مفہوم محبت – میاں جمشید

شام کا وقت تھا اور نیا شادی شدہ جوڑا، ٹیرس میں بیٹھے، کافی پیتے، باہر ہوتی ہلکی بارش سے لطف اندوز ہو رہا تھا. آخر کار شوہر نے بیوی کی ضد کے آگے ہار مانتے ہوئے اپنے اندر کا حال بتانا شروع کیا.

پتا ہے کیا؟ دراصل گزری زندگی میں مجھے بہت لگاؤ ہوئے، مختلف لڑکیوں سے اور پھر ہر کسی سے ایک ہی طرح کی باتیں کیں ہمیشہ. ہر لڑکی کو بہت سراہا، اس کا پہننا، سجنا سنوارنا، ہسنا، چلنا، اٹھنا بیٹھنا مطلب کہ ہر ہر بات و ادا کی تعریف کی. کبھی کسی سے دل لگا تو کبھی کوئی دل سے اتر گئی.. ایسا ہی چلتا رہا بس.. اور اب تم میری زندگی میں گھر والوں کی پسند سے میری بیوی بن کر آئی.. یہ تم کہتی ہو نا کہ میں خاموش کیوں رہتا…. میں باتیں کیوں نہیں کرتا تم سے… تو، باتیں تو بہت ہیں مگر اب بے حس و بے اثر لگتی ہیں مجھے، تبھی نہیں کر پاتا تم سے .. تمہاری خوبصورتی ، باتیں ، سجنا و سنوارنا مرے دل میں کوئی کفیت نہیں جگاتا .. کہ یہ سب اب میرے لیے معنی نہیں رکھتا.. میں پہلے بہت لڑکیوں سے سچی و جھوٹی اتنی باتیں اور تعریفیں کر چکا کہ میں اندر سے مکمل خالی ہو چکا… اور یہی بات پچھتاوا ہے میرے لیے اب.. کاش میں ایسا نہ ہوتا.. میرا کسی سے کوئی تعلق نہ ہوتا.. میں اپنی باتیں، جذبات و احساسات پہلے سے ضائع نہ کرتا.. میں یوں آج جذبات سے عاری ہو کر، بہت تکلیف میں اس طرح تم سے مخاطب نہ ہوتا.. میں یوں چپ نہ ہوتا.. کاش اللہ مجھے معاف کر دے! کاش مجھے سکوں آ جائے…!

آج لڑکی نے آخر شادی کے کچھ ہفتوں بعد ہی اپنے شوہر کی اداسی اور اندر کا حال جان ہی لیا تھا. یہ سب باتیں بہت تکلیف دے رہی تھی اسے.. اس کے آنسو جم سے گئے تھے آنکھوں میں … ہاتھ میں کافی کا مگ پکڑے، باہر دیکھتے اسے لگا جیسے لان میں ہوتی ہلکی بارش کے ننھے ننھے قطرے اس کے آنسوؤں کا ہی کام دے رہے ہوں.. اس کا شوہر، اس کے ساتھ بیٹھے ہوئے وہ سب بتا رہا تھا جس سے اس کے دل میں ہلچل سی مچ گئی تھی .. مگر پھر بھی وہ اٹھی، کافی کا مگ سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور ساتھ بیٹھے شوہر کے پاس جا کر نیچے ہی بیٹھ گئی. پھر اس نے اپنا سر اس کے گھٹنوں میں رکھا اور اوپر نظریں کر کے، شوہر کی جھکی نگاہوں کو دیکھتے ہوئے بولی …. قسم سے، آپ کی باتوں سے مجھے بہت تکلیف ہوئی ہے، اتنی زیادہ کہ رو بھی نہیں پا رہی مگر آپ نے سچ بولا، وہ بھی میرے بار بار کی ضد کرنے پر تو اچھا لگا، آپ کو پچھتاوا ہے، معافی مانگتے ہیں تو رب ضرور معاف کرے گا آپ کو…اور… آپ نے کہا نا کہ آپ اندر سے خالی ہو، تو یقین جانیں مجھے اچھا لگا جان کر .. کہ میں بھروں گی اب اس میں اپنی محبت .. جو کچھ آپ نے کیا، میں تو ویسا، کچھ نہیں کیا نا.. تو میرے پاس بہت محبت ہے، اور وہ بھی خالص .. میری باتیں ، میرے جذبات و احساسات اور میرا تعریف کرنا تو سب نیا ہے نا .. آپ میرا آئینہ ہو، شادی کے بعد اب آپ میرے ہم لباس ہو، میں جو آپ کو دوں گی اس میں مجھے اپنا عکس نظر آتا رہے گا .. میری تعریف و باتیں آپ کی ہی تو ہوں گی…. اور پھر یہ کہتے اس کے ساتھ ہی رکے ہوئے آنسو، بڑی بے پرواہی سے چھلک ہی پڑے … اور وہ بلک بلک کر رونا شروع ہو گئی..

ادھر اس کا شوہر اپنی روتی بیوی کے سر پر ہاتھ پھیرے یہی سوچ رہا تھا کہ کہاں پوری زندگی فلرٹ نما دوستیوں کے چکر میں، جس محبت کو وہ کبھی سمجھ نہیں پایا تھا، اس کا مفہوم ابھی اس کی بیوی نے کیسے صرف چند الفاظ میں ہی سمجھا دیا تھا.. تب اچانک اس کی اپنی آنکھوں سے بےشمار بہتے آنسوؤں نے، گھٹنوں میں سر رکھی بیوی کے گالوں پر گر کر اسے تھپتپانا شروع کر دیا.. باہر ہوتی ہلکی بارش بھی رک چکی تھی مگر ٹیرس میں موجود اب آنکھوں کے آسمان سے برسات ہو رہی تھی.. سب کچھ صاف شفاف کر دینے کو، کہ جس کے بعد اندر کے موسم میں بھی باہر کی طرح خوبصورت نکھار آ جانا تھا .

ویب ڈیسک

web.desk

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam