آزادی اظہار رائے کا غلط استعمال – عاشور عاصم

ایک طویل ترین جدوجہد کے بعد جب ایک قوم کو آزدی ملی تو آزادی کی اگلی روشن مگر سرد صبح کو تحریکِ آزادی کا ایک رکن اپنے نو آزاد ملک کی پہلی صبح کی سیر کو نکلا۔ بارش سے بچنے کے لیے ہاتھ میں چھتری تھامے خراماں خراماں لمبے لمبے قدم اٹھاتا وہ ساحل کی طرف بڑھ رہا تھا اور فوجی انداز میں دونوں ہاتھ ہلاتے ہوئے خوشی سے کہتا تھا ”ہم آزاد ہو گئے ہیں، ہم آزاد ہو گئے ہیں.“

اسی اثناء میں سامنے سے ایک ادھیڑ عمر شخص چلتا ہوا جب قریب پہنچا تو نئی نئی آزادی کی خوشی میں مارچ کرتے ہوئے کارکن کی چھتری سامنے سے آتے ہوئے شخص کی ناک سے ٹکرا گئی۔ ادھیڑ عمر شخص ایکدم غصے سے بولا کہ ”میاں کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ میں سامنے سے آ رہا ہوں اور تم نے مجھے چھتری دے ماری.“
کارکن جذباتی انداز میں بولا ”ارے کیا آپ جانتے نہیں کہ ہم آزاد ہوگئے ہیں۔ دیکھیے یہ ایک خوشی اور شادمانی کا دن ہے۔ آئیے ہم سب مل کر گائیں کہ ہم آزاد ہوگئے ہیں.“
اتنا سن کر وہ ادھیڑ عمر شخص چھبتے ہوئے لہجے میں بولا ” قبلہ مانا کہ آپ آزاد ہوگئے ہیں لیکن آپ کی یہ آزادی وہاں ختم ہو جاتی ہے، جہاں سے میری ناک شروع ہوتی ہے.“

یہ بات جان لینا کہ ہماری آزادی کی حدود کیا ہیں اور ہم ان حدود کے اندر رہتے ہوئے کس حد تک جا سکتے ہیں، خود میں ایک اعلیٰ تعلیم یافتگی کی سند سے کم نہیں ہے، لیکن نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ پاکستان میں ایک طبقعہ ایسا بھی ہے جو دوسرے کی ناک کو بھی اپنی آزادی کی حدود کے اندر سمجھتا ہے۔ جس کو یہ خبر نہیں ہے یا پھر وہ جان بوجھ کر اس کو نظر انداز کر رہا ہے کہ فریڈم آف سپیچ اور ہیٹ سپیچ میں کیا فرق ہے۔ پاکستان میں لبرل ازم کے نام پر ایک نئی روایت کو جنم دیا گیا ہے اور یہ فاشزم سے بھی زیادہ خطرناک اور زہرِ قاتل ہے۔ منافرت اور شرانگیزی کی تمام حدود کو پھلانگ کر اسے آزادیِ اظہارِ رائے قرار دے دینا درست ہے نہ قابل قبول۔

یاد رکھیے! فریڈم آف سپیچ کسی شتر بے مہار نظریے کا نام نہیں ہے. آزادی اظہارِ رائے کی تعریف ہر ملک میں مختلف ہے لیکن عمومی تعریف یہی ہے کہ آپ جس ملک میں رہ رہے ہوں، اس کے آئین اور قانون کے اندر رہتے ہوئے وہ بات کر سکتے ہیں جو اس ملک کے نظریات اور اساس کے منافی نہ ہو۔ مثال کے طور پر آپ امریکہ، اسرائیل اور کچھ یورپی ممالک میں ہولوکاسٹ پر رائے زنی نہیں کر سکتے۔ برطانیہ میں آپ منارک (شاہی خاندان) کے خلاف بول اور لکھ نہیں سکتے۔ تازہ ترین مثال بھارت میں دیکھ لیجیے کہ مشہور فلمی اداکار اوم پوری نے فوج کے ایک جوان کی موت پر رائے زنی کی تو الفاظ کا دھندہ اس کی گردن کا پھندہ بن گیا۔ مختصر یہ کہ آپ جس بھی ملک میں جاؤ، اس کے قواعد و ضوابط کو ہر حال میں تسلیم اور فالو کرنا ہوگا۔

لیکن ہمارے ہاں جان بوجھ کر ایک طبقے نے آزادی اظہار رائے کے نعرے کے غلط استعمال کو اپنا وطیرہ بنا رکھا ہے. فریڈم آف سپیچ کے نام پر شعائرِ اسلام کا مذاق اڑایا گیا، مقدس ہستیوں، پیغمبرانِ اسلام کو معاذاللہ ثم معاذاللہ شدید ترین برا بھلا کہا گیا، سرکاری مذہب اسلام کی حد درجہ ہتک اور تذلیل کی گئی، تاریخِ اسلامی کو متنازعہ بنایا گیا، اسلامی اور قومی ہیروز کو ہر ممکن کوشش سے برا، بدکار اور ظالم بنا کر پیش کیا گیا، بانیانِ پاکستان کے اوپر لطیفے، قصے گھڑے گئے، کہانیاں لکھی گئیں، نظریہ پاکستان کی توہین کی گئی، پاکستان کے جواز پر سوالیہ نشان لگایا گیا، پاکستان کے سٹریجیٹک اثاثوں اور اداروں کے خلاف ایک منظم پروپیگنڈا کیا گیا۔ کیا یہ ”فریڈم آف سپیچ“ ہے؟ نہیں جناب! یہ ایک منظم ادارہ جاتی سازش ہے جس کے ابھی صرف چند لوگوں پر ہاتھ ڈالا گیا ہے تو فریڈم آف سپیچ کا شور مچا دیا گیا ہے۔ آئین و قانون کی خلاف ورزی بھی فریڈم آف سپیچ ہوا کرتی ہے؟

اس موقع پر ہماری بطور قوم یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اس سوچ کو شعور کی اس سطح تک لے کر جائیں جہاں ہم تمام تر سیاسی و مسلکی اختلافات بھلا کر فرد اور قوم کے مفاد کو یکجا کریں اور اس فتنے کے خلاف آواز اٹھائیں اور لوگوں میں شعور بانٹیں۔ میری یہ حقیر کوشش بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے. امید کرتا ہوں آپ اس سے متفق ہوں گے اور اس کو آگے بڑھائیں گے.

Comments

FB Login Required

Protected by WP Anti Spam