پردہ اور لبرل – عامر احمد عثمانی

محترمی!
چلیے آج آپ کی صف میں کھڑے ہوکر بات کرتے ہیں ذرا

پردہ، حجاب، برقعہ، عبایا

بھول جائیں اس بات کو کہ پردے کا اسلام سے بھی کوئی تعلق ہے
دفعہ کیجئیے گا اس وہم کو پردہ کرنے سے ثواب ملتا ہے
بھاڑ میں بھیجئیے ذرا اس بات کو بھی کہ پردے میں عورت کی خوبصورتی ہے
ایسا کوئی سین نہیں بھائی

بس ایک بات بتاؤ!
آپ کو چڑ اسلام سے ہے یا پردے سے
اسلام سے نا کہ پردے کو اسلام نے لازم قرار دیا ہے
پردے کی ذات سے تو کوئی خار نہیں آپ کو
ڈن ہوگیا نا

اب فیصلہ آپ ہی پر چھوڑ دیتے ہیں جگر
پلیز یہ بتائیے گا کہ
کیا عورت ذات کا تحفظ پردے میں ہے یا بے پردگی میں؟
کیا مادر پدر آزاد درندوں سے بنتِ حواء بے پردگی میں محفوظ رہ سکتی ہے؟
پردہ اگر دل کا ہوتا ہے تو رال پھر منہ سے کیوں ٹپکنے لگتی ہے یار آپ کے؟

بات سمجھنے کی ہے نا
اب بھی اگر آپ پردے پر دو لفظ بولتے ہیں تو اس کا واضح مطلب یہی ہوگا نا کہ دراصل یہاں چڑ آپ کو اسلام سے نہیں پردے سے ہے

ثابت ہونے والی دوسری بات ذرا خطرناک سی ہے
انتہائی معذرت کے ساتھ…کیا آپ اس واسطے اپنے لئیے کہیں آزادی تو نہیں چاہتے؟؟

صاحب!
یہ سوالیہ نشان آپ پر اس وقت تک رہے گا جب تک آپ پردے سے اپنی چڑ کی وجہ بیان نہیں کردیتے.

ویب ڈیسک

web.desk

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam