دینی مدارس کا مقام اور ذمہ داریاں - میاں عتیق الرحمن

مدارس دینیہ کی ہمارے معاشرے میں کیا حیثیت اور مقام ہے ،یہ ایک ایسا سوال ہے جسے سمجھنا علوم نبوت کے ہر ایک طالب علم کی ذمہ داری اور پڑھانا ان کے اساتذہ کیلئے ضروری ہے۔

مدرسہ کو پڑھنے پڑھانے کےایک کارخانے کی حد تک سمجھ لینا اور اسی کے مطابق اسے چلانا نا انصافی ،یا اسے صرف پڑھنے لکھنے کا ہنر سکھانے کا ایک مرکز سمجھ کر جان چھڑا لینا بھی ظلم عظیم سے کم نہ ہے۔اگر کوئی شخص مدارس دینیہ کو صرف اسی حد تک حق دیتاہے کہ جیسے پڑھے لکھنے کا ہنر سکھانے کیلئے بہت سے کارخانے اور کھبمبیوں کی طرح اگے ہوئے مراکزا ورادارے ہیں ،جن میں سے کچھ کو سکول اور کوئی کالج اور کسی کو یونیورسٹی کا نام دیا جاتا ہے، بالکل ویسے ہی یہ مدارس دینیہ بھی عربی زبان یا عربی علوم وفنون ،فقہ، دینیات ،تفسیرا ورحدیث سکھانے کا ایک مرکز یا کارخانہ ہے تو اس کیلئے عرض ہے اگرچہ ایسی صورت حال میں کچھ مشابہت لگتی ہے مگر وہ پھر بھی حقیقت سے دور اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں ہی مار رہا ہے کیونکہ بہر حال اور بالاخر رسولوں کے وارث ،خلافت الہٰی کے نمائندے ، انسانیت کو ہدایت کا پیغام دینے والے اور انسانیت کو بقا کا راستہ دکھانے والے افراد انہی مدارس سے پیدا ہوئے ہیں۔

لیکن مدارس دینیہ کو بھی اگر واقعتا ایک کارخانہ ہی سمجھ لیا جائے تو ہر طرح کے کارخانوں کی بہر حال بہت قدربھی ہے اور اہمیت بھی اور اس سے بڑھ کرمعاشرے کو سخت ضرورت بھی ہے،انہیں نظر تحقیر سے دیکھنے والے بھی ان کی شدید خواہش رکھتے ہیں ، لیکن ان کارخانوں میں تیار ہونے والی پراڈکٹس کے معیار اور سطحیں مختلف ہوتی ہیں ، جبکہ دینی مدرسہ ایک ایسا کارخانہ ہے،جہاں آدم گری اور مردم سازی کا کام ہوتا ہے اور قلب ونگاہ اور ذہن ودماغ علوم نبوت کے سانچے میں ڈھلتے ہیں ،مزید یہ کہ یہاں سے دین کے داعی اور اسلام کے سپاہی تیار ہوتےہیں اور یہی مدارس عالم اسلام کے وہ بجلی گھر ہیں جہاں سے اسلامی آبادی بلکہ انسانی آبادی میں ہدایت کی بجلی سپلائی ہوتی ہے۔
دینی مدرسہ وہ مقام ہے جہاں سےپوری کائنات کا احتساب ہوتا ہے ،اور پوری انسانی زندگی کی نگرانی کی جاتی ہے اورانہیں درپیش مسائل کے قرآن وسنت اور فقہ وسیرت سے حل تلاش کئے جاتے ہیں اور پھر ان کا فرمان سارے مسلمانوں کے ہاں قابل قبول ہوتا ہے اگرچہ وہ ان کے اپنے خاص طبقے سے ہی تعلق رکھنے والا کیوں نہ ہو۔یہ الگ بات ہے کہ کچھ خوشی سے اور کچھ مجبوری میں اپنے اپنے ظرف کے مطابق قبول کرتے ہیں۔

ایک دینی مدرسے کا تعلق ایسی کسی تقویم ،کسی تمدن، کسی عہد، کسی کلچر اور زبان وادب سے اس طرح نہیں ہوتا کہ جس کے پرانے ہونے کا اندیشہ اور اسکے زوال پذیر ہونے کا خطرہ ہو، کیونکہ اس کا تعلق براہ راست نبوت محمدی ﷺ سے ہوتاہے جو عالمگیر بھی ہے اور زندہ جاوید بھی ۔ اس کا تعلق اس انسانیت سے ہے جو ہر دم جواں اورہمہ وقت رواں اور دواں ہے ،مدرسہ در حقیقت قدیم وجدید کی بحثوں سے بالا تر ایسی جگہ ہے ،جہاں نبوت محمدی کی ابدیت اور زندگی کا نمونہ اور حرکت دونوں پائے جاتے ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ دور حاضر میں مدارس اپنے اس فرائض منصبی کو سمجھ پا رہے ہیں یا نہیں یاکوئی اس ذمہ داری کو نبھا رہا ہے کہ نہیں اور یہ بھی الگ موضوع ہے کہ بہت سے مدارس یہ ذمہ داری نبھانے سے قاصر ہیں یا قاصر ہوگئے ہیں ،۔پہلے یہ فرض انجام دیتے تھے اور اب کیوں نہیں دے رہے ۔ اس پر پھر کسی وقت لکھا جائے گا. ان شاء اللہ۔

یہ بھی پڑھیں:   دینی مدارس کے فضلاء اور عصری علوم کے فتنے، ایک جائزہ - نور ولی شاہ

دینی مدرسہ کا نسب نامہ قرطبہ ،غرناطہ ،قاہرہ یا دہلی ،دیوبند،لکھنؤ،بریلی ،ندوہ اور لکھنو وغیرہ سے نہیں بلکہ مسجد نبویﷺ سے ملتا ہے جہاں سب سے پہلا صفہ نام کا مدرسہ
قائم ہوا تھا اور جس کے بانی نبی کریم ﷺ تھے ۔اسی بنیاد پر وہی مدرسہ صحیح النسب اور عالی مقام سمجھا جائے گا جس کاشجرہ نسب صفہ نبویﷺ پر جا کر ختم ہو گااور وہی مسجد عالی اور اصل سے جڑی ہوئے سمجھی جائے گی جس کا شجرہ نسب بیت اللہ اور مسجد نبوی پر ختم ہو گا۔جن کا نسب وہاں تک نہ پہنچتا ہو وہ مسجد یا مدرسہ کیا کہلائے گا، اس کے بارے میں قرآن مجید نے ہمیں بتلا دیا ہے لہذا ہمیں کوئی اور نام ڈھونڈنے یا نیا لقب ایجاد کرنے کی ضرورت نہیں ۔ وہ مسجد مسجد ضرار کہلائے گی جس کا شجرہ نسب بیت اللہ اور مسجد نبوی پر ختم نہ ہواور وہ مدرسہ مدرسہ نہیں بلکہ انسانیت کی قتل گاہ کہلائے گی جس کا شجرہ نسب صفہ نبوی ،ابو ذر وسلیمان ،صدیق وعلی ،زید اور عائشہ اور ان کے اچھے طریقے سے پیروی کرنے والوں سے نہ ملتا ہو۔جنہوں نے خود نقصان اٹھا کر دوسروں کو نفع پہنچانے کا پیغام دیا ،اپنے گھروں کو اندھیرا رکھ کر دوسروں کے گھروں میں روشنی کا بندوبست کیا ، اپنے پیٹ پر پتھر باندھ کر دوسرے کے بچوں کو کھلانے کا انتظام کیا اور جن کی زندگی نے یہ پیغام ملتا ہے کہ مدرسہ کا کام ملازمتیں دلانا اورآسامیاں بانٹنا نہیں اور نہ ہی ایسا پڑھا لکھا انسان بنانا کہ جو اپنی چرب زبانی سے لوگوں کو مسحور کرلے ، بلکہ مدرسہ کا کام حکمت ودانائی کے قرآن وحدیث کی آواز سنانا اور اسے لوگوں تک پہنچاناہے پھر وہ خواہ اسے مانے یا انکار کریں اس کی ذمہ داری تم پر نہیں فھل علیٰ الرسول الا البلاغ المبین۔

مدرسہ کی ذمہ داری بہت بڑی ہے اگر کوئی سمجھے ،کیونکہ جب دنیا میں ہر حقیقت کا انکار کیا جا رہا ہواور یہ کہا جا رہا ہو سوائے طاقت کے کوئی حقیقت نہیں اور ڈنکے کی چوٹ پر یہ پرچار جاری ہو کہ دنیا میں صرف ایک حقیقت زندہ ہے اور باقی سب حقیقتیں ،اخلاقیات،صداقت ،عزت، غیرت، شرافت ،خودداری اور انسانیت سمیت سب کچھ مر مٹ چکا ہے ، اور باقی بچنے والی حقیقت نفع اٹھانا اور اپنا کام نکالنا ہے خواہ اس کیلئے عزت بیچنی پڑھے یا شرافت کو شرارت سے بدلوانا پڑے یا ضمیر کا سودا کرکے اور اصول خود داری کو لات مار کر صرف چڑھتے سورج کے پجاری بننا پڑے۔

ایسے وقت میں مدرسہ اٹھتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ انسا نیت مری نہیں بلکہ وہ زندہ ہے ،نقصان اٹھانے یا صلح کرنے میں نفع ہے،ہار جانے میں جیت ہے، اور بھوک برداشت کرنے میں وہ لذت ہے جو سیر ہوکر کھانے میں بھی نہیں ،اپنی ذلت کو برداشت کر لینا بعض مرتبہ وہ مقام بنتا ہے جو عزت سے بڑھ کر ہوتا ہے،سب سے بڑی طاقت خدا کی طاقت ہے،اور یہی اعلان کرنا مدرسہ کا کام ہے اور اگر وہ یہی چھوڑ دے اور دنیا کے باقی سارے کام کرنے لگے تو وہ مدرسہ دینیہ مدرسہ کہلانے کا حق دار نہیں بلکہ وہ پھر علم وہنر کے دیگر کارخانوں کی طرح ایک فیکٹری ہے جس میں ویسی ہی عارضی اور مادی پراڈکٹ تیار ہوتی ہے جو باقیوں میں بنتی ہے۔\nمدرسہ دینیہ کا کام یہ ہے کہ وہ باضمیر ، درست عقیدہ، ایمان ،با حوصلہ اور باہمت فضلاء اور علماء پیدا کرے کہ جو اس ضمیر فروشی ،اصول فروشی اور اخلاق فروشی کےدور میں روشنی کے مینار کی طرح قائم رہیں کہ جو خود کہیں نہیں جاتا بلکہ اپنی جگہ کھڑا رہتا ہے اوراپنا راستہ خود بناتا ہے۔اللہ کا شکر ہے کہ ہوا کے رخ پر چلنا دینی مدارس کا اصول نہیں ہے اگر مدرسوں کا بھی یہ اصول ہوتا تو وہ کب کے انگریزی اور عربی کے کالج بن چکے ہوتے لیکن جو اس وقت چند گنے چنے مدارس باقی ہیں ،وہ اس بات کا ثبوت دیتے ہیں کہ مدرسے ہوا کے رخ پر نہیں چلتے بلکہ اپنی اصل اور جڑ سے جڑے رہتے ہیں اور ہوا کے رخ کے محتاج نہیں ۔ورنہ جیسے ہوا کا رخ بدلتا رہتا ہے ویسے ہی یہ بھی بدلتے رہتے اور اپنی حقیقت اور شناخت کھو بیٹھتے۔یہی روش آج بھی کسی نہ کسی صورت میں زندہ اور جاری وساری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   قصہ ایک محسن کا - فضل ہادی حسن

