موسیقی اور قرآن مجید – بشارت حمید

آج کل کچھ لوگ موسیقی سننے کو جائز قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں اور اس کے لئے نا معلوم کہاں کہاں سے دلائل نکال کر پیش کر رہے ہیں۔ میں اپنی کم علمی کا اعتراف کرتے ہوئے عرض کروں گا کہ جو کلام مجید شاعری کی مذمت کرتا ہو اور شاعروں کے بارے میں اس رائے کا اظہار کرتا ہو کہ انکی پیروی وہ لوگ کرتے ہیں جو راہ راست سے بھٹکے ہوئے ہیں اور یہ شاعر لوگ (زمین و آسمان کے) قلابے ملاتے ہیں اور کہتے وہ ہیں جو کرتے نہیں ہیں ماسوائے ان کے جو اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرنے والے ہیں۔ اس کلام پاک اور احادیث میں سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرنا کہ موسیقی کی کوئی ممانعت نہیں ہے شیطان کے راستے کو آسان تو بنا سکتا ہے رحمان کے راستے کو ہرگز بھی نہیں کہ موسیقی شاعری سے اگلا قدم ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ لوگوں میں مقبولیت حاصل کرنے اور اپنی واہ کروانے کے لئے منبر و محراب کے وارث موسیقی کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ اگر وہ اس کو اتنا ہی قرآن و حدیث کے مطابق جائز سمجھتے ہیں تو پھر ذرا آگے بڑھ کر اپنی مسجد میں محفل موسیقی منعقد کروائیں تاکہ (ان کے نزدیک) مردہ سنت کو زندہ کر کے سو شہیدوں کا ثواب حاصل کر سکیں اور غیر مسلموں کو بھی اسلام کے اس جدید ورژن سے تعارف حاصل ہو سکے۔

تجربہ یہ بتاتا ہے کہ جب انسان موسیقی سے شغف رکھتا ہے تو اللہ اور اسکے رسول صل اللہ علیہ وسلم کی طرف دھیان ہی نہیں جاتا اور ہر وقت خیالات میں گانوں کے بول ہی گھومتے رہتے ہیں۔ جو لوگ شاعری میں پیش کئے گئے عشق مجازی کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ یہ انسان کی سوچ پر منحصر ہے چاہے تو اسے عشق حقیقی پر منطبق کر لے۔ ان سے پوچھنے کی جسارت کروں گا کہ آج تک آپ نے خود یا کتنے اور لوگوں نے ایسی شاعری جس کی ہر تان ہی عورت کے عشق پر ٹوٹتی ہو اس سے عشق حقیقی کی راہ پائی ہے۔

ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ قرآن مجید سے محبت رکھنے والا کبھی بھی موسیقی اور لغو شاعری کو ایک ساتھ اپنے دل و دماغ میں جگہ نہیں دے سکتا۔ یہ قرآن مجید کی خصوصیت ہے کہ اگر اس کے ساتھ تعلق صحیح طور پر قائم ہو جائے تو یہ کتاب روحانی طور پر انسان کا تزکیہ کر کے اس کے اندر ہر لغو چیز کو پہچان کر اس سے دور رہنے کی صلاحیت حاصل پیدا کر دیتی ہے۔ اگر ہم اپنے روز مرہ شیڈول میں ایک مخصوص وقت کلام پاک کی تلاوت کا شامل کر لیں تو اس کی صرف تلاوت ہی کی برکات خود انسان کو محسوس ہونے لگتی ہیں اور ہر لغو چیز خود بخود بری لگنے لگتی ہے اور اگر اس پر غور و فکر کرنا شروع کر دیں اور اسے سمجھ کر اس کے مطابق اپنی زندگی میں تبدیلی لے آئیں پھر تو کیا ہی کہنے۔ تجربہ شرط ہے۔

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam