تیسری غلطی - آصف محمود

ایک غلطی ضیاء الحق سے ہوئی، سوویت یونین کے خلاف جہاد کے نام پر انہوں نے سماج کو کسی اور کی آگ کا ایندھن بنا دیا.
دوسری غلطی پرویز مشرف سے ہوئی. دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر پرائی آگ کے شعلے وہ اپنے گھر لے آئے.
اور تیسری غلطی اب راحیل شریف سے سرزد ہو رہی ہے. اور ڈر ہے کہیں مشرق وسطٰی میں بھڑکتی فرقہ وارانہ آلاؤ کی چنگاریاں اپنے معاشرے کو لپیٹ میں نہ لے لیں.

مکرر عرض ہے کہ ہم ایک بہت بڑی غلطی کرنے جا رہے ہیں. امت کے نام پر پہلے بہت واردات ہو چکی، اب ایک نیشن سٹیٹ بن کر سوچیے. اسلامی فوج تفنن طبع کے سوا کچھ نہیں ہے. ایک گناہ بے لذت.

دائروں کا سفر ہے اور ہم ہیں دوستو. کبھی سب سے پہلے پاکستان کا حکم نازل ہو جاتا ہے تو کبھی امت صاحبہ اپنی اسلامی فوج سمیت تشریف آور ہو جاتی ہیں.
وہی بات کہ
امیر شہر غریبوں کو لوٹ لیتا ہے
کبھی بحیلہ مذہب ،کبھی بنام وطن

راحیل شریف قابل قدر جرنیل ہیں لیکن ان کی تازہ اسائنمنٹ پر کچھ سوالات اٹھتے ہیں.
1. کیا یہ مناسب ہے کہ آرمی چیف ریٹائر منٹ کے فوری بعد کسی دوسرے ملک میں کوئی منصب حاصل کر لیں؟
2.اگر سیاسی بیان تک دینے پر دو سال کی. ممانعت ہے تو بیرون ملک ملازمت پر کیوں نہیں ہے؟
3.پاکستان کی مشرق وسطی میں ٹرمز آف انگیجمنٹ کیا ہیں؟ کیا پارلیمان میں ان پر کوئی بحث ہوئی ہے؟ کیا اس کے فوائد اور مضمرات پر سیر حاصل بحث ہو چکی ہے؟

ہم اپنی خارجہ پالیسی کا اکثر رونا روتے ہیں. غلط فیصلوں کی یقینا یہ وجہ نہیں ہوگی کہ ہمارا کوئی بھی حکمران کبھی بھی غدار رہا ہو. بلکہ اس کی وجہ شاید یہ رہی ہے کہ خارجہ پالیسی کے باب میں اہم فیصلے مشاورت کے بغیر اور پارلیمان میں ڈسکس کیے بغیر جلدی میں کر لیے گئے.

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں