اچھی ساس کے چند اجزائے ترکیبی – فرح رضوان

مانا کہ کئی بار ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک خاتون اپنے نجی حالات کی تپش میں پہلے ہی سلگ رہی ہوتی ہیں کہ زندگی کے اگلے باب میں بہو یا داماد اپنی ساس کے لیے مزید دوآتشہ ثابت ہوتے، داخل ہو جاتے ہیں. وجہ الف سے ے تک کچھ بھی ہو لیکن اس موڑ پرجہاں کوئی سننے سمجھنے کو تیار ہی نہ ہو، تمام تر کوتاہیوں سمیت نڈر بے باک،گستاخ بھی ہو توکیا کیا جائے؟

1- سب سے پہلے یہ دیکھیں کہ صورتحال ہے کس حد تک سنگین؟ کیونکہ یہ بھی ہمارے ہی معاشرے کا ایک سیاہ رخ ہے کہ فون یا انٹرنیٹ کی خفیہ دوستیوں کے بعد شادی کی صورت میں بعض اوقات اتنے بھیانک نتائج تک سامنے آئے، کہ معلوم ہوا، گھر آنے والی بہو اور اس کے میکے والوں کی پشت پر انتہائی خطرناک لوگ موجود ہیں، تو وہی لڑکی، جس پر کل تک محبت کے نشے میں مد ہوش لڑکا جان وارنے کو تلا بیٹھا تھا، آج ہوش ٹھکانے لگنے پر اس لڑکی سے اس کا جان چھڑانا قریباً ناممکن ہی ہو چلا ہے، کہ اپنی زندگی اور گھر میں موجود بہنیں آخر کسے پیاری نہیں ہو تیں؟ اس صورتحال میں تو سوائے صبر، استغفار اور توبہ کے کوئی چارہ رہ ہی نہیں جاتا.
[البتہ یہاں اِستغفار جس کا روٹ ورڈ غ ف ر ، ہے یاد رکھنا کافی کارآمد ہو سکتا ہے. غفر = کسی چیز پر کسی ایسی چیز کا (مضبوط حفاظتی خول) پہنا دینا جو، اسے میل کچیل یا کسی بھی دوسری مضرت سے محفوظ رکھے. یعنی اللہ تعالی کا اپنے بندوں کو ان کے گناہوں کی عقوبت سے بچانا]

2- کیونکہ اختیار کی کنجی آپ کے عمل کی محتاج ہے تو دوسری صورت یہ بھی ممکن ہے، جو کہ معاشرے کا عام چلن ہے، یعنی آپ کی حد درجے شرافت کے سبب آپ جیسے کو تیسا نہ بھی جواب دیں، لیکن ! بس کیا بتاؤں بہن! تم کسی سے نہ کہنا، کے بعد سارے جہان کو سب ہی کچھ کہہ ڈالنا، جس پر لوگوں کا خوب کان لگا کر سننا اور آپ کے دکھ کو اس قدر محسوس کرنا اور کروانا کہ پھر آپ کے مسلسل سیلف پٹی کی دلدل میں دھنستے چلے جانے کے سبب، غم جاناں کا شکار ہو کر بیماریوں میں مبتلا ہونا اور ہوتے ہوتے غم دوراں کی نظر ہو کر رہ جانا. اگر اس حکمت عملی کا نتیجہ دیکھیں کہ کیا کھویا کیا پایا؟ تو یہ سراسر حکمت سے عاری عمل ہی نظر آتا ہے، کیونکہ داماد یا بہو؛ یا کسی کی بھی غیبت کر کر کے، محنت سے کی گئی ڈھیروں نیکیاں اور ساتھ، صحت ہزار نعمت، سبھی کچھ صرف گنوا ہی ڈالا جاتا ہے. ساتھ ہی انمول، نایاب اور قیمتی وقت بھی ضائع ہو جاتا ہے، جس میں نہ جانے کتنے ہی مثبت کام ہو سکتے تھے؛ جن کا اجر نہ جانے کیا مل جانا تھا.

3- تیسرا راستہ بظاہر آسان اور پرسکون لیکن حقیقت میں بہت بڑی آزمائش اور سراسر آخرت کے گھاٹے پر مبنی سودا ہے، یعنی کثرت سے بےسند وظائف؛ عاملوں کے عمل؛ درگاہوں پر شرک؛ غیراللہ کی نذر و نیاز اور مَنّتیں مان کر اپنی مشکلات کا حل تلاش کرنا۔ عین ممکن ہے کہ اسلام کے نام پر یہ غیر اسلامی کام کسی انسان کو وقتی یا نفسیاتی طور پر کارآمد لگیں، لیکن اصلاً اور دائماً یہ محض ناکامی و نامرادی خرید لینا ہے۔

4- راستہ ”اختیاری“ صبر کا ہے، یعنی آپ کو پہلی صورتحال کی مانند کسی سے بھی، جان و مال یا اہل و عیال کی عزت کا خطرہ نہیں، لیکن آپ دوسری اور تیسری صورت کی طرح سراسر گھاٹے کے سودے سے محفوظ رہنے کا ارادہ کر چکی ہیں، تو یہ طریقہ جاننے کے لیے؛ اون کے سیلف کلیننگ سسٹم کو غور سے دیکھیے!
لیکن ایک منٹ پلیز! از راہ کرم اس تمام تر پراسیس، کو جان لینے سے قبل اس کا پاسورڈ جاننا بھی تو اہم ہے نا، اور وہ ہے ”صحت مند طرز زندگی“.
جس کے فقط تین عناصر ہیں؛

اول نمبر پر نماز، کون سی؟ اچھی والی، جسے بس پڑھ ہی نہ لیا جائے بلکہ ”قائم کیا جائے“.

دوسرا ہے صبر، کون سا والا؟ صبرٌ جمیلٌ. صبر جمیل کے الفاظ کے ساتھ ہی یعقوب علیہ السلام کا قصہ یاد آجاتا ہے اور ذہن سوچنے پر مجبور کہ، اس قدر عالی مرتبہ نبی تھے، اور بیٹے کی جدائی کےدوران آپ نے کتنی اخلاص سے بھرپور دعائیں کی ہوں گی! رقت و زاری کا وہ عالم کہ اس وجہ سے بینائی جاتی رہی، لیکن (ہمیں) اللہ کی حکمت کے سبب بظاہر طویل عرصے تک قبولیت دعا دکھائی نہیں دیتی، مگر یعقوب علیہ السلام کے صبر جمیل کا عالم، سبحان اللہ! باقی تمام بیٹوں کے انتہائی منفی رویے پر بھی وہی، اور جب دوسرا پیارا بیٹا واپس نہیں لوٹا تب بھی وہی. لگتا یوں ہے کہ اب اگر چہیتے بیٹےسےملاقات ہوگئی تو بھی اُنہیں اور اُن کو ملنے والی سلطنت و تکریم کو اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ پائیں گے۔ لیکن اسی قصے کے اختتام پر جہاں یعقوب علیہ السلام اپنی آنکھوں سے تمام دنیاوی نعمتوں کو اپنے گرد یکجا دیکھتے ہیں، ہم سیکھتے ہیں، آزمائش میں ثابت قدمی کی بنا پر دونوں جہانوں میں اجر عظیم پر بڑھتا پھلتا پھولتا یقین کامل.

تیسرا عنصر ہے، مثبت مصروفیت کتنی مصروفیت؟ کم از کم اتنی تو ضرور، کہ پھرآپ کو کسی بھی شخص کے برے رویے پر کڑھتے رہنے کا وقت ہی نہ مل سکے.

تو آ ئیے اب دیکھتے ہیں، اون کے سیلف کلیننگ سسٹم کو؛ کہ پہلے تو ہم بے دردی سے اس بے زبان اون کو استعمال کر کے، اس کے ساتھ کافی برا سلوک کر ہی رہے ہوتے ہیں، اور اوپر سے سیلف کلیننگ کا بٹن بھی آن کر دیتے ہیں، تب اون کا ردعمل کیا ہوتا ہے بھلا؟
وہ سب سے پہلے اپنا ”دروازہ لاک“ کر لیتا ہے، کہ اب اندر خانے جو بھی کیمیکل، جتنی بھی تپش، گھیراؤ جلاؤ کی مہم ہے، وہ مکمل صفائی ہونے تک، بس اندر ہی اندر چلے گی، کسی بھی باہر والے کو اندرونی معاملات میں مداخلت کی بالکل بھی اجازت نہیں. اور باہربھی، جن افراد خانہ کو خبر نہیں ہوتی کہ آپ نے سیلف کلیننگ پراسیس شروع کیا ہوا ہے، وہ صرف بو سے اندازے ہی لگا پاتے ہیں کہ یا تو کچھ پک رہا ہے یا پھر جل رہا ہے، لیکن ”ڈور لاک ہی رہتا ہے“ اور باہر والے اٹکل پچو لگا کر یا اون کا بند دروازہ دیکھ کر اپنی راہ لیتے ہیں کہ ”وہ کیوں پرائی آگ میں جلیں“، کیا یہ کام زندگی بھر چلتا ہے؟ نہیں نا!
بس ذرا سی دیر میں اون پھر سے اجلا؛ بلکہ نیا ہی ہو جاتا ہے۔ لیکن ”دروازہ اب بھی نہیں کھولتا“، تاوقتیکہ اندرونی معاملہ، ٹھنڈا نہ ہو جائے، اور پھر کیا کرتا ہے اون؟ جب آپ دوبارہ بیکنگ کریں تو کوئی طعنہ؟ کہ پچھلی بار تم نے یہ غلطی کی تو میرا حشر ہو گیا تھا، نہیں نا! یہ بات تو آپ کو قدرتی طور پر ہی یاد آجاتی ہے اور آپ از خود احتیاط سے کام لیتی ہیں.

دراصل اس سارے عمل میں اہم ترین کام، معاملہ ٹھنڈا اور اجلا ہونے تک ”دروازے کا آٹو لاک“ ہونا ہے. ورنہ سوچیں ذرا کہ کس قدر زیادہ خرابی، اور ایمرجنسی کے امکانات موجود ہوتے ہیں اس عمل میں؟ ساتھ میں اتنا ہی اہم اس دروازے کے شیشے کا مضبوط و پائیدار ہونا بھی ہے. عجیب بات ہے نا! کہ ہم جانتے تو ہیں کہ اللہ تعالی کو قوی مؤمن پسند ہے، لیکن اکثر اس سے مراد جسمانی قوت لی جاتی ہے، حالانکہ جب ہم یہ سمجھتے ہیں کہ زیادہ طاقتور پہلوان کون سا ہوتا ہے، تو یہ بھی ذہن نشین رکھنا اہم ہے کہ ایمان کی مضبوطی اور جسم کی توانائی کے ساتھ ہی ہمارے اعصاب، ارادوں اور استقامت کا قوی ہونا بھی بہت ضروری ہے.

غور طلب بات ہے کہ ایک فیکٹری تو یہ جانے کہ اتنے درجہ حرارت کے بغیر اون کی صفائی ممکن ہی نہیں تو اسی حساب سے وہ اس کے لیے پارٹس اور ٹیمپرڈ گلاس تیار اور نصب کرے۔ اور ہمارا رب؟ ”کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا حالانکہ وہ باریک بین ہے اور باخبر“۔ اصل میں تو بس ہمیں بار بار خود کو خبردار کرنے اور یاد دلانےکی ضرورت ہے کہ رب تعالی کسی نفس کو اس کی وسعت سے بڑھ کر نہیں آزماتا. اور دوسرا ”اگر تم صبر کرو اور خدا کا تقوی اختیار کرو تو ان کی کوئی تدبیر تم کو نقصان نہ پہنچائے گی، جو کُچھ وہ کر رہے ہیں خدا اس کا احاطہ کیے ہوئے ہے.“ ( آل عمران :120)

فطری سی بات ہے کہ، جب کبھی بھی کسی انسان کے حالات خراب ہوں تو پُر خلوص احباب کو خدشات لاحق ہو ہی جاتے ہیں، کہ معامله کچھ گڑبڑ ہے. کچھ پک رہا ہے یا پھر جل رہا ہے، اور آپ نے جو دوسروں کے لیے اس معاملے میں ”door locked“ کا رویہ اپنایا ہوا ہے، انہیں شدید خدشہ رہتا ہے کہ کہیں آپ اندر ہی اندر گھٹ گھٹ کر نہ ختم ہو جائیں.

لیکن یقین رکھیں کہ آپ کا مشکل کشا، آپ کا اصل رہبر، راہنما، لمحہ لمحہ، قدم قدم پر مکمل ساتھ دینے والا، پیار سے ہاتھ تھام کر منزل تک پہنچانے والا صرف وہی رب واحد ہے، جس سے ہم دن رات اھدنا الصراط المستقیم مانگتے ہیں. باقی انسان خواہ کتنے ہی پُرخلوص ہوں، ان کی رہنمائی ان کا ہر دم کا ساتھ بھی آپ کے لیے کار میں نصب شدہ GPS سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا، جو راستوں کے روٹس تو بخوبی جانتا ہے، لیکن اسے ان راستوں پر لگے بند پھاٹک، ٹریفک جام، راہگیر یا گڑھے میں سےکسی چیز کا بھی نہ تو کوئی علم ہوتا ہے، نہ ہی اس سے کوئی سروکار، اور کیونکہ آپ ڈرائیور ہوتے ہیں تو آپ کی نظروں کے عین سامنے تمام تر رکاوٹیں اور ان سے تصادم کے خطرات اور سنگین نتائج کا خوف، سبھی کچھ موجود ہوتا ہے. آپ اپنی ذمہ داری کو بجا طورپر سمجھتے اور نبھاتے ہوئے حالات کے پیش نظر لمبا رستہ یا یوٹرن لینے لگیں مگر GPS کی رٹ ہوتی ہے کہ، آگے بڑھو. ساتھ ہی آپ کو کسی مطلوبہ بلڈنگ کے گرد حفاظتی باڑھ نظر آرہی ہوتی ہے، جبکہ یہ فینس آپ کے رہنما GPS کو دکھائی نہیں دیتی، یوں آپ کو منزل پر داخلے کا رستہ ملے یا نہ ملے ”رہنما“ کی طرف سے اعلان ہو جاتا ہے کہ آپ منزل تک پہنچ چکے. روٹ گائیڈنس ختم شد … آہ ! یہ کیسی رہبری ہے اور رہنما کا کیسا انتخاب؟

مانا کہ حالات بے حد صبر آزما ہیں، تو کیا صبر پر جنت کی بشارت نہیں؟ اور عین ممکن ہے کہ آپ ہی کی جنتُ الفردوسُ الاعلی کی بار بار کی دعا کی قبولیت کے نتیجے میں یہ حالات پیدا ہوئے ہوں، تاکہ آپ کے درجات بلند ہو سکیں!

آپ کی اس ”door locked“ پالیسی کے تحت اصل میں سب سے پہلا دروازہ جو بند ہوتا ہے وہ ہے غیبت کا. آپ جوں ہی غیبت کا در بند کرتے ہیں، آپ کے اندر دوسرے کی عیب جوئی اور خوئی دونوں ہی عادات سے نمٹنے کا مدافعتی سسٹم از خود کام کرنا شروع کر دیتا ہے. جی ہاں! بالکل اندر ہی اندر اکثر دل خوب جلتا بھی ہے، الفاظ کا لاوا پکتا بھی ہے، لیکن! زبان کے ”قوی“ بند دروازے سے باہر کوئی طوفان نہیں مچاتا. اور یاد ہے نا ! پاسورڈ کے تین عناصر! مثبت مصروفیت؛ آپ کے پاس تومنفی رویوں پر کڑھنے اور منفی رد عمل کا وقت ہی کہاں بچتا ہے اب. اور نماز ”قائم“ ؛صبرٌ جمیلٌ؛ تو اس کے نتیجے میں جو زبان اب شکر اور ذکر کی عادی ہو رہی ہو، اسے برا بول نہ تو زیب دیتا ہے نہ اس کی عادت ہی رہ جاتی ہے. توبس اب اندر ہی اندر اس جلتے کڑھتے، سلگتے دل کی سیلف کلیننگ (تزکیہ نفس) کا کام شروع ہو جاتا ہے، انسان کا دل ایک صاف شفاف برتن کی مانند نکھر کر چمک اٹھتا ہے. غصے، نفرت، غم، خوف، حزن، ملال، بغض یا بدلہ لینے والےجراثیم کا خاتمہ از خود شروع ہو جاتا ہے. خود احتسابی کا دفتر وجود پا جاتا ہے. خود اعتمادی کا اجالا پھوٹ پڑتا ہے. خودی کے بلند ہونے کا عمل شروع ہوجاتا ہے. خدا کے خود آپ کی رضا پوچھنے کی امل کا ظہور ہو جاتاہے.

فرح رضوان

فرح رضوان کینیڈا میں مقیم ہیں۔ خالق کی رضا کی خاطر اس کی مخلوق سے لگاؤ کے سبب کینیڈا سے شائع ہونے والے ماہنامے میں قریباً دس برس قبل عائلی مسائل پرلکھنا شروع کیا تھا، اللہ کے فضل و کرم سے سلسلہ جاری ہے۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam