اصولی مؤقف اور دانشوری مورچے – رعایت اللہ فاروقی

فیس بک پر کئی بار یہ گزارش کر چکا ہوں کہ چیلنج صرف وہ دہشت گرد نہیں ہیں جو دشمن ممالک کے اشارے پر پاکستان کے خلاف ان کے عزائم کو آگے بڑھا رہے ہیں بلکہ وہ بھی ہیں جو ان ممالک سے فنڈز لے کر ”دانشوری مورچے“ کا استعمال کرکے بیرونی ایجنڈوں پر کام کرتے ہیں۔ اور بارہا لکھ چکا ہوں کہ ایکشن ان کے خلاف بھی ہوگا۔ اس سلسلے میں ”پاکستان کی خارجہ پالیسی“ والی سیریز میں بھی صاف صاف لکھا تھا۔

”ان حالات میں امریکہ کے لیے واحد آپشن یہی تھی کہ ملک کو اندر سے سیاسی وعسکری طور پر اتنے زخم لگائے جائیں کہ یہ بکھر کر رہ جائے اور اس میں خانہ جنگی کی ایسی کیفیت بنادی جائے جس سے پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کا ملک پر کنٹرول ختم ہو جائے اور جسے جواز بنا کر یہاں اقوام متحدہ کی فوج اتاری جائے اور خوب تسلی سے سارے ”دانے“ (ایٹمی ہتھیار) ڈھونڈ لیے جائیں۔ چنانچہ ایک طرف ٹی ٹی پی کھڑی کی گئی جسے یہ ہدف دیا گیا کہ تم اس ملک کو عسکری زخم لگاؤ اور دوسری طرف صحافیوں اور دانشوروں کو خریدا گیا جنہیں یہ ہدف دیا گیا کہ تم عوام کا اعتماد تباہ کرو اور انہیں فوج سے بدظن کرو۔ دونوں ہی نے ایڑی چوٹی کا زور لگا لیا لیکن جس ملک نے حرمین کے تحفظ کی ذمہ داری کا بیڑہ اٹھا رکھا ہو، اس کے تحفظ کے لیے اللہ ہی کافی تھا۔ نتیجہ یہ کہ امریکہ اپنے زخم چاٹتا ہوا انخلا کر رہا ہے اور پاکستان اپنے اندرونی دشمنوں کو چن چن کر مار رہا ہے اور میری یہ بات یاد رکھیں کہ بچیں گے وہ دانشور اور صحافی بھی نہیں جو گزشتہ دس سال کے دوران سی ڈی 70 موٹر سائیکل سے ڈیڑھ ڈیڑھ کروڑ کی گاڑیوں تک پہنچ گئے ہیں، انہیں بتانا ہوگا کہ 5000 سے 20 ہزار تک کی تنخواہ پانے والا ورکنگ جرنلسٹ صرف دس سال میں کروڑوں اور اربوں روپے کا مالک کیسے بن سکتا ہے؟۔“

لگتا ہے وہ مرحلہ آ گیا ہے اور اس کا آغاز سوشل میڈیا سے کردیا گیا ہے۔ پچھلے دو سال کے دوران امریکہ، بھارت اور ایران کے پالتو دہشت گردوں کے خلاف ہونے والے ضرب عضب کے دوران قانونی اور قانون سے ماورا دونوں ہی طرح کے اقدامات کیے گئے۔ ریاست نے قانون سے ماورا ایکشن لیے تو ہم نے ”غیر معمولی حالات“ کے اصول کو پیش نظر رکھ کر اسے قبول کیا اور درست کیا کیونکہ جنگی صورتحال سے ”حالتِ امن“ کے اصولوں کے تحت نہیں نمٹا جا سکتا۔ وہ ”غیر معمولی حالات“ اب بھی برقرار ہیں۔ انسانی حقوق کے جن نام نہاد رہنماؤں کو 20 ہزار لاپتہ افراد میں سے صرف واحد بلوچ کا غم کھائے جا رہا تھا وہ آج بھی اسی منافقت پر گامزن ہیں۔ سوشل میڈیا پر سرگرم 9 افراد لاپتہ ہوئے لیکن منافقین کی انجمن کو غم صرف 4 کا کھائے جا رہا ہے۔ دونوں جانب کے یہ انتہا پسند قلمی گروپ ریاست کے خلاف سرگرم تھے اور دونوں ہی کے ابھی صرف چند افراد کو اٹھایا گیا ہے۔

میں نے ضرب عضب کے دوران ہونے والے پولیس مقابلوں کو دو سال سے خاموشی اختیار کرکے اپنی حمایت فراہم کی ہے۔ اسی طرح کالے شیشے والی گاڑیوں کی مدد سے لاپتہ کیے گئے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے حوالے سے بھی میں نے ریاست کو اپنی خاموش حمایت مہیا کی ہے۔ اور اس حمایت کے لیے میں نے بھی ”غیر معمولی حالات“ کے اصول کو ہی قبول کیا تھا۔ انہی غیر معمولی حالات کی بنیاد پر میرا موقف آج بھی وہی ہے جو پچھلے دو سال کے دوران تھا اور میں لاپتہ کیے گئے کمرشل لبرلز کے خلاف ایکشن کی بھی حمایت ہی کروں گا۔ میں ”ہم سب“ نہیں ہوں کہ اہل مذہب کے لاپتہ کیے جانے پر خاموشی اختیار کر لوں اور لبرلز کے غائب ہونے پر انسانی حقوق کی قوالی گانی شروع کردوں۔ مذہب، ریاست اور اداروں کے خلاف باہر سے فنڈز لے کر پگڑی سرگرم ہو خواہ ہیٹ، دونوں ہی کے لیے یکساں سلوک کا قائل ہوں۔ میری نظر میں یہ دونوں ہی ملک دشمن ہیں اور ان دونوں ہی کے خلاف غیر معمولی حالات میں غیر معمولی اقدام کا حامی ہوں جسے ”اصولی موقف“ کہتے ہیں !

رعایت اللہ فاروقی

رعایت اللہ فاروقی سوشل میڈیا کا جانا پہچانا نام ہیں۔ 1990ء سے شعبہ صحافت سے وابستگی ہے۔ نصف درجن روزناموں میں کالم لکھے۔ دنیا ٹی وی کے پروگرام "حسبِ حال" سے بطور ریسرچر بھی وابستہ رہے۔ سیاست اور دفاعی امور پر ان کے تجزیے دلچسپی سے پڑھے جاتے ہیں

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam