قرآن ِحکیم کے ریاضیاتی اعجازات - نعیم الرحمان شائق

قرآن ِ مجید اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے ، جو آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی۔ چوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، لہٰذا اس جیسا کلام لانا مشکل ہی نہیں، ناممکن ہے۔
سورۃ الاسراء کی آیت نمبر 88 میں ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے:
”کہہ دو! اگر سب آدمی اور سب جن مل کر بھی ایسا قرآن لانا چاہیں تو ایسا نہیں لا سکتے اگرچہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کا مددگار کیوں نہ ہو۔“
سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 23 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”اور اگر تمہیں اس چیز میں شک ہے جو ہم نے اپنے بندے پر نازل کی ہے تو ایک سورت اس جیسی لے آؤ، اور اللہ کے سوا جس قدر تمہارے حمایتی ہوں بلا لو اگر تم سچے ہو۔“

یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ سورۃ الاسراء مکی سورت ہے ، جبکہ سورۃ البقرہ مدنی سورت ہے۔ یعنی پہلے کہا گیا کہ قرآن ِ حکیم جیسا دوسرا کلام لانا نا ممکن ہے۔ پھر کہا گیا کہ پورا کلام لانا تو درکنار ، اس جیسی ایک سورت لانا بھی ناممکن ہے۔

قرآن ِ حکیم جیسا کلام لانا کیوں ناممکن ہے؟
اس کی بہت سی وجوہات ہیں ۔ لیکن ایک عجیب وجہ یہ بھی ہے کہ آج کل کے اس سائنسی دور میں یہ معلوم بھی ہوگیا ہے کہ قرآن ِ حکیم میں بہت سے ریاضیاتی اعجازات بھی ہیں۔ آج ہم انھی ریاضیاتی اعجازات میں سے چند کا ذکر کریں گے۔

قرآن مجید میں
لفظ ”رجل“ یعنی مرد 24 مر تبہ آیا ہے اسی طرح ”امراۃ“ یعنی عورت بھی 24 مرتبہ آیا ہے۔
لفظ ”شیطان“ 68 دفعہ آیا ہے، اسی طرح لفظ ”ملائکہ“ بھی 68 مرتبہ آیا ہے۔
لفظ ”دنیا“ 115 مرتبہ آیا ہے، اسی طرح لفظ ”آخرۃ“ بھی 115 مرتبہ آیا ہے۔
لفظ ”ایمان“ 25 مرتبہ آیا ہے۔ اسی طرح لفظ ”کفر“ بھی 25 مرتبہ آیا ہے۔
یہ تو ہوگئیں، متضاد الفاظ کی مطابقتیں۔

یہ بھی پڑھیں:   انسان کی ترقی اور سعیِ کائنات کا راستہ - عبداللہ ابنِ علی

اب کچھ اور مطابقتیں ملحوظ ہوں۔
سال میں 12 مہینے ہوتے ہیں، قرآن حکیم میں لفظ ”شہر“ یعنی مہینہ 12 مرتبہ آیا ہے۔
سال میں 365 دن ہوتے ہیں، قرآن حکیم میں لفظ ”یوم“ یعنی دن 365 مرتبہ آیا ہے۔
مسلمان پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہیں، قرآن مجید میں لفظ ”صلوات“ پانچ مرتبہ آیا ہے۔

اب آگے چلتے ہیں۔
قرآن ِحکیم کی 97 سورت، سورۃ الحدید ہے۔ اس سورۃ میں 29 آیات ہیں۔ اگر ہم 57 کو 29 سے ضرب دیں تو 1653 آتا ہے۔ یعنی: 57x29=1653
اگر ہم 1 سے 57 تک اعداد لکھیں، اور ان کے درمیان جمع کے نشانات لگائیں تو 1653 آجاتا ہے۔ یعنی :1+2+3+4..57=16539۔

سورۃ التوبہ قرآن ِحکیم کی نویں سورت ہے۔ اس کی ابتدا میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نہیں ہے۔ لیکن جب ہم سورۃ النمل، جو کہ قرآن ِ حکیم کی 27 ویں سورۃ ہے، پڑھتے ہیں تو ہمیں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سورت کے اندر نظر آجاتا ہے۔ 27 اور 9 کے درمیان 18 کا فرق ہے۔ یعنی:27-9= 189 اور 27 کے درمیان 19 سورتیں ہیں۔ (اگر 27 ویں سورت کو شامل کیا جائے۔) 18 اور 19 کے درمیان بڑا دلچسپ تعلق ہے ۔ ملحوظ ہو:18x19=3429+10+11.....+27=34210۔ دوسرا دلچسپ تعلق یہ ہے کہ اس سورۃ کی آیت نمبر 18 میں نمل یعنی چیونٹی کا ذکر ہے۔ اور یہ آیت 19 الفاظ پر مشتمل ہے۔ سورۃ النمل قرآن ِ حکیم کی 27 ویں سورۃ ہے۔ اس سورۃ میں 93 آیات ہیں۔ یہ سورت طس سے شروع ہوتی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس سورت میں 27 مرتبہ ط آیا ہے، جبکہ 93 مرتبہ س آیا ہے۔ اگر 93 اور 27 کو جمع کیا جائے تو 120 آتا ہے جو کہ سورۃ کے نام یعنی نمل کے اعداد ہیں۔

قرآن حکیم کی 13 ویں سورۃ، سورۃ الرعد ہے۔ حیرت انگیز طور پر اس سورت کا نام، آیت نمبر 13 میں آیا ہے۔ اس سے بھی بڑی حیرت ناک بات یہ ہے کہ یہ سورۃ ، تیرھویں پارے میں ہے ۔اس سورۃ کی تیرھویں آیت ، جس میں اس سورۃ کا نام یعنی رعد آیا ہے، 19 الفاظ اور 83 حروف پر مشتمل ہے۔ قرآن ِ حکیم میں رعد یعنی اس سورت کا نام ایک اور مقام پر بھی آیا ہے، سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر 19 میں۔ حیرت انگیز طور پر اس آیت میں بھی 19 الفاظ ہیں اور 93 حروف ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   قرآنی حقائق اورجدید سائنس - پروفیسر جمیل چودھری

یہ توچند ریاضیاتی اعجازات ہیں۔ اس کے علاوہ ماہرین نے اور بھی اس طرح کی بہت سی حیرت ناک ریاضیاتی مطابقتیں تحریر کی ہیں۔ یعنی سائنس جتنی روشن ہوتی جارہی ہے ، قرآن ِحکیم کی حقانیت و صداقت بھی اس طرح روشن ہوتی جا رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس مقدس کتاب کی تعلیمات سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔(آمین)

نوٹ: میں اس حقیقت کا اعتراف کرتا ہوں، اس مضمون میں تحریر شدہ ریاضیاتی اعجازات کے سلسلے میں میری ذاتی ریسرچ کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ اس میں انٹرنیٹ سے استفادہ کیا گیا ہے.