پردہ - نایاب گل

اسلام حیا، شرم، غیرت و حمیت والا دین ہے۔ اس نے انسان کو اونچا مقام دیا۔ اسلام ہرگز یہ گوارا نہیں کرتا کہ انسانوں میں حیوانیت آجائے اور وہ چوپایوں کی طرح زندگی گزاریں۔ جو قومیں نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کی ہدایت سے محروم ہیں، حیا اور شرم سے خالی ہیں۔ انسان کا نفس شرم و حیا کی پابندی سے بچتا ہے۔ اس لیے جو دین حق کے پابند نہیں ہوتے، شرم و حیا سے بھی آزاد ہوتے ہیں۔

مردوں اور عورتوں کے اندر جو ایک دوسرے کی طرف مائل ہونے کا فطری تقاضا ہے، شریعت نے ان کی حدود مقرر فرما دی ہیں۔ انسان کو شتر بے مہار کی طرح نہیں چھوڑا کہ جو چاہے کھائے پیے، جہاں چاہے نظر ڈالے اور جس سے چاہے لذت حاصل کرے۔

عورتوں کو ہدایت دی جہاں تک ممکن ہو گھر کے اندر رہیں۔ آج کل لڑکیوں کو کالج یونیورسٹی میں اعلٰی تعلیم کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ اکثر بچیاں پردہ کے اہتمام کیے بغیر گھر سے نکلتی ہیں، پھر رہی سہی کسر مخلوط تعلیم نے پوری کر دی۔ ایک ہی کلاس میں لڑکے لڑکیاں بے پردہ بیٹھتے ہیں اور عجیب بات یہ کہ اسلامیات کی ڈگری لینے والے عین تعلیم کے وقت اسلامی احکام کو پامال کرتے جاتے ہیں۔

سب سے بڑی چیز جو ایک مرد کو عورت کی طرف یا عورت کو مرد کی طرف مائل کرنے والی ہے، وہ نظر ہے، قرآن مجید میں دونوں فریق حکم دیا کہ اپنی نظریں پست رکھیں۔ پردے کے مخالفین دیدہ و دانستہ یا نادانستہ طور پر ان آیات کے مفہوم جاننے سے گریز کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ نظریں نیچی رکھنے کا حکم اس لیے تو نہیں کہ درخت اور پتھروں یا دیواروں کو دیکھنا منع ہے، بلکہ یہ حکم اسی لیے دیا کہ نامحرم کی طرف غلط نگاہ نہ جائے۔

یہ بھی پڑھیں:   ذاتی معاملہ - ڈاکٹر عزیزہ انجم

بہت سے لوگ اپنے آپ کو دیندار مانتے ہیں لیکن ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ پردے کے سخت احکام مولویوں نے ایجاد کیے ہیں. یہ لوگ ملحدین اور بد دین لوگوں کی باتوں سے متاثر ہیں۔ جن لوگوں کے دل میں تھوڑا بہت اسلام سے تعلق باقی ہے، ان کو راہ حق سے ہٹانے کے لیے شیطان کی نئی چال ہے کہ ہر ایسا حکم جس کے ماننے سے نفس گریز کرتا ہو، مولوی کا تراشیدہ بتا دیتا ہے۔ اور اپنے آپ کو تسلی دی جاتی ہے کہ ہم نے اسلام کو جھٹلایا نہ قرآن کو ماننے سے پہلو تہی کی، بلکہ مولوی کے غلط مسئلے سے انکار کیا۔

علمائے حق اپنی طرف سے کسی بھی حکم کو تجویز کر کے امت کے سر نہیں منڈھتے، نہ وہ ایسا کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ اسکولوں اور کالجوں کے پڑھے ہوئے نیم ملا چونکہ شریعت کا پورا علم نہیں رکھتے، اسی لیے حقائق شرعیہ اور متفق علیہ مسائل دینیہ کو مولوی کی ایجاد کہہ کر ٹال دیتے ہیں۔

عورت صنف نازک تو ہے ہی، جذباتی بھی ہے۔ اس کو بہکایا جائے کہ پردہ ترقی کی آڑ اور ملا کی ایجاد ہے، تو نادانی سے اس بات کو باور کرلیتی ہے۔ جلسوں، پارکوں، بازار اور تفریح گاہ میں پردہ شکن ہو کر مردوں کے سامنے گھومتی پھرتی ہے، اور عفت و عصمت کو داغدار کرنے والے عمل کو ترقی سمجھتی ہے۔

ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ : پہلی نظر کے بعد دوسری نظر مت ڈالے رکھو۔ کیونکہ پہلی نظر سے تمہیں گناہ نہیں ہوگا اور دوسری نظر تمہارے لیے حلال نہیں. (بحوالہ کتاب الحجاب مشکوۃ)

بے پردگی میں بد نظری کے بہت سے مظاہرے ہوتے ہیں۔ مرد عورت سب اس کا ارتکاب کرتے نظر آتے ہیں۔ پردہ ہوگا تو نظریں محفوظ ہوں گی کیونکہ بری نظر بھی زنا ہے۔
اللہ پاک ہم سب بہنوں کو پردے کی توفیق دے اور دین کے صحیح تقاضوں کو سمجھنے والا بنائے۔ آمین

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!