب بازیاب ہو جائیں اور ایک اچھا مسلم معاشرہ وجود میں آجائے.

ویب ڈیسک

web.desk

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam