غیور پٹھان کی داستان - شاہد اقبال خان

ماضی میں جینے والوں سے معذرت۔ ناسٹیلجیا کی شکار قوم کے تبصرہ نگار اگر تعصب کی عینک اتار کر دیکھیں تو شاید انھیں حقیقت نظر آ جائے۔ احساس کمتری کا بوجھ اتار کر بافخر پاکستانی کے طور پر دیکھیں تو جاوید میانداد، ظہیر عباس، انضمام الحق اور محمد یوسف کیا، ٹنڈولکر، کیلس، پونٹنگ، لارا اور سنگاکارا سے بھی یونس خان اونچی مسند پر بیٹھا نظر آئے گا۔

سترہ سال پہلے ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے اس پٹھان لڑکے کے بارے میں پاکستان میں شاید ایک شخص نے بھی یہ نہیں سوچا ہوگا کہ وہ ایک دن اپنے زمانے کے سقراتوں، بقراتوں اور سورماؤں سے بھی آگے نکل جائے گا حالانکہ اپنے عروج پر موجود مرلی دھرن کی خاصی پٹائی کر کے اس لڑکے نے ایک اشارہ ضرور دیا تھا۔ پھر وہی داستان شروع ہوئی جو ہر باصلاحیت پاکستانی کرکٹر کی قسمت میں لکھی ہے۔ یونس خان کو ون ڈے میں چھٹے، ساتویں، آٹھویں اور نویں نمبر پر کھلایا گیا۔ یعنی ایک مستند بیٹسمین کے ٹیلنٹ کو معین خان، اظہر محمود، یہاں تک کہ وسیم اکرم سے بھی کمتر سمجھا گیا۔ دوسرے لفظوں میں اس کا کیرئیر ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش ہوئی۔

پھر پاکستان میں باب وولمر کی آمد ہوئی، جو یونس خان اور شعیب ملک جیسے ٹیلنٹڈ کرکٹرز کے لیے رحمت بن کر نازل ہوا۔ اس نے 25 کی ون ڈے اور 35 کی ٹیسٹ اوسط والے یونس خان کو نہ صرف ٹیم میں جگہ دی بلکہ نمبر 3 پر کھلایا۔ اس کے بعد جو ہوا، وہ داستان باؤلرز ہی سنا سکتے ہیں۔ یونس خان نے پہلے محمد یوسف اور پھر مصباح الحق کے ساتھ مل کے رنز کے ایسے انبار لگائے کہ کیا میگراتھ، کیا پولاک، کیا مرلی کیا وارن، کیا اینڈرسن کیا براڈ، سب ہی بے حال ہوئے۔

پاکستانی قوم نے مگر اپنا وطیرہ نہیں بدلا۔ اگر یونس خان ناکام ہو جاتا تو کہا جاتا کہ اسے تو کرکٹ کھیلنی ہی نہیں آتی، اور اگر کامیاب ہو جاتا تو کہا جاتا کہ اتنے دن میں تو سب کرکٹ سیکھ جاتے ہیں۔ جب بھی یونس خان کچھ اننگز میں ناکام ہوتا، اسے ریٹائرمنٹ کے مشورے دیے جانے لگتے، مگر اس غیور پٹھان کی غیرت اسے ہیتھیار ڈالنے پر آمادہ نہ ہونے دیتی۔ ہر بار جب اس پر تنقید ہوتی، وہ ایک نیا ریکارڈ بنا کر جواب دیتا۔

یہ بھی پڑھیں:   عامر سہیل! اخلاقیات کہاں کھو گئیں؟ سجاد سلیم

اگر کسی کرکٹر کی عظمت اس کے ریکارڈز ہیں تو 34 ٹیسٹ سنچریوں، 53 کی ٹیسٹ اوسط، میچ کی چوتھی اننگز میں 5 سنچریوں کا ریکارڈ، تمام 11 ٹیسٹ ٹیموں کے خلاف سنچری، اور تمام گیارہ ممالک کی سرزمین پر ٹیسٹ سنچری کو دیکھ لیجیے۔ اگر کرکٹر کی ایمانداری اور ملک کے لیے وفاداری ہی اصل امتحان ہے تو مظہر مجید کے بیان کو کیسے بھول سکتے ہیں جس میں اس نے اعتراف کیا کہ وہ شعیب اختر اور شاہد آفریدی کے ساتھ یونس خان کو کبھی اپنے چنگل میں نہ پھنسا سکا۔ اگر کرکٹر کو جانشین تیار کرنے کے پیمانے پر پرکھنا چاہو تو یونس خان کی بطور کپتان سعید اجمل، محمد عامر، عمر اکمل، احمد شہزاد اور فواد عالم جیسے کرکٹر کی دریافت کو دیکھ لیجیے۔ اگر معیار ساتھیوں کو نکھارنا ہے تو سلمان بٹ، کامران اکمل، عمر اکمل، احمد شہزاد، اظہر علی، اسد شفیق، فواد عالم، شان مسعود، عمران فرحت اور یاسر حمید کی سنچریوں کو دیکھ لیجیے جن میں اسی فیصد مواقع پر ان کے ساتھ یونس خان بیٹنگ کر رہا تھا۔ اگر معیار ایوارڈز ہیں تو آئی سی سی کی طرف سے یونس خان کو ”کنگ خان“ کے خطاب ہی کافی ہے۔ یونس خان ہر لحاظ سے ”عظمت“ کی مسند کا اصل حقدار ٹھہرے گا۔