مگر ایک بات پر افسوس ہوتا ہےکہ مدارس دینیہ جو کبھی طاقت اور زندگی کا مرکز تھے ،اور جہاں سے انقلاب آفرین شخصیتیں پیدا ہوتی تھیں،وہ مایوسی ،افسردگی، کسمپرسی اور احساس کمتری کا شکار ہیں۔آج مدارس کی تعداد ،ان کے طلبہ کا شمار ، کتب کی وسعت اور ان کے مندرجات اور وظائف میں تو بڑا اضافہ ہو چکا ہے مگر زندگی کی نبض سست اور قلب کی دھڑکن ان میں کمزور ہوتی جا رہی ہے ،کوئی درد مندی کا احساس رکھنے والا کبھی اس طرف نکل آتا ہے تو اس کا دم گھٹنے لگتا ہےاور اس غار اصحاب کہف کو دیکھ کر کہنے لگتا ہے کہ
خدا تجھے کسی طوفان سے آشنا کردے۔۔
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں
تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ ،کہ تو۔۔
کتاب خواں ہے مگر صاحب کتاب نہیں

لیکن بعض اوقات تو مدارس کے حق میں کسی طوفان سے آشنا ہونے کی دعا کرتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے ،کیونکہ پہلے ہی کئی مدارس حالات کی نزاکتوں کی نظر ہو رہے ہیں جو ستم ظریفی کے طوفان کے تھپیڑوں اورمشکلات کے سمندر کی موجوں کی طرح ہیں اور مدارس کے درودیوار سے ٹکرا ر کر انہیں قصہ پارینہ بنانے کے درپہ ہیں ۔
واللہ المستعان ۔باہر کے ہنگاموں اور سطحی عوامی تحریکات کی صدائے باز گشت بھی مدارس دینیہ کو گہنا رہی ہے۔جس میں ہمارے مدارس کے طلبہ کا مقام آلہ جہیر الصوت اور کردار محض نقال اور استقبال کرنے والوں کا ہے۔اس سے بھی بڑا افسوس ناک منظر اور بڑی دلخراش حقیقت یہ ہے کہ جو تحریکیں اور دعوتیں ،جو ہنگامے اور شور ،جو انتشار واضطراب ،جو تنظیمیں ،اور طریقہ احتجاج آج عصری درس گاہوں اور دنیاوی تعلیم گاہوں میں نا مقبول ہونے کے بعد دوبارہ منظور نظر ہو رہے ہیں اور پیش افتادہ اور کہنہ فرسودہ سمجھے جانے کے بعد دوبارہ انقلاب کی نوید لگنے لگے ہیں اور جیسےوہ علم اور ہدایت کی روشن راہوں میں داخل ہونے کے بعد ترقی ، جدت اور انقلاب کے نام پر دوبارہ جہالت کی گہرے گھڑے گمراہی کی گھٹا ٹوپ وادی میں داخل ہو تے ہوئے لگ رہے ہیں ۔

ان کے اس ماحول کے برے اثرات اور اس کا ملبہ بھی کہیں دینی مدارس پر نہ آگرے اورپہلے سے گردش دوراں کا شکار مدارس مزید کہیں ان کے برے اثرات سے مزید متاثرنہ ہو جائیں۔طلباء مدارس دینیہ کی خدمت میں عرض ہے کہ تقدیر الہٰی نے تمہارے لئے جس دور کا انتخاب کیا ہے اس میں تمہاری ذمہ داریاں بہت زیادہ بڑھی ہوئی ہیں مگر اللہ کے حضور پر امید اور پر اعتماد ہوں کہ اس کی سرفرازیاں اور انعام وکرام بھی بہت بڑھ اور چڑھ کر ہوگا۔ذمہ داریوں سے گریز اور گردش زمانہ کی شکایت ذمہ داریوں سے عہدہ برآ نہیں کرتی بلکہ ذمہ داری کی ادائیگی کیلئے تگ ودو اور انتھک کوششیں مانگتی ہے جس کیلئے الہ تعالیٰ سے دعا گو ہونا چاہیئے کہ وہ ہمیں اس کی ہمت اور توفیق نصیب فرمائے اور ہم سب کو اپنے دین کی خدمت کیلئے قبول منظور فرمائے۔آمین

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!