نظام کو سمجھے بغیر اسے کیسے تبدیل کیا جاسکتا ہے - رانا محمد آصف

’’اس ملک میں جینا دن بہ دن مشکل ہوتا جارہا ہے، روز ایک نیا تماشا کھڑا ہو جاتا ہے، پینے کو صاف پانی نہیں، مہنگائی نے زندگی اجیرن کر رکھی ہے، بے روزگاری بڑھ رہی ہے، جمہوریت کو خطرہ ہے، سرکاری اسپتال کام نہیں کرتے، جان و مال کا تحفظ بھی نہیں، یہ سب سیاست ہے اس میں عوام کا کچھ نہیں بنے گا۔“ ہماری روز مرہ گفتگو میں یہ تکرار کتنی بڑھ چکی ہے۔ ہم روز مایوس ہوتے ہیں اور پھر مصروف ہوجاتے ہیں، تبصرے کرتے ہیں، سنتے ہیں، خود بھی بحث کرتے ہیں۔ اس سرگرمی کا منطقی نتیجہ عام طور پر ”ہم کیا کرسکتے ہیں۔“ ہی ہوتا ہے۔ ایک شہری ہونے کی حیثیت سے ہمارے حقوق و فرائض کیا ہیں؟ ایسے سنجیدہ سوالات اب ہمارے لیے اکتاہٹ کا باعث بننے لگے ہیں۔ لیکن کیا اس طرح ہماری کوئی مشکل حل ہوپائے گی؟ یقیناً نہیں! تو کیا کیا جائے؟ جمہوریت،آئین ، قانون اور سیاست کی رٹی رٹائی اصطلاحات میں ان کا جواب تلاش نہیں کیا جاسکتا۔ دنیا میں جمہوریت اور نظام قانون کے حوالے سے مثالی سمجھے جانے والے ممالک میں بھی عام آدمی کی نظام سے بڑھتی ہوئی بے دلی کا مسئلہ پیدا ہورہا ہے۔

مگر ہمارے اور ان کے ہاں ایک فرق ضرور ہے، وہ مسائل کی شدت کا احساس کرتے ہیں اور ان کے حل کے بارے میں سوچتے ہیں، جب کہ ہم صرف دل کی بھڑاس نکالتے ہیں۔ ہمارے ہاں سیاسی یا سماجی تنظمیں عملی سطح پر زیادہ سے زیادہ احتجاج کو ”کچھ کرنے“ کے مترادف سمجھتی ہیں۔ یہ صدیوں پرُانا طریقہ ہے،جس میں نتائج یقینی نہیں ہوتے۔ موجودہ دور میں نظام حکومت اور عوامی مسائل میں کئی تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں، اور اس سے بھی بڑھ کر اگر بار بار اپنایا گیا طریقہ موثر ثابت نہ ہو تو نئے آئیڈیاز پر کام کیا جاتا ہے ۔

شہری حقوق اور نظام میں تبدیلی سے متعلق ایک امریکی ماہر سماجیات ایرک لیو اس عمومی ڈگر سے ہٹ کر ایک نیا آئیڈیا پیش کرتے ہیں۔ان کے نزدیک اپنے حق کی جد و جہد کے لیے سب سے پہلے ضروری ہے کہ ہم ”طاقت“ کے اصل مفہوم کو سمجھیں اور اس کے لیے عام شہری اپنا کردار ادا کرنے کے لیے اپنے شہر سے آغاز کرے۔ ایرک کا بنیادی موضوع علم شہریت یا سوکس ہے۔ وہ کہتے ہیں: سوکس یا علم شہریت میرے خیال میں معاشرے کے ساتھ چلنے، مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کرنے کا فن ہے جس میں شہری حق حکمرانی پر صرف اصرار نہ کرتے ہوں بلکہ اپنا حصہ بھی ملاتے ہوں۔ سوکس یا شہریت دراصل ”شہری“ ہونے کا فن ہے، جیسے بل گیٹس نے کہا تھا ”یہ ثابت کرنا کہ آپ کیا کرسکتے ہیں“۔ یہ کیسے ممکن ہے؟ اس کے لیے ہمیں تین بنیادی کام کرنا ہوں گے۔ سب سے پہلے ہم مشترکہ اقدار کی بنیاد رکھیں۔ نظام کو سمجھیں، اور وہ طریقے سیکھیں جن کی مدد سے ہم کسی بھی مقصد کوحاصل کرنے کے لیے دوسروں کو ساتھ لے کر چل سکتے ہیں۔“ ایرک کا خیال ہے ”ہم جب بھی اپنے مسائل پر غور کرتے ہیں تو ان کا بنیادی سبب کسی نہ کسی طاقت کو قرار دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   وادی کمراٹ کی سیر ۔ 3۔ سید معظم معین

حکومت ریاست حتی کہ علاقائی پولیس کے اہل کار بھی ہمارے لیے طاقت کی علامت ہیں، اور مسئلہ حل کرنے کا پہلا قدم اس کے اسباب پتا لگانا ہے۔“ وہ کہتے ہیں”میرے خیال میں طاقت ایک ایسی اہلیت کا نام ہے جس کے ذریعے آپ دوسروں سے وہ کام کروا سکیں جو آپ اُن سے کروانا چاہتے ہوں۔“ آپ کو شاید یہ دھمکی محسوس ہو۔ ہم عام طور پر طاقت کے بارے میں بات نہیں کرتے۔

طاقت کا حصول یا اس کے استعمال کو کسی درجے میں ہم شیطنت تصور کرتے ہیں۔ جمہوری نظام حکومت کے تصور میں طاقت تو عوام کے ہاتھ ہوتی ہے، انھیں اس کا سرچشمہ قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن جب بھی آپ طاقت، اثر ورسوخ یا دبدبے کی بات کرتے ہیں تو اسے اچھے معنوں میں بیان نہیں کرتے۔ ریاست یا حکومت کی سطح پر جب بھی طاقت کی بات کی جاتی ہے تو خوف اور اجنبیت کا یہ احساس کیوں ہوتا ہے؟ یہ خوف ، جسے آپ فاصلہ بھی کہہ سکتے ہیں، انسانوں کا اجتماعی ورثہ ہے۔ طاقت کو منفی یا مثبت قرار کیوں دیا جائے، جس طرح جب ہم فزکس میں اسے پڑھتے ہیں تو ہمارے دل ودماغ میں کوئی منفی خیال جنم نہیں لیتا۔ یہ تو محض ایک اہلیت ہے۔ آج دنیا بھر میں یہ مسئلہ ہے کہ ہم طاقت کو سمجھتے ہی نہیں، بھلے ہی جمہوریت ہو یا آمریت ، عام شہری اس تصور سے واقف ہی نہیں، طاقت کیا ہوتی ہے؟ یہ کس کے پاس ہے؟ اس کیسے استعمال کیا جاتا ہے؟ یہ کس طرح پورے نظام کو چلاتی ہے؟ اس کا کون سا حصہ ہمیں نظر آتا ہے اور کون سے ہماری نگاہوں سے پوشیدہ ہے؟ کیوں یہ کچھ لوگوں کے پاس ہے؟ کیوں یہ خاص حلقوں تک محدود رہتی ہے؟ ان سوالوں کا جواب عام آدمی کے پاس نہیں۔

اسی لاعلمی کا فائدہ وہ لوگ اٹھاتے ہیں جو لوگ طاقت کے اصول سمجھتے ہیں، جانتے ہیں کہ نظام ریاست میں طاقت کس طرح استعمال ہوتی ہے، جو جانتے ہیں قانون سازی کس طرح ہوتی ہے، تعلقات کس طرح استعمال کیے جاسکتے ہیں، جانب داری کس طرح پالیسی کی شکل اختیار کرسکتی ہے، اور کوئی نعرہ کس طرح تحریک بن جاتا ہے؟ وہ سب باتیں جانتے ہیں انھیں یہ سب طریقے معلوم ہیں اور لاعلمی کے اسی خلا کو وہ بہ آسانی پورا کرتے ہوئے مزے سے اپنا کام کرتے رہتے ہیں۔“

ایرک کے نزدیک احتجاج اور مزاحمت سے بڑھ کر یہ بات زیادہ اہم ہے کہ ہم طاقت کے تصور کو سمجھیں اور پھر اسے جمہوری بنیادوں پر استعمال کرنے کی جانب بڑھیں۔ وہ اپنے معاشرے کی مثال دیتے ہیں۔” تعلقات کس طرح استعمال ہوتے ہیں؟ امریکا کے سینیر حکام اپنی ملازمت پوری کرنے کے بعد کسی لابنگ فرم کا حصہ بن جاتے ہیں اور پھر ذاتی تعلقات کو مختلف منصوبوں کے حصول اور اس کے نتیجے میں مالی فوائد حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ بیورکریسی یا سیاست میں کسی ایک مفاد سے بندھے لوگ اپنی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے جب منصوبہ بندی کرتے ہیں تو اس وقت جانب داری پالیسی بن جاتی ہے۔ ہم نے دیکھا کہ دنیا میں کس طرح کوئی نعرہ پوری تحریک برپا کردیتا ہے۔ جیسے کچھ عرصہ قبل کچھ ایکٹیوسٹ اٹھے اور انھوں نے ”وال اسٹریٹ پر قبضہ کرو“ کا نعرہ بلند کیا، ایک میگزین نے ان کے نعرے کو شہ سرخی بنا دیا اور پھر ان کا نعرہ ایک تحریک میں بدل گیا۔“

یہ بھی پڑھیں:   غیرت کے نام پر انوکھا قتل، خبردار ہوجائیں! - ڈاکٹر شفق حرا

ان مثالوں کو ہم اپنے حالات کے تناظر میں بھی دیکھ سکتے ہیں، لیکن ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو ان حقائق کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ،کون سی ایسی سیاسی جماعت ہے جو اپنے کارکنوں کو شعور دینے کی کوشش کرتی ہے؟ ان کے لیے یہ بات قابل تشویش کیوں نہیں کہ ہم رفتہ رفتہ ایک ایسی سوسائٹی میں تبدیلی ہوتے جارہے ہیں جہاں ہر فرد سیاست پر تبصرہ کرنے کو تیار ہے لیکن مجموعی طور پر سماج ڈی پولٹیسائز ہو چکا ہے۔ آج جمہور کا سیاسی شعور ”ایسے ہی چلتا ہے“ ”کیا ہوسکتا ہے“ اور ”کچھ نہیں ہوسکتا “ کے زریں اصولوں پر ترتیب پارہا ہے۔

ترجیحات کے تعین اور آگاہی کا آغاز کرنے سے گریز کی وجہ سے آج امریکا جیسے ممالک میں بھی شہری معاشرتی سطح پر لاتعلقی اور غیرل دل چسپی کا رویہ اختیار کررہے ہیں اور ہمارے ہاں تو یہ انفرادی سطح پر مستقل بے عملی کا جواز ہے۔ آج اگر ہم ملکی مسائل پر نالاں ہیں تو کیا اس کا سبب یہ نہیں کہ ہم نے سیاست کو صرف ایک پیشہ ور گروہ کا کام قرار دے دیا ہے اور عام شہری ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا ہے۔ ہم حوصلہ ہارتے جارہے ہیں، ہم یہ سمجھنے کے لیے تیار ہی نہیں کہ جس نظام سے ہماری روز مرہ کی زندگی متاثر ہوتی ہے وہ کن خطوط پر کام کرتا ہے۔

ایرک لیو کے نزدیک ایک عام شہری کے لیے، نظام کس طرح کام کرتا ہے؟ یہ جاننا اس لیے ضروری ہے کہ اسی کی مدد سے وہ اپنے حقوق حاصل کرنے کی راہیں بھی نکال سکتا ہے۔ یہ بات ہمارے اہل سیاست کے لیے ہی سمجھنا ضروری نہیں بلکہ ہر عام شہری اور میڈیا کو بھی سمجھنا ہوگی۔ ورنہ تھک ہار کر ہم احتجاج کرتے رہیں گے، اس سے تھک گئے تو کسی نجات دہندہ کا انتظار ہی مایوسی کے اس عرصے میں ہمارا آخری سہارا ہوگا یا کسی نجات دہندہ کا انتظار، جب کہ ہماری قومی تاریخ بتاتی ہے کہ اندھیری رات سے گھبرا کر ہم جس سورج کو آواز دیتے ہیں، وہ طلوع ہی سوا نیزے پر ہوتا ہے!

ٹیگز
error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!