رواداری اور دل آزاری کا ”سی سا“ – رضوان اسد خان

”اسلام رواداری سکھاتا ہے.“
”اسلام کسی کی دل آزاری سے منع کرتا ہے.“

یہ وہ جملے ہیں جن سے ایک احمق ہی انکار کرے گا، لیکن کیا کریں ابلیس کے کمال تلبیس کا انھی دو جملوں پر اس نے لبرل ازم کی ایک پوری فکر اور تہذیب کھڑی کر دی، اور پھر انھی دو فقروں کی بنیاد پر اسے عین اسلامی بھی ثابت کروا دیا. اگر آپ کو جاننا ہو کہ آپ کا یہ ازلی دشمن کیسے کسی کے (برے) اعمال کو خوشنما کر کے دکھاتا ہے تو کسی بھی لبرل مسلم سے مل لیں.

فارمولا یہ ہے کہ اصطلاح وہی رہنے دو، اس کا مفہوم بدل دو. دہشت گردی کو کون پاگل جائز کہتا ہے، مگر جب آپ کسی مقبوضہ علاقے کے حریت پسند کو دہشت گرد کہنا شروع کر دیں گے تو ایک فطری جذبہ قابل نفرت بن جائے گا.

کسی بھی نظام کے بنیادی اصولوں سے محبت اور ان کی پابندی، اس نظام سے وابستگی کی پہلی شرط ہوتی ہے. مگر آپ ”بنیاد پرستی“ کو شدت پسندی کا مترادف بنا دیں. اب اس سے مؤثر ذریعہ کسی بھی نظام کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کا آپ کو اور کہیں نہیں ملے گا.

بعینہ رواداری جیسے ایک پسندیدہ اور مطلوب وصف کو جب آپ حدود و قیود سے آزاد کر دیں گے تو قرآن پڑھنا بھی رواداری کے خلاف قرار پائے گا. اب آپ مجبور ہیں کہ اس کی آیات کو بدل تو سکتے نہیں، لہٰذا اب رواداری کی چھتری تان لیں اور عیسائیوں کے سامنے مسیح علیہ السلام کو ابن اللہ کہنے کی مذمت میں اتری آیات پڑھنے سے اجتناب کریں. یہی رواداری ہے اور اس کے خلاف ہر عمل دل آزاری.

اب ”یا ایھا الکافرون“ کو تو نکال نہیں سکتے. کوئی مسئلہ نہیں. ”کافرون“ کا مفہوم ہی بدل دیں. لو جی مسئلہ حل ہو گیا. اب غامدی صاحب نے جو مفہوم آپ کو سکھا دیا ہے، اس کے مطابق آج کی دنیا میں تو کافر کوئی ہے ہی نہیں. نہ کسی کو کافر کہیں، نہ قرآن اس کی دل آزاری کا باعث بنے.

آپ جہاز میں نماز پڑھنا چاہتے ہیں؟ ادھر ادھر دیکھ لیں. کہیں کسی کی دل آزاری ہو گئی تو اس نے دہشت گردانہ افعال کرنے پر آپ کو جہاز سے اتروا دینا ہے.

اچھا آپ فرانس میں رہتی ہیں؟ آپ کو پتہ ہے کہ آپ کے حجاب سے ان کی دل آزاری ہوتی ہے؟ وہ نقاب میں آپ کے ساتھ ”کمفرٹیبل“ فیل نہیں کرتے، کیونکہ اس طرح سے آپ ان کی نظروں کی ”کمفرٹ“ کے ان کے پیدائشی حق سے انہیں محروم کر دیتی ہیں. دیکھیں ناں! ایک سیکولر کا دین اس کے ملک کا قانون ہی تو ہوتا ہے. اب آپ اس کی خلاف ورزی کر کے رواداری کے خلاف عمل کر رہی ہیں اور ان کی دل آزاری کا باعث بن رہی ہیں. اور یہ بات تو آپ کے اپنے دین کے بھی خلاف ہے. اور پھر آپ نے ان کے قانون کی پابندی کا حلف بھی تو اٹھا رکھا ہے. کیا فرق پڑتا ہے اگر بعد میں اس میں آپ کی مرضی کے خلاف ترمیم ہوگئی تو بھئی ان کا ملک ہے، وہ جو مرضی کریں. کم از کم سعودی عرب کی طرح زبردستی نمازیں پڑھوا کر کسی کی دل آزاری تو نہیں کرتے ناں.

اچھا تو آپ دین کی تبلیغ کرنا چاہتے ہیں. آپ امریکیوں کو زنا اور ہم جنس پرستی سے روکنا چاہتے ہیں؟ لیکن آپ کو پتہ ہے کہ یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے اور ایسا کر کے آپ ”ایل جی بی ٹی“ کمیونٹی کے حقوق کی خلاف ورزی کر کے ان کی دل آزاری کا باعث بنیں گے.

تو آپ چاہتے ہیں کہ اپنی مسلم بہنوں کو ڈیٹنگ سے منع کریں کہ نامحرم سے خلوت میں ملنا حرام ہے. بھئ جب ان کے والدین کو اعتراض نہیں تو آپ کون ہوتے ہیں روکنے والے ایک عاقل بالغ لڑکی کو؟ اور آپ جیسے کسی ملا کے حرام کہہ دینے سے کوئی چیز حرام تھوڑی ہو جاتی ہے؟ حدیثیں تو ویسے ہی ساری مشکوک ہیں، جنہیں آپ ملا لوگ اپنی دکان داری کے لیے استعمال کرتے ہیں. آپ تو ویسے ہی عورت کے حقوق کے خلاف ہیں اور اسے اپنی جاگیر بنا کر رکھنا چاہتے ہیں. رواداری تو آپ کو چھو کر نہیں گزری اور آپ کو پتہ ہی نہیں کہ دین کی کسی بات کو ”حکمت“ سے نہ کرنا کسی کی دل آزاری کا باعث بن سکتا ہے.

تو جناب اگر آپ نے فسق، منافقت اور شرک پر قرآن کی جہنم کی وعید پر مشتمل آیات سنا کر دل آزاری اور رواداری کے ”سی سا“ کا توازن خراب کیا، اور داروغہ جہنم اور ٹھیکیدارِ جنت بننے کی کوشش کی تو ”تہذیب نو“ میں آپ کے لیے کوئی جگہ نہیں اور آپ مزید اس جھولے کے مزے لینے کے قابل نہیں رہے. جائیں جا کر کسی سینڈ بیگ پر مکے برسا کر اپنا ”امر بالمعروف و نہی عن المنکر“ کا غبار نکالیں.

رضوان اسد خان

ڈاکٹر رضوان اسد خان پیشے کے لحاظ سے چائلڈ سپیشلسٹ ہیں لیکن مذہب، سیاست، معیشت، معاشرت، سائنس و ٹیکنالوجی، ادب، مزاح میں دلچسپی رکھتے ہیں، اور ان موضوعات کے حوالے سے سوالات اٹھاتے رہتے ہیں

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam