کن من کن من رم جھم رم جھم – ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

کن من کن من رم جھم رم جھم، برکھا بادل پون، بہار شوخی شرارت سرمستی، تشکر.
باغ ہریالی پھل پھول پودے پیڑ لہراتے سر جھکاتے،
بلی کی میاؤں،
گول گپے کرارے کی لمبی تان،
بچوں کی کھلکھلاہٹیں،
بلبل کی چہکار،
سامنے درخت پر اٹکھیلیاں کرتا سرمئی فاختاؤں کا جوڑا،
پام کے پتے کے نیچے دبکا ٹھٹرتا کاگا،
لوکاٹ سے لدے پودے گویا لباس خضر پہنے دلہن، سونے سے لدی، شرماتی لجاتی، اپنے بانکپن کو شرمیلی مسکان میں چھپاتی، سر جھکائے کھڑی، اپنی چوڑیوں کے کھنکنے سے بھی چوکنی ہو جاتی ہو،
چڑیا کی چوں چوں، فضا میں ان دیکھے رنگ بھرتی ہے جو دکھتے نہیں، سنائی دیتے ہیں.
آم کا درخت اپنی جوانی پر نازاں، بور سے لدی شاخیں پھیلائے، باوقار تمکنت سے کھڑا ہے.
پام کے پتے اک دوسرے کی بانہوں میں بانہیں ڈالے اپنے پتے یوں لہراتے ہیں جیسے ہم جولیاں کیکلی ڈال رہی ہوں.
ربڑ پلانٹ کا بڑا بوڑھا درخت گھنی چپ میں ساکت ایک بردبار مسکان سجائے باغ پر یوں نگران ہے گویا ایک بزرگ اپنے گھرانے کی خوشیوں کی نگہبانی کرتا ہو. اور دل ہی دل میں نظر بد سے بچنے کی دعائیں کرنے میں مشغول رہے.
گلاب کے رنگا رنگ پودے اپنی کلیوں پھولوں سمیت شاید مقابلہ حسن میں حصہ لینے والی ناریاں ہیں، ہر البیلی نے اپنے الگ رنگ کا تاج اپنے سر پر آویزاں کر رکھا ہے.
سرسبز مخملی گھاس پر قطار اندر قطار مختلف النوع کے پودے جوبن پر ہیں اور تمام ہی سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم کی تسبیح کر رہے ہیں.
رب کائنات کی رحمت پھوار کی مانند ہلکا ہلکا برستی ہے اور کبھی باد نسیم کی مانند بہنے لگتی ہے.
اس خوبصورت طلسم کو باہر سے گزرتی گاڑیوں کے انجن کی غراہٹ یا ہارن کی آواز کچھ پل کے لیے بے آرام کرتی ہے لیکن بس اتنا ہی طلاطم جتنا ایک پرسکون جھیل میں گرا پتھر اٹھا سکتا ہے بس پھر سکون اور تشکر اور حمد و ثنا.

آہ دیکھو رحمت رب کریم نے اپنی کائنات کا حسن اور نکھارا. گہرے سرمئی بادلوں نے کن کی صدا کے ساتھ اپنے گھیر دار ملبوس کو سمیٹا اور کہیں کہیں سے سنہری زرد دھوپ کا پگھلا سونا بہہ نکلا. .
باوضو خضر رنگ پتوں نے سونے کی ردا اوڑھ لی.
سنہرا ہرا اور سرمئی کیا انوکھا امتزاج ہے.
اللہ کریم تیرا شکر ہے، اللہ کریم تیرا شکر ہے.

Comments

FB Login Required

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

Protected by WP Anti Spam