یہ ظلم ہے - زبیر منصوری

سلمان حیدر کو اٹھا لیا گیا،
پولیو کا مریض نصیر دکان سے غائب کر دیا گیا،
وقاص گورایہ اور عاصم بھی غائب ہیں.

کیوں؟
اس لیے کہ یہ لوگ بولتے ہیں، لکھتے ہیں، اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، اور یہ آپ کی طبعیت پر بوجھ بنتا ہے.
یہ آپ کو ”کار سرکار“ میں مداخلت لگتا ہے. یہ آپ کی حب الوطنی کی تعریف کے خلاف ہے؟یا آپ کی شان میں گستاخی معلوم ہوتا ہے؟

معاشرے میں ویسے ہی مزاحمت مر چکی ہے.
لوگ ظلم سہنے کو کھانے پینے کی طرح زندگی کا ایک ضروری حصہ سمجھ چکے ہیں. ایسے میں کچھ لوگ اگر بولتے ہیں تو وہ غنیمت ہیں، وہ معاشرے کی زبان ہیں۔

یہ درست کہ بولنے والے کے اظہار رائے کی بھی حدود ہوتی ہیں.
یہ درست کہ زبان سے نکلی بات بکواس اور خرافات نہیں ہونی چاہیے.
یہ درست کہ جب آپ بولیں تو توازن رکھیں.

مگر ساتھ ہی یہ بھی درست کہ
کسی الزام میں کسی کو کہیں سے بھی اٹھانا اور غائب کر دینا ظلم ہے، کچھ غلط ہوا تو اسے ٹھیک کرنے کا قاعدہ ضابطہ بنائیے، اور خود کو بھی اس کا پابند رکھیے، خدا کے لیے ملک کو دوسروں کے رہنے کے قابل بھی رہنے دیجیے!

اور اگر یہ لوگ وہی ہیں جو ایسے ویسے پیجز چلا رہے تھے، توہین مذہب، اور توہین رسالت کے مرتکب ہو رہے تھے، پھر تو کیس اور بھی مضبوط ہے، عدالت میں لائیے اور سزا دلوائیے.

اور ہاں جب تک اسلام پسند اپنے پرائے دوست اور دشمن کی تفریق کے بغیر ہر ظلم کے خلاف نہیں بولیں گے، تب تک طاقتور انہیں اکیلا اکیلا کر کے مارتے رہیں گے۔
کوئی آپ کے حق میں بولے یا نہ بولے، آپ اگر حق کے علمبردار نہیں بنیں گے تو معاشرہ ظلم سے بھر جائے گا. پھر کوئی آپ کی بات کے وزن کو محسوس کرنے والا بھی نہیں بچے گا۔

Comments

زبیر منصوری

زبیر منصوری

زبیر منصوری نے جامعہ منصورہ سندھ سے علم دین اور جامعہ کراچی سے جرنلزم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی، دو دہائیاں پہلے "قلم قبیلہ" کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ ٹرینر اور استاد بھی ہیں. امید محبت بانٹنا، خواب بننا اوربیچنا ان کا مشغلہ ہے۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو ورکشاپس کروا چکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں