سوشل میڈیا اور اخلاقیات کا جنازہ - فراز الحسن

دیکھنے کو تو سوشل میڈیا نے عام انسان کو خاص اور خاص کو عام سے ملایا لیکن اس کے منفی پہلوؤں کو مخفی رکھنا زیادتی ہوگی، آج میں سوشل میڈیا کے ان منفی پہلوؤں پر بات کرنا چاہوں گا جو درحقیقت اخلاقیات کا جنازہ ثابت ہو رہے ہیں۔

ہم دیکھتے ہیں کہ سیاسی و مذہبی کارکنان جس طرح باہم دست و گریباں ہوتے ہیں، وہ انسانی تربیت کی تذلیل کے برابر ہوتی ہے، کہیں ایک سیاسی مخالف کی بیٹی کا دامن گند سے بھرا جاتا ہے تو کہیں سیاسی مخالفوں کی بیویوں کو موضوع بحث بنایا جاتا ہے، کہیں بحث میں ماں بہنوں کی عزتوں پر ہاتھ ڈالے جاتے ہیں تو کہیں مذہبی قیادت پر انگلی اٹھائی جاتی ہے۔

اس وقت سوشل میڈیا پر درجنوں ایسے پیجز متعارف کروائے جا چکے ہیں جو مذہبی آزادی کی آڑ میں مذہبی منافرت پھیلانے میں درجہ اول پر ہیں، ایسے سیاسی پیجز چل رہے ہیں جہاں مخالفین کی پگڑیاں اچھالی جاتی ہیں، جو اپنی پہچان لبرل، سوشل یا مذہبی اقدار سے متعلق کرواتے ہیں، لیکن دراصل وہ انسانی رویوں کا وہ منفی پہلو ہے جسے ہم انسان میں بھیڑیا کہہ کر پکار سکتے ہیں، کئی ایسے پیجز ہیں جو انسان و مذہب کی تذلیل کو ہی اپنا معیار جانتے ہیں۔

سوشل میڈیا کی آزادی نے ہمیں اڑنا نہیں سکھایا بلکہ ہم ڈوبتے جا رہے ہیں، کل ایک ایسے ہی پیج پر ایک خاتون کا آرٹیکل پڑھنے کو ملا جہاں وہ خاندان پر زور دیتی نظر آئیں کہ بہن بیٹی کو ڈیٹ پر جانے سے روکنا اس کے لیے بہتر رویہ نہیں بلکہ اس کو کھلے دل سے اجازت دینی چاہیے، اور جب وہاں ایک قاری نے سوال پوچھا کہ محترمہ آپ اب تک کتنی دفعہ ڈیٹ پر جا چکی ہیں تو ایڈمن کی غیرت جاگ گئی، حالانکہ ایسا آرٹیکل لگاتے ہوئے جاگنی چاہیے تھی. اب صاحب سوال تو اٹھیں گے ہی اور سوال ان ہی سے کیے جائیں گے جو فتنوں کی بنیاد بن رہے ہیں۔ لبرل ازم کی آڑ میں وہ معاشرہ کھڑا کرنا جہاں دوسروں کی عزت عزت قرار نہ پائے، اس سے بہتر ہے کہ اس پر پابندیاں لگا دی جائیں۔

یہ بھی پڑھیں:   اخلاقیات بمقابلہ روایات - محمد حسان

یہاں ایک سوال ان سے بھی جو نظر تو اسلامسٹ آتے ہیں لیکن جب ان کو لبرل ازم کا کوئی کمزور پہلو نظر آتا ہے تو وہ اس کے پیچھے لٹھ لے کر پڑ جاتے ہیں حالانکہ وہ بھی آپ میں سے ہی ایک تھے، آپ کے ہی کسی کمزور لمحے کی لغزش سے وہ آپ سے دور ہوگئے، اب آپ کی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ وہ آپ میں واپس آئیں نہ کہ اپ سے مزید دور ہو جائیں۔

سیاسی و مذہبی اختلاف کو بنیاد بنا کر سوشل میڈیا پر وہ گھناؤنا کھیل کھیلا جا رہا ہے کہ سانسیں بند ہوتی محسوس ہوتی ہیں، اپنی منشور و اعمال کو پیش کرنے کے بجائے دوسروں کے دامن پر کیچڑ اچھالنے میں مصروف عمل احباب کو شاید یہ یاد نہیں کہ کیچڑ میں پتھر پھینکیں تو چھینٹ اپنے اوپر ہی آتی ہے۔ ہر شخص دوسرے شخص کو مجبور کرتا نظر آتا ہے کہ وہ ہی درست سمت میں جانب سفر ہے لیکن منزل کسی کو نہیں ملتی۔ ایک پاکستانی ہونے کی نسبت سے میں یہ نہیں چاہتا کہ میری دفاعی قوتوں کو یوں سر عام کوئی بھی مذاق بنائے لیکن جب نظر پڑتی ہے تو دانشوروں کی ایک فوج نظر آتی ہے جو شاید سب جانتی ہے سوائے ان دفاعی اداروں کے جو روز کی بنیاد پر اپنی جانیں سرحدوں پر قربان کرنے میں لگے ہیں۔

دیوبندی بریلوی سلفی تکفیری رافضی، کی ایک نہ رکنے والی بحث ہے جس میں ہر شخص خود کو جنت کا حقدار ثابت کرنے میں لگا ہوا ہے، اور خود کو دوسرے سے زیادہ عالم و فاضل پاتا ہے، شاید ایسے لوگوں نے خود اپنے اکابرین کو نہیں پڑھا ہوتا لیکن عقل کا معیار ان پر جاکر ختم ہوجاتا ہے. سوال یہ ہے کہ خود ان کے اکابرین کی عمر شاید دو تین سو سال سے زیادہ محیط نہیں، لیکن وہ ثابت کرتے نظر آتے ہیں کہ چودہ سو سال پہلے اسلام صرف ان کے ہی واسطے آیا، باقی سب تو کافر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   سوشل میڈیا کے معاشرے پر اثرات - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

جب تک سوشل میڈیا کے صارفین اعتدال کو نہیں اپنائیں گے، اپنی سنانے کے ساتھ دوسروں کی نہیں سنیں گے، سوشل میڈیا نعمت کے بجائے زحمت ہی بنا رہے گا۔