عورت کا استحصال اور مغرب - عاطف الیاس

ایک لبرل دوست کی پاکستانی خواتین کے لیے پریشانی دیکھی تو سوچا کچھ اعداد و شمار شیئر کردیے جائیں تاکہ ریکارڈ رہے.

دنیا میں سب سے زیادہ عورتوں کے خلاف جنسی زیادتی کے واقعات امریکہ میں پیش آتے ہیں۔ بدقسمتی سے ریپ کے ان واقعات میں سے زیادہ تر واقعات گھروں کے اندر پیش آتے ہیں۔ جن میں اپنے ہی محرم رشتوں کی کثیر تعداد اس گھناؤنے فعل کو سرانجام دیتی ہے۔ امریکہ میں ہر چار میں سے دو عورتیں بلوغت کی عمر تک پہنچنے سے پہلے جنسی زیادتی یا اس کی کوشش کا نشانہ بنتی ہیں۔ جنسی زیادتی کے حوالے سے دوسرے نمبر پر ساؤتھ افریقہ، تیسرے پر سویڈن، چوتھے پر برطانیہ، پانچویں پر انڈیا، چھٹے پر نیوزی لینڈ، ساتویں پر کینیڈا، آٹھویں پر زمبابوے، نویں پر آسٹریلیا، دسویں نمبر پر ڈنمارک اور فن لینڈ شامل ہیں۔ مختلف تحقیقی اداروں کی رپورٹوں میں فرق ہوسکتا ہے لیکن زیادہ تر رپورٹوں میں یہی ممالک سرفہرست نظر آئیں گے.

عورت کے استحصال کی سب سے بدترین صورت جسم فروشی ہے۔ ایک طرف مغربی تہذیب اپنے مادر پدر آزادی کے تصورات کے ذریعے ہر انسان کو من پسند زندگی گزرانے کی آزادی دیتی ہے، دوسری طرف منفعت کے تصور کے تحت جسم فروشی کو جائز بھی قرار دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں جن ممالک میں جسم فروشی جائز ہے ان میں سے ترکی، بنگلہ دیش اور انڈونیشیا جیسے مسلم ممالک کو چھوڑ کر باقی سب مغربی ممالک ہیں۔ ان میں نیوزی لینڈ، بیلجیم، آسٹریلیا، آسٹریا، کینیڈا، ڈنمارک، فرانس، جرمنی، یونان اور ہالینڈ سرفہرست ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 42 ملین جسم فروش عورتیں موجود ہیں، جن میں سے پانچ ملین چین میں، تین ملین انڈیا میں اور ایک سے دو ملین امریکہ میں موجود ہیں۔ یاد رہے کہ یہ وہ اعداد و شمار ہیں جو آن ریکارڈ موجود ہیں، ورنہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔ میرے خیال میں عورت کے لیے اس سے زیادہ بدتر اور گھٹیا زندگی کا تصور ممکن نہیں کہ وہ ایک سیکس ورکر ہو لیکن مغرب میں یہ جائز بھی ہے اور عام بھی۔

یہ بھی پڑھیں:   "بدن کی آگ میں جلتے ہوئے پھول سے جسم" - اسماعیل احمد

عورتوں پر تشدد کے حوالے سے بھی امریکہ سرفہرست ہے، جہاں عورتیں اپنے بوائے فرینڈز اور شوہروں کے ہاتھوں بدترین تشدد کا نشانہ بنتی ہیں۔ وہاں رپورٹ کرنے کی شرح زیادہ ہونے کے باوجود، ایسے کیسز کی کثیر تعداد موجود ہے جہاں عورت تشدد کا نشانہ بننے کے بعد بھی اسے رپورٹ نہیں کرتی ہیں۔

ایک طرف شخصی آزادی کے تصور کے تحت آزاد زندگی کا تصور دیا جاتا ہے تو دوسری طرف عورت کو ایک سستی سی شے بنا دیا گیا ہے، جسے نیم برہنہ یا برہنہ کرکے اپنی پروڈکٹ کو زیادہ سے زیادہ بیچا جاسکتا ہے۔ گویا مغرب کی سرمایہ دارانہ معشیت کے لیے عورت ایک ایسا ذریعہ (Tool) ہے جسے وہ مارکیٹنگ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ میں نے ایک سٹور میں ایک سیلز گرل کو نامناسب لباس پہنے دیکھا تو سخت افسردہ ہوا۔ ایک بڑی عمر کی خاتون کے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ کمپنی ہمیں یہی کپڑے پہننے پر مجبور کرتی ہے۔ افسوس! سرمایہ دارانہ کمپنیاں مال کے ساتھ ساتھ عورت کی عزت بھی بیچتے ہیں۔

گویا عورت جو گھر کا چراغ اور زینت تھی، اسے مغربی تہذیب نے منفعت کے تصور کے تحت جسم فروش اور پروڈکٹ بیچنے کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ اگر یقین نہیں آتا تو اپنے گھر میں موجود ٹی وی، سڑکوں پر موجود بل بورڈز اور اخبار رسالوں میں چھپنے والے اشتہارات کو ایک نظر دیکھ لیجیے۔ کیا یہ عورت کی تذلیل نہیں؟ کیا یہ عورت کو سستی شے بنانا نہیں؟ مگر افسوس ہمارے سیکولر اور لبرل دانشور اسے عورت کی آزادی کے دلفریب منظر کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ لیکن بنظر غور دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عورت کا بدترین استحصال ہے جو مغربی تہذیب کی پیروی میں ہمارے ہاں بھی جاری ہے.