عورت اور تحفظ و عدم تحفظ کی بحث - نورین تبسم

عورت کے بارے میں ازل سے لکھا جا رہا ہے، اور نہ جانے کب تک لکھا جاتا رہے گا۔ ہر عورت ایک کہانی ہے اور دنیا کی کوئی بھی داستان عورت کے بغیر نہ تو دھرتی پر اتر سکتی ہے اور نہ ہی لفظ کی صورت کاغذ میں جذب ہو سکتی ہے۔

عورت ایک کھلی کتاب کی طرح ہے۔ جس کے ہر صفحے پر اس کے جذبے اور اس کے احساسات روشن سیاہی سے پڑھے جا سکتے ہیں۔ ہم اپنی شخصیت کو عمر کے مختلف ادوار میں تقسیم کر کے تجزیہ کریں تو ہوش سنبھالنے سے لے کر بلوغت تک ہرانسان ایک عجیب سرخوشی کی کیفیت میں آس پاس مہکتے پھولوں کو محسوس کرتا جاتا ہے۔ اُن کے کانٹوں کی چبھن سے بے پروا اور اسی طرح پاؤں زخمی کرنے والے سنگریزے بھی اپنی نادانی اور کمزوری جان کر چپکے سے جھولی میں چھپا لیتا ہے۔ بڑھتی عمر میں مرد و عورت دونوں کے احساسات کسی حد تک جدا ہوتے ہیں۔ اس عمر میں لڑکیاں جتنا بااعتماد نظر آنے کی کوشش کرتی ہیں اتنا ہی اندر سےغیرمحفوظ اور پریشان بھی رہتی ہیں۔ ان کہی کو لفظوں میں کھوجتی ہیں اور سنی کو ان سنی بھی کر دیتی ہیں۔ جو بھی ہے اس دور کی آگہی ہی وہ آگہی ہے جو برسوں بعد کے تجربے کی مضبوط بنیاد ثابت ہوتی ہے۔ معاشرے اور گھر میں عورت کے بہت سے کردار ہیں اور ہر روپ اہم ہے۔

عورت ایک ایسا شفاف آئینہ ہے کہ جو جس نظر سے دیکھتا ہے اسے اُس کا وہی رنگ دکھتا ہے۔ ”ظاہر“ عورت کا اصل روپ نہیں، رشتوں اور تعلقات کے پیرہن میں ملبوس ہو کر عورت کا اصل ہمیشہ چھپا ہی رہتا ہے۔ اگر یہ اُس کی مجبوری ہے تو بقا کی ضمانت بھی ہے۔ عمر کے ہر دور میں عورت کو مرد کے سہارے کی ضرورت پڑتی ہے۔ باپ، بھائی، شوہر اور بیٹے جیسے رشتوں کی ڈوریاں عورت کو سمیٹے رکھتی ہیں۔ مرد سے منسلک کسی بھی رشتے کا ہونا یا نہ ہونا عورت کی زندگی اور اُس کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ عورت کی زندگی میں باپ اور بھائی دو ایسے اولین رشتے ہیں جو اس کی پہلی سانس کے رازدار ہوتے ہیں تو ہوش سنبھالنے کے بعد ہر سانس کے ساتھ ان کی اہمیت کا احساس پنپتا جاتا ہے۔

باپ؛ ہوش سنبھالتے ہی باپ کے اولین لمس سے ملنے والے تحفظ کا احساس اتنا گہرا ہوتا ہے کہ بعد میں بننے والے ہر رشتے میں اس خوشبو کی تلاش اولیت رکھتی ہے۔ اور وہ لڑکی جس کی قسمت میں اس رشتے کی محرومی لکھ دی گئی ہو، آنے والی زندگی میں بھرپور خوشیاں پا کر بھی اس کے دل کا ایک گوشہ ہمیشہ غیر محفوظ ہی رہتا ہے۔ باپ سے ملنے والی محبتیں اگر بھلائے نہیں بھولتیں تو اس سے ملنے والے زخم بھی اتنے ہی گہرے ہوتے ہیں جو بعد میں مرد سے بننے والے ہر رشتے اور ہر تعلق میں ایک خلیج سی پیدا کر دیتے ہیں۔
بھائی؛ برابری کی بنیاد پر بننے والا یہ رشتہ دوسرے تمام رشتوں سے منفرد اہمیت کا حامل ہے تو اِس کا ہونا یا نہ ہونا بھی ایک عورت کی زندگی میں الگ کردار ادا کرتا ہے۔ بھائی کا ہونا اگر تحفظ دیتا ہے تو دُنیا میں تنہا چلنے اور اپنے فیصلے خود کرنے کا اعتماد بھی چھین لیتا ہے۔ جبکہ بھائی کا نہ ہونا اگر مرد سے وابستہ ہر رشتے میں بےاعتباری کے بیج بوتا ہے تو اپنی ذات پر انحصار اور آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھنے کی جرات بھی پیدا کرتا ہے۔

عام خیال ہے کہ مرد عورت کی حفاظت کرتا ہے لیکن! مرد عورت کی حفاظت نہیں کرتا بلکہ بھائی بہن کی، میاں بیوی کی اور بیٹا ماں کی حفاظت کرتا ہے۔ حفاظت صرف مقدس رشتوں کی کی جاتی ہے، عورت کی نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   رشتوں سے بچاؤ کی ٹیکنالوجی - محمد عاصم حفیظ

وہ عورت جو ان رشتوں سے فرار کی خواہش مند ہو، اسے مرد کی دنیا سے محبت تو مل سکتی ہے لیکن تحفظ کے پیرہن میں لپٹی عزت کبھی نہیں ملتی۔ جس محبت میں عزت کی مہک نہ ہو وہ محبت نہیں ہوس ہوتی ہے، اور جس عزت میں محبت کی خوشبونہ ہو وہ مجبوری ہے۔ عورت کی ساری عمر محبت اور عزت کے اُلجھے سرے تلاش کرتے گزر جاتی ہے۔ عزت کی خاطر محبت قربان کر دیتی ہے تو کبھی محبت کے دھوکے میں ساری حدیں پھلانگ جاتی ہے۔ انھی دو انتہاؤں کے درمیان زندگی اسے گزار دیتی ہے۔ طلب اور خواہش کہیں پیچھے رہ جاتی ہے۔

محبت سے عقیدت اور پھر چھت تک کے سفر میں عورت در بدر ہی رہتی ہے۔ وہ جان کر بھی نہیں جان پاتی کہ اُس کی منزل کیا ہے؟ حاصل ِزیست کیا ٹھہرا؟ چاہے جانے سے پرستش کیے جانے تک اور بانٹنے سے لُٹا دینے تک وہ تہی داماں ہو جاتی ہے۔ عمر تمام ہو جاتی ہے پر سفر ختم نہیں ہوتا۔ سیراب ہو جاتی ہے پر پیاس نہیں بجھتی۔ کیا چاہیے اُسے؟ کیوں ہے اتنی تشنگی؟ آگہی کا در یوں کھلتا ہے کہ عزت ہر جذبے پر مقدم ہے۔

عزت نہ ہو تو محبت بےمعنی، عزت نہ ہو تو عقیدت فقط چڑھاوا، عزت نہ ہو تو چھت بغیر ستون کے وہ شاندار عمارت جو محفوظ تو رکھتی ہے پر اپنے ساتھ لپٹا کر تحفظ کا احساس نہیں دلاتی۔ ستون دیکھنے میں تو عمارت کی دلکشی بن کر متاثر کرتے ہیں، وسعتِ نظر میں حائل ہوتے ہیں، طمانیت کے رقص میں رکاوٹ بنتے ہیں لیکن اُن کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ وہ ایک پائیدار ساتھ کی ضمانت ہیں، زندگی کے نامہربان فرش پر گرنے سے پہلے تھام لیتے ہیں۔

محبت سے عزت تک اور معاشرے میں باوقار مقام کی تلاش میں گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی کو ”جان نثار“ کی والہانہ ”سچی“ محبت، ”اندھے قانون“ کی لاٹھی، ”دنیا“ کے ہر مذہب کی رضا، ”مجبور“ والدین کی رضامندی، ”غیرت مند“ بھائیوں کا وقتی سمجھوتہ، یار دوستوں کی ”دلی“ خوشی اور اپنے ”ضمیر“ کی آواز کا اطمینان مل بھی جائے، مگر اُسے ”عزت“ کبھی نہیں ملتی۔ اپنی ساری زندگی کی قیمت پر بھی نہیں، اپنی آنے والی نسلوں کے سامنے بھی نہیں۔ اسےصرف سمجھوتے کرنا ہوتے ہیں۔ وہ سمجھوتے جن سے فرار کے لیے اس نے یہ انتہائی قدم اٹھایا۔ زندگی کا یہ گول چکر اسے ساری زندگی گزار کر ہی سمجھ آتا ہے۔ ”عزت“ دنیا میں سب سے قیمتی اور کم یاب شے ہے جو ہمیں دوسروں کے رویے اور اپنے دل کی آنکھ میں اپنے لیے ملتی ہے، ملتی رہے تو ہم اس کے ماخذ پر غور کیے بنا ہمیشہ ”ٹیک اٹ فور گرانٹڈ“ لیتے ہیں۔ جانے لگے تو اتنی بےوفا ہے کہ ہماری ذرا سی بھول سے یوں خفا ہو جاتی ہے کہ دلوں پر ”مہر“ لگ جاتی ہے، اور اپنا ہی سایہ ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔

عورت کی کامیابی کا معیار، معاشرے میں اُس کی عزت کی معراج، دُنیا کی اندھی دلدل سے بچاؤ کا واحد راستہ صرف اور صرف پیروں تلے زمین اور اُس پر نظر رکھنا ہے۔ یہی عورت کی اصل کمائی ہے، چاہے اس کمائی میں اس کا حصہ آٹے میں نمک کے برابر ہی کیوں نہ سمجھا جائے، یا پھر اس سے بھی کم۔ آسمان کی بلندیوں کو چھونے کی خواہش اگر طلب کا روپ دھار لے تو منہ کے بل گرنا نصیب ہے لیکن یہ چوٹ ایسی چوٹ ہے کہ جس کے درد کا اظہار کرنا نہ صرف دوسروں کے سامنے بلکہ اپنی ذات کی تنہائی میں بھی چوٹ سے بڑھ کر تکلیف دہ ہو جاتا ہے۔ کبھی یوں ہوتا ہے کہ عورت بھرپور مکمل رشتوں اور آسودہ تعلقات کے مضبوط حصار میں رہ کر بھی اپنی ذات میں تنہا ہوتی ہے۔ یہ مایوسی نہیں بلکہ رب کا بہت بڑا انعام ہے کہ اس طرح وہ کسی بھی جذباتی دباؤ کے زیرِاثر اپنے فیصلے کرنے سے آزاد رہتی ہے۔ بقا کی جنگ کا اہم نکتہ تنہائی ہے مکمل تنہائی، جو کاندھے کو کمزور نہیں پڑنے دیتی اورگرنے کے بعد پہلے سے بھی زیادہ توانائی کا احساس دیتی ہے۔ لیکن ”چوٹ“ تو چوٹ ہے جو جاڑے کی سرد رات میں کچھ زیادہ ہی ٹیس دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   عورت، مرد، گھر اور انٹرنیٹ - نورین تبسم

گرچہ گھر سے بڑھ کر آزادی اور تحفظ عورت کو کہیں نصیب نہیں لیکن سچ یہ بھی ہے کہ عدم تحفظ کا احساس ابتدا سے اس کے ساتھ چلتا ہے۔ اہل خانہ شعوری طور پر اعتماد دیتے ہیں تو بن کہے آنے والے خطرات سے آگاہ بھی کرتے ہیں۔ ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہمدردی، احترام، عزت اور محبت کے وقتی لبادے سکون تو دے سکتے ہیں، لیکن ذات پر اعتماد اپنوں سے کبھی نہیں ملتا۔ اپنی صلاحیت پہچان کر اپنے آپ کو قدم قدم پر منوانے کی جدوجہد عورت کی زندگی کہانی ہے، جو اسے اعتماد دیتی ہے تو کسی حد تک تحفظ کا احساس بھی دلاتی ہے۔

دُنیا کا سامنا کرنے کے لیے دل و دماغ نہیں، فقط مقام اہم ہے۔ دل اور دماغ اپنی ذات کی حد تک تو ساتھ دے سکتے ہیں لیکن اس سے آگے رشتوں کی بیساکھیوں کا سہارا درکار ہوتا ہے، جیسے کہا جاتا ہے کہ جب تک انسان کے ساتھ ڈگری نہ ہو چاہے جعلی سہی، وہ محترم نہیں، اسی طرح عورت کے ساتھ جب تک رشتے نہ ہوں وہ محض بازار میں بکنے والی چیز ہی سمجھی جاتی ہے۔ ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ عورت کی زندگی کمائی کا حاصل اور اُس کے نام سے جڑی بڑی ڈگریاں احترام کی وقتی خوشبو کا چھڑکاؤ کرتے عقیدت کے کاغذی پھول تو نذر کرسکتی ہیں لیکن شک اور ہوس کے کانٹے کبھی نہیں نکال سکتیں۔ ذاتی محنت و مشقت یا پھر خاندانی جاہ و جلال سے بنائے جانے والے محل ہمیشہ چار دیواری کے بغیر ہی بنا کرتے ہیں۔

عورت وہ ضدی مخلوق ہے جو کبھی کسی کی بات نہیں سمجھتی۔ جب تک اس کا دل اُس کے دماغ کی تائید نہ کرے، وہ نہ صرف دوسروں بلکہ اپنے دماغ سے بھی حالتِ جنگ میں رہتی ہے۔ یہ ایسی جنگ ہے جس میں نقصان دونوں طرف کا اپنا ہی ہوتا ہے۔ ہتھیار پھینک کر صلح کر لینا یا مدد کے لیے پکارنا شکست سے زیادہ موت کا پیغام ہے۔ زندگی کی خواہش میں بس ہر وار کے بعد نئے سرے سے تازہ دم ہو کر مقابلہ کرنا اصل حکمتِ عملی ہے۔

دیکھا جائے توعورت مرد سے زیادہ آزاد اور خودمختار ہے۔ اس طرح کہ دُنیا اور آخرت میں اس کے رشتوں کو اُس کی ضرورت ہے۔ ایک گھر کی تکمیل عورت کے بغیر ممکن نہیں تو آخرت میں بخشش کے لیے رب کی رضا کے بعد والدین کی خوشنودی لازمی ہے۔ والدین میں سے ماں کا مقام باپ سے بڑھ کر ہے۔ لیکن یہ بھی حق ہے کہ مقام مل جانا یا پا لینا اہم نہیں۔ اہم اپنے آپ کو اس منصب کا اہل ثابت کرنا ہے۔ دوسرے الفاظ میں جنت کا مکین بننا کامیابی نہیں بلکہ جنت میں رہنا اصل آزمائش ہے۔

آخری بات!
کاش آج کی پڑھی لکھی باشعور عورت کو کوئی بتا سکےکہ رشتوں کی بیساکھی کے بغیر تو وہ اللہ کے گھر کی سیڑھی بھی نہیں چڑھ سکتی، کہاں وہ دُنیا فتح کرنے کے خواب دیکھتی ہے.

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!