یااللہ! منظر بدل دے - احسان کوہاٹی

یہ منظر بنا پلستر کے دیواروں والے کسی عقوبت خانے کا ہے، اس چھوٹے سے کمرے کے ایک کونے میں جہاں دو دیواریں ملتی ہیں، وہاں ایک دس گیارہ برس کاسرخ و سپید بچہ اس طرح پڑا ہے جیسے کوئی کسی جنس کی بوری اٹھا کر پٹخ دے، اس بچے کی آنکھوں پر پٹی بھی بندھی ہوئی ہے اور وہ شدید خوف زدہ لگ رہا ہے، اس کے دونوں ہاتھ گود میں ہیں جیسے نماز میں ہاتھ باندھے جاتے ہیں، اس معصوم کے سامنے ایک بڑھی ہوئی شیو والا جوان العمر ہاتھ میں بیس بال کھیلنے والا ڈنڈا اٹھائے ہوئے ہے، اس کا انداز ایسا ہے جیسے وہ اس بلے سے اس بچے کو اچھی طرح پیٹ چکا یا خوفزدہ کر چکا ہو، وہ سفاک شخص اس بچے کے قریب آتا ہے اور جھک کر عربی میں پوچھتا ہے،
’’تمہار ا رب کون ہے؟‘‘
خوفزدہ بچے نے سہم کر جواب دیا’’بشار۔۔۔‘‘
پھر شامی فوج کے اس سفاک نصیری کی آواز گونجتی ہے؟
’’تم کس کی عبادت کرتے ہو؟‘‘
’’بشار‘‘
’’اس پر اس کمرے میں گونجنے والے قہقہوں نے بتایا کہ وہاں شیطانی کھیل کھیلنے والے کئی اور بھی ہیں.

یہ بچہ شام کے شہر حلب کا تھا جسے بشار الاسد کی شیطانی صفت درندہ فوج نے فتح کر کے ’’بغاوت‘‘ ختم کر کے ظلم کی اس داستان کا آغاز کیا ہے جسے سنانے کے لیے بھی کلیجہ چاہیے اور سننے کے لیے بھی دل، یہ بچہ کہیں سے بشاری فوج کے ہاتھوں لگ گیا تھا، اور وہ اسے اپنی تفریح طبع کے لیے ساتھ لے آئے تھے، ان شیطانی فوجیوں نے بچے کے ساتھ کیا سلوک کیا، یہ خدا جانتا ہے موبائل کیمرے سے بننے والے ویڈیو کلپ میں تو صرف خوفزدہ سہما ہوا بچہ دکھائی دے رہا تھا جسے یقینی طور پر بدترین تشدد کے بعدوہ سب کچھ کہنے کے لیے کہا گیا تھا جسے سن کر کسی بھی مسلمان کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔

شیطانی قہقہوں کے بعد پھر سوال جواب کا سلسلہ شروع ہوا، سوال کرنے والے نے اپنی غلیظ زبان سے پوچھا،
’’تمہیں کس نے تخلیق کیا ہے؟‘‘
خوف سے کانپتے ہوئے بچے کا جواب تھا ’’بشار‘‘
پھر سوال ہوا ’’تمہارا رب کون ہے؟‘‘
بچے نے سہمی ہوئی زبان میں وہ دہرا دیا جو اسے کہا گیا تھا،
پھر پوچھا گیا’’تمہیں کس سے محبت ہے.‘‘
’’بشار‘‘
’’تمہارا لیڈر کون ہے؟
’’بشار‘‘
وہ سوال کرتے گئے اور سہما ہوا بچہ بشارالاسد کا نام لیتا چلا گیا،
پھر کسی کلاس ٹیچر کی طرح اس دشمن خدا نے کہنا شروع کیا،
’’اللہ کون ؟‘‘
’’بشار‘‘
محمد کون؟
’’بشار‘‘(نعوذباللہ)

ایک منٹ بائیس سیکنڈ کے اس ویڈیو میں اسی طرح کی ذہنی فکری غلاظت اور حلب کے مسلمانوں کی بے بسی کا مذاق اڑایا جاتا رہا ہے۔

یہ ایک اور وڈیو دیکھیں. یہ حلب کی ’’فتح‘‘ کے بعد کی ویڈیو ہے، یہ بشار کا ساتھ دینے والے بدمست جنگجو ہیں جن کی آنکھوں سے ہوس جھلک رہی ہے، وہ اپنی خشخشخی داڑھیوں والی ٹھوڑیاں کھجا کر حریص نظروں سے سامنے دیکھ رہے ہیں، سامنے جہاں سہمی ہوئی خواتین مال غنیمت کے طور پر ان کے ہاتھ آئی ہیں اور اب یہ مال غنیمت میں سے اپنا حصہ لے رہے ہیں، شب بسری کے لیے مفتوح شہر کی لڑکیاں پسند کر رہے ہیں، سامنے کھڑی لڑکیوں کو بے لباس ہونے کے لیے کہا جاتا ہے، خوف زدہ لڑکیاں بےساختہ اپنے ہاتھ خود سے لپیٹ لیتی ہیں، حکم عدولی پر پھر چیخ کر کہا جاتا ہے، لڑکیاں ہاتھ جوڑ کر معافیاں مانگنے لگتی ہیں، ان کی رندھی ہوئی آوازوں پر جشن فتح منانے والوں کے قہقہے غالب آجاتے ہیں، وہ شیطانی ہنسی ہنستے ہوئے آگے بڑھتے ہوئے لڑکیوں کے جسم سے لباس نوچ پھینکتے ہیں، لڑکیوں کی آہ و بکا اور وحشی قہقہے مل کر عجیب سا سفاک شور پید اکرتے ہیں. ’’فاتحین حلب‘‘ ہوس بھری نظروں سے ڈھلکے ہوئے بدن والا شکار مسترد کرکے اپنے اپنے حصے کے مفتوح جسم چننے لگتے ہیں، اور سیلانی کا سر شرم سے جھک جاتا ہے کہ وہ ان کلمہ گو بہنوں کا دین کے رشتے سے بھائی تو ہے.

یہ بھی پڑھیں:   خون مسلم ارزاں ہے؟ - عبدالباسط ذوالفقار

یہ ایک اور وڈیو کلپ ہے. ایک معصوم بچے کا جو بدقسمتی سے روسی بمباری سے شدید زخمی ہو جاتا ہے اور خوش قسمتی سے مسیحاؤں تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، اب اسے ایک ایسے اسپتال کے آپریشن تھیٹر میں لایا جاتا ہے جہاں دوا نام کی کوئی چیز نہیں، بچہ تکلیف سے کراہ رہا ہے، اس کے سر سے بھل بھل لہو بہہ رہا ہے، اور ڈاکٹروں نے اس کی سرجری کرنی ہے لیکن سرجری کیسے ہو کہ بیہوش کرنے والی دوا بھی نہیں اور نہ ہی دوا کے ملنے کی کوئی امید ہے، زخم نہیں سیتے تو بچے کی جان جاتی ہے تب سرجن دل کڑا کر کے بچے سے قرآن کی آیات پڑھنے کا کہتا ہے، بچہ تکلیف کو ضبط کرتے ہوئے جو جو سورتیں یاد ہوتی ہیں، پڑھنا شروع کر دیتاہے، وہ کلام اللہ پڑھتا جاتا ہے اور ڈاکٹر آنکھوں میں آئے اشک صاف کرکے بچے کے سر میں ٹانکے لگاتا جاتا ہے. یہ ویڈیو کلپ یوٹیوب اور سوشل میڈیا پر موجود ہے، اور اسی حلب کا ہے جسے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا شہر بھی کہتے ہیں۔

حلب، شام کی باتیں بہت ہوگئیں، اب کچھ اور بات کرتے ہیں، آپ نے مردہ ماں کی چھاتی سے لپٹ کر بھوک سے بلبلاتا کوئی بچہ دیکھا ہے؟ یقیننا نہیں دیکھنا چاہتے ہوں گے، لیکن ضرور دیکھیے کہ آپ کا بھی اس بچے سے ایک رشتہ ہے، آپ یوٹیوب یا کسی بھی سوشل میڈیا ویب سائٹ پر جا کر برما اراکان کا نام لکھ دیجیے اور پھر دیکھیے کہ دنیا میں مسلمان ہونا کیسا جرم اور اس کی سزا کیا ہے؟ لیکن اگر آپ کمزور دل کے ہیں تو آپ ایسا بالکل نہیں کریں گے، آپ نہیں دیکھیں گے کیوں کہ یہاں نرم مزاج بدھوں کے وہ مکروہ چہرے سامنے ہوں گے کہ آپ کی آنکھیں کئی راتوں کے لیے نیند سے دور ہوجائیں گی.

یہاں بستیوں کی بستیاں جلا دی جاتی ہیں، جلتے بلتے گھروں میں زندہ مسلمانوں کو اٹھا اٹھا کر پھینک دیناعام سی بات ہے، جس کے بعد وہاں پہنچ جانے والے فوٹو گرافروں کو سوختہ اکڑے ہوئے سیاہ جسموں کی کٹی پھٹی کھال سے نکلنے والی زردی مائل چربی پر بھنبھناتی مکھیاں بہادر فوٹوگرافر کو بہترین فوٹو کا ایوارڈ جیتنے کا موقع دے رہے ہوتی ہیں۔

اسی طرح کے مناظراس خطے سے بھی جڑے ہوئے ہیں جسے کوئی جنت ارضی کہتا ہے تو کوئی بیواؤں کی سرزمین، اب بھارت کشمیر میں کشمیریوں کی آنکھیں پھوڑ رہا ہے، پیلٹ گنز کے چھرے انسانی جسم میں گھسنے کے ساتھ ساتھ چہرے میں اس طرح پیوست ہوتے ہیں کہ آزادی کا خواب دیکھنے والی آنکھیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کچھ دیکھنے کے قابل نہیں رہتیں، سیلانی کے سامنے کا یہ منظر اسی کشمیر کے سری نگر کا ہے، جمعے کا دن ہے، کشمیر میں عموما جمعے کے روز نماز جمعہ کے بعد پاکستان اور آزادی ہی کے نعرے لگتے ہیں، لوگوں کا گرم لباس بتا رہا ہے کہ یہ ایک دو ماہ سے زیادہ پرانا وڈیو کلپ نہیں، لوگ آزادی آزادی کے نعرے لگاتے آگے بڑھ رہے ہیں، بھارتی تنخواہ دار اپنی بندوقیں لیے فولادی گاڑیوں کے پیچھے پوزیشن لیتے ہیں اور آنسوگیس کی شیلنگ ہوتی ہے اور اسی میں پلیٹ گن کے چھرے بھی چلتے ہیں۔ اب یہ منظر ایک اسپتال کا ہے جہاں اسی مظاہرے میں زخمی ہونے والا بارہ سالہ بچہ اسپتال کے سفید بستر پر دوا کے زیر اثر بے ہوش پڑا ہے آپ اس کا چہرہ دیکھ نہیں سکیں گے کہ اس کا چہرہ سفید پٹیوں میں لپٹا ہوا ہے، یہ پٹیاں بتا رہی ہیں کہ پلیٹ گن کے چھروں نے اس کا چہرہ گھائل اور آنکھیں پھوڑ دی ہیں۔ اب یہ ساری عمرکچھ دیکھ نہیں سکے گا اور یہی اس کی سزا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   روہنگیا مسلمانوں کی مدد کیسے کی جائے؟ خالد ارشاد صوفی

ایسے مناظر ایسے وڈیو کلپ آپ کو افغانستان، چیچنیا، فلسطین، عراق کے بھی مل جائیں گے، آپ دیکھ سکتے ہیں، سیلانی بھی نمناک آنکھوں سے دیکھ کر دل پر بوجھ لیے بیٹھا ہے اور سوچ رہا ہے کہ مسلمانوں کا لہو اتنا ارزاں! امت مسلمہ کب جاگے گی؟ کب اسے احساس ہوگا کہ میانمار میں بدھا کے سامنے ماتھا ٹیکنے والے الاؤ اور تندوروں میں سالم بکرے نہیں انسانوں کو بھون رہے ہیں۔ شام میں انسان ذبح ہو رہے ہیں، ترکی کی سرحد پر نہروں، دریاؤں سے نکلی کوئی مخلوق نہیں انسان پناہ لیے ہوئے ہیں۔ کشمیر میں آنکھیں گنوانے والے بچوں نے وہی اذان سنی ہے جو ریاض کے کسی محل میں پیدا ہونے والے شہزادے نے سنی ہوگی۔ افغانستان کے لوگوں کا بھی امن کا اتنا ہی حق ہے جتنا واشنگٹن، لندن اور ریاض والوں کا ہے، اس حق کے لیے افغانی اور کتنی نسلیں قربان کریں گے۔ ہمارے حکمرانوں نے اپنی بادشاہتوں کے لیے خطرہ بھانپتے ہوئے اسلامی ملٹری کاؤنٹر ٹیررازم کولیشن تو بنا لیا، کاش ان بیچاروں، مظلوموں کے لیے بھی کوئی فورم بنا لیں، کوئی تو ان کی مدد کرنے والا ہو، کوئی تو بہنوں بیٹیوں کے سروں سے حجاب کھینچنے کے لیے بڑھنے والا ہاتھ روکنے والا ہو، کوئی توخانماں بربادوں کو بسانے کے لیے آگے آنے والا ہو، کوئی توکچھ ایسا کرے کہ شام، فلسطین، افغانستان، کشمیر، برما، چیچنیا کے مسلمانوں کو لگے کہ وہ بھی امت مسلمہ کا کوئی حصہ ہیں، کوئی ان کے اشک بھی پونچھنے والا ہے، کاش کسی راحیل شریف کی سربراہی میں ایسی فوج بھی بن جائے کوئی کرشمہ ہوجائے، کوئی انہونی ہو جائے۔ سیلانی یہ سوچتا ہوا اپنے سیل فون پر ترکی سے آنے والی ٹھٹھرتی ٹھنڈ میں بشاری فوج کے ہاتھوں خانماں برباد کپکپاتے بچوں کی تصویریں دیکھتا رہا، دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا.

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں