پاکستانی معاشرے میں مذہبی جماعتوں کا کردار - مرزا شہباز حسنین بیگ

پاکستان اسلام کے نام پر قائم ہوا، اور اس کے لیے اس خطہ ارض کے باشندوں نے لازوال قربانیوں کی داستان رقم کی۔ یہ بحث الگ ہے کہ گنتی کے چند علمائے کرام کے سوا سب تقسیم ہند کے مخالف تھے اور قیام پاکستان کی مخالفت میں پیش پیش تھے۔ مگر اس کے باوجود علامہ اقبال کا خواب قائداعظم محمد علی جناح کی سیاسی بصیرت اور مسلمانان برصغیر کی لازوال قربانیوں کی بدولت شرمندہ تعبیر ہو گیا۔

قیام پاکستان کے بعد مسلمانوں کی کثیر تعداد ہجرت کر کے اپنے خوابوں کے دیس میں قیام پذیر ہوئی۔ مختلف رسم و رواج اور علاقائی ثقافت اور روایات سے بندھے لوگ آ بسے جنہوں نے نئے معاشرے کی بنیاد رکھی۔ اعلی اخلاقی اقدار کا حامل معاشرہ ہی اقوام کی تعمیر و ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے مگر صد افسوس کہ ہم بطور معاشرہ اخلاقی کج روی کا خطرناک حد تک شکار ہیں۔ ہر وہ خامی جو تنزلی کی گہری کھائی میں لے جاتی ہے، بدرجہ اتم موجود ہے۔ جھوٹ، ملاوٹ، ناپ تول میں کمی، عدم برداشت، انتہا پسندی، نمود و نمائش، اور جہالت اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم دین اسلام کے فہم سے ابھی تک یکسر نا بلد ہیں۔ اس پس منظر کے بعد ہم اپنے موضوع کی طرف چلتے ہیں۔

دینی مبلغین کا بنیادی کام تو معاشرے میں موجود افراد کی تربیت کر کے بہترین معاشرہ تشکیل دینا ہوتا ہے اور یہ سب تب ہی ممکن ہے جب وہ معاشرے میں موجود مسائل کی درست تشخیص کر سکتے ہوں۔ یہاں ان گنت مذہبی جماعتیں موجود ہیں، خالص مذہبی جماعتیں بھی ہیں جو سیاست سے وابستہ نہیں، اور کچھ مذہبی جماعتیں سیاسی طریقہ سے اقتدار میں آ کر معاشرے کی تبدیلی کی خواہش مند ہیں۔ معاشرے کی تبلیغ اور تربیت سے وابستہ مذہبی جماعتوں کے اخلاص پر تو کچھ عرض کرنے سے قاصر ہوں، مگر ان کے فلسفہ اورطریق کار پر غور و فکر کیا جانا چاہیے۔

معاشرہ چونکہ مسلکی لحاظ سے متنوع ہے لہذا مذہبی جماعتیں بھی مسلکی بنیاد رکھتی ہیں، اور اسی دائرے میں کام کرتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان سب کی مساعی کے باوجود ہم پسماندگی کا کیوں شکار ہیں۔ میرے مشاہدے کے مطابق مذہبی جماعتیں ہمارے ظاہر کو تبدیل کرنے کے لیے کوشاں ہیں، ظاہری طور پر تطہیر کا عمل ہو رہا ہے مگر باطن کی پاکیزگی کے لیے کوئی کردار نظر نہیں آتا۔ مثال کے طور پر مذہبی جماعتوں کی تربیت سے وابستہ افراد پانچ وقت کے نمازی ہیں، چہرے پر سنت رسول بھی موجود ہے، اور سر پر عمامہ یا ٹوپی بھی، شلوار بھی ٹخنوں کو بے نقاب کر رہی ہے، اور یہ افراد زندگی کے مختلف شعبہ جات میں موجود ہیں، استاد، تاجر، دکاندار، سرکاری ملازم، الغرض ایسے افراد زندگی کے ہر شعبہ میں نظر آئیں گے۔ اب ان افراد کے متعلقہ شعبہ زندگی میں جو حقوق و فرائض بنتے ہیں، ان پر نظر ڈال لیں۔ معلم کا فرض ہے کہ وہ طلبہ کو مروجہ سلیبس کے مطابق پوری دیانتداری سے پڑھائے جس کے لیے ریاست اس کو معاوضہ دیتی ہےمگر دوران پیریڈ اگر استاد محترم نےتمام توجہ طلبہ کو سنتوں بھرے اجتماع یا پھر شب جمعہ کے لیے یا مجلس میں شرکت کےلیے شرکت کی ترغیب دینے میں صرف کی ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ انہوں نے اپنے فرض میں خیانت کی ہے۔ تاجر اگر تجارت کے دوران ضابطے پامال کرتا ہے اور دیانتداری سے کام نہیں لیتا، دکاندار ملاوٹ شدہ اشیاء فروخت کرتا ہے، ناپ تول میں کمی کرتا ہے تو اس کے اعمال سے معاشرے کو فوائد نہیں مل سکتے۔

یہ بھی پڑھیں:   پراسرار طاقتوں کا مسکن، پاکستان - ریحان اصغر سید

مذہبی جماعتوں کے موجودہ کردار سے معاشرے میں شاید حقوق اللہ تو ادا ہو رہے ہوں مگر حقوق العباد نہیں، حلانکہ اللہ تعالی اپنے حقوق شاید معاف فرما دے مگر بندوں کے حقوق اس وقت تک معاف نہیں ہوں گے جب تک حق غصب کرنے والا تلافی نہیں کرےگا۔ حقوق العباد کو مرکزی حثیت دینے سے پاکستان کے معاشرے میں بہتری ممکن ہے۔ علامہ اقبال نے فرمایا؛
خدا کے بندے تو ہیں ہزاروں، بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
میں تو اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہوگا

مذہبی جماعتوں کی کوشش سے جو افراد تیار ہو رہے ہیں، وہ اپنی کم فہمی سے کچھ اصول اور ضابطے اپنی ذاتی زندگی میں داخل کر لیتے ہیں۔ مثلا توکل کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اپنی ہر خامی کو نظرانداز کر دیا جائے اور کہا جائے کہ اللہ کی مرضی۔ دنیا فانی ہے لہذا اگلی دنیا کی تیاری کی جائے اور موجودہ دنیا میں ترقی یافتہ معاشرہ تشکیل دینے کی کوشش ہی نہ کی جائے۔ بطور مسلمان آخرت کی تیاری بھی لازم ہے مگر اس دنیا میں بھی ممتاز ہونے پر مذہب نے کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی بلکہ غلبہ اسلام مطلوب ہے۔ مگر مذہبی جماعتیں ان خطوط پر معاشرے کی تشکیل کرنے میں اپنا کردار ادا نہیں کر رہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرتی مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے تبلیغ اور تربیت سے وابستہ مذہبی جماعتیں اپنا جدید نصاب تشکیل دیں تاکہ معاشرے میں مثبت تبدیلیاں رونما ہو سکیں۔ موجودہ نصاب اور منشور سے تو بہتری وقوع پذیر ہوتی نظر نہیں آتی۔ دلیل سے بات واضح کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ کسی معاشرے میں ایک منشور یا مقصد کی خاطر لاکھوں افراد مجتمع ہو جائیں تو اس معاشرے میں انقلاب برپا ہو جاتا ہے، مثال کے طور پر ماؤزے تنگ نے چین میں انقلاب برپا کیا۔ انقلاب ایران تو ماضی قریب کی بات ہے۔ جبکہ پاکستان میں مذہبی جماعتوں کے سالانہ اجتماع میں چاہے وہ کسی بھی مسلک کا ہو، بلاشبہ افرادی قوت کے لحاظ سے لاکھوں میں ہوتا ہے مگر لاکھوں کے یہ اجتماعات معاشرے میں کوئی مثبت اثرات مرتب کرنے میں ناکام ہیں۔ معاشرہ پرانی روش پہ گامزن رہتا ہے۔ عام افراد کی کردار سازی ازحد ضروری ہے، مگر اس نہج پر ہونی چاہیے کہ معاشرے پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہوئے نظر آئیں۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستانی ''طیب اردوان'' - ارشد زمان

اب کچھ تذکرہ مذہبی سیاسی جماعتوں کا۔ قیام پاکستان سے لے کر آج تک ان جماعتوں کو عوام میں قابل ذکر پذیرائی نہیں مل سکی، مگر آفرین ہے کہ انہوں نے کبھی غورو فکر سے اس کا جائزہ لیا ہو۔ انھیں کامیابی نہ ملنے کی سب سے بنیادی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے معاشرے کے حقیقی مسائل کو کبھی اپنے ایجنڈے میں شامل ہی نہیں کیا، عوام کیا چاہتے ہیں اور کن مسائل کا شکار ہیں؟ کبھی ان مسائل کو اپنے سیاسی منشور میں اہمیت نہیں دی، جیسے بدامنی، بے روزگاری، انتہا پسندی، فرقہ واریت، توانائی کا بحران، معیشت کی بدحالی، ان کی آنکھوں سے اوجھل ہیں، اور یہ آغاز سے لے کر آج تک غیر حقیقی مسائل پر اپنی توانائی صرف کرنے میں مشغول ہیں، معاشرے میں ان کا کردار مثبت کے بجائے منفی زیادہ سمجھا جاتا ہے۔ ان جماعتوں نے معاشرے کو سدھار کے لیے کم اور اپنے مفادات کے لیے زیادہ توجہ دی ہے۔ اور افسوس کہ ابھی تک نان ایشوز کی سیاست میں الجھی ہوئی ہیں۔ مذہبی سیاسی جماعتوں کو معاشرے کی حرکیات کا درست اندازہ لگا کر اپنے منشور میں بنیادی تبدیلی لانی ہوگی، اس کے بعد ہی ان کا کردار مثبت اثرات مرتب کرے گا، اور پاکستان کا معاشرہ ترقی کی منازل طے کر سکے گا۔

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!