ظالمو! قاضی جا رہا ہے – آصف محمود

آج بھی یاد ہے، یہ 1999کا ستمبر تھا۔ ’کرگل‘ کے معاملے پر میری کتاب چھپنے کے لیے تیار تھی اور میں چاہ رہا تھا کہ جناب حمید گل اور مرحوم معراج خالد کے ساتھ ساتھ قاضی حسین احمد سے بھی اس پر چند فقرات لکھوا لوں.

میں نے منصورہ فون کیا، جواب ملا قاضی صاحب اسلام آباد ہیں، فلاں نمبر پر فون کر لیجیے۔ اس نمبر پر فون کیا جواب ملا، قاضی صاحب پشاور میں ہیں، آپ فلاں نمبر پر رابطہ کر لیں، پشاور فون کیا تو مجھے بتایا گیا، امیرِ محترم لاہور واپس چلے گئے ہیں۔ قاضی صاحب سے تب میری کوئی شناسائی نہ تھی اور مجھے علم نہیں تھا کہ قاضی صاحب صورت خورشید جیتے ہیں، ادھر ڈوبے اُدھر نکلے، اُدھر ڈوبے ادھر نکلے۔ اٹھتی جوانیوں کے دن تھے، میں جھنجھلا سا گیا۔ میں نے پبلشر سے کہا کہ کتاب چھاپ دیں، تیسرے دیباچے کی ضرورت نہیں۔

اسی جھنجھلاہٹ میں، میں نے اسلام آباد کے ایک روزنامے میں کالم لکھ دیا۔میں نے لکھا: ’’قاضی صاحب میں چار روز سے آپ سے رابطے کی کوشش میں ہوں لیکن آپ اسلامی انقلاب لانے میں اتنے مصروف ہیں کہ آپ سے رابطہ نہیں ہو پا ررہا۔ سوچتا ہوں کہ ابھی سے یہ حالت ہے تو کبھی انقلاب واقعی آ گیا تو آپ کی مصروفیات کا عالم کیا ہوگا؟ آپ کی مقبولیت یہ ہے کہ آپ کو اسمبلی کی تین نشستیں نہیں ملتیں لیکن آپ کی مصروفیت یہ ہے کہ آپ سے رابطہ تک نہیں ہو سکتا۔ آخر آپ کرتے کیا ہیں؟ کیا آپ ملک کا بجٹ بنا رہے تھے، یا دفاعی پالیسیاں طے کرنے میں مصروف تھے‘‘؟

تیسرے روز شام کے وقت میں یونیورسٹی سے واپس بلیو ایریا اپنے ہاسٹل پہنچا تو فون اٹینڈنٹ نے بتایا کہ قاضی حسین احمد صاحب کے دو فون آ چکے ہیں، انہوں نے اپنا نمبر بھی لکھوایا ہے، آپ ان کو کال کر لیں۔ مجھے لگا یہ افتخار یا فرحان کی ’سازش‘ ہے اور مجھے اس نمبر پر کال کر کے ’لافنگ سٹاک‘ نہیں بننا چاہیے۔ جو آدمی اتنا مصروف ہے کہ تین دنوں میں اس سے بات نہیں ہو سکی، وہ مجھے فون کیوں کرنے لگا۔ میں اپنے کمرے میں چلا گیا۔ لیکن تھوڑی دیر بعد پھر فون آگیا، دفتر جماعت سے کوئی شفیق صاحب تھے، کہنے لگے، قاضی صاحب محترم کل تشریف لا رہے ہیں اور آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔

اگلے روز میں دفتر پہنچ گیا۔ قاضی صاحب اپنے روایتی لباس میں تھے، اور آٹھ دس نوجوانوں کی سرزنش کر رہے تھے۔ قاضی صاحب کی سرزنش کیسی ہوتی ہوگی، اس کا اندازہ آپ بخوبی لگا سکتے ہیں۔ شفیق صاحب نے ان کے قریب ہو کر سرگوشی کی اور وہ ہماری طرف پلٹے۔ اب ان کے چہرے پر مسکراہٹ تھی:’’ اچھا آپ ہیں آ صف محمود‘‘۔ میں سلام کو آ گے بڑھا لیکن انہوں نے مجھے پیار سے گلے لگا لیا، اور اپنے پاس بٹھا لیا۔ کہنے لگے: ’’ آپ نے بہت شکوے کیے، بہت گلے کیے، لیکن ٹھیک کیا۔ لیکن میں آپ کو بتاؤں کہ یہ لوگ بہت اچھے ہیں۔ انہوں نے آپ سے غلط نہیں کہا، میرے دورے ہی ایسے ہوتے ہیں۔‘‘ پھر کہنے لگے: ’’ آپ مسودہ لائے ہیں تو مجھے دے دیں میں دیباچہ لکھ دیتا ہوں‘‘۔ میں نے کہا، کتاب تو چھپ گئی ہے۔ وہ مسکرائے اور کہا:’’چلیں جب اس کا دوسرا ایڈیشن آئے گا تو میں لکھ دوں گا‘‘ پھر ہاتھ ملاتے ہوئے کہا ’’پکا وعدہ‘‘۔

اس کے بعد میری کتابیں تو شائع ہوتی رہیں، اردو میں بھی اور انگریزی میں بھی لیکن میں ان سے دیباچہ نہ لکھوا سکا۔ وقت نے مجھے ان کا ناقد بنا دیا۔ ان کی کشمیر اور افغان پالیسی ایک سوال بن کر میرے سامنے آ کھڑی ہوئیں۔ محترمہ سمیعہ راحیل قاضی ایم این اے بنیں تو ایک اور سوال کا اضافہ ہو گیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ سوالات بڑھتے گئے، لیکن ان کی محبتیں کم نہ ہوئیں۔

یادیں ہجوم کیے ہوئے ہیں۔ ایک روز میں منصورہ میں ان کا انٹرویو کر رہا تھا۔ میں نے پہلا ہی سوال یہ کیا: کیا یہ درست ہے کہ آپ جماعت اسلامی کے گوربا چوف ہیں؟ میرا خیال تھا کہ وہ غصہ کریں گے لیکن وہ مسکرا دیے اور صرف اتنا کہا ’’یہ سوال مجھ سے نہیں جماعت کے لوگوں سے پوچھیں ‘‘۔ میں نے کہا ’’ان سے کیا پوچھوں، وہ تو آپ کو امام کہتے ہیں، حالانکہ آپ امام ہیں نہیں‘‘۔ میرا ارداہ تھا کسی طریقے سے انہیں غصہ دلاؤں لیکن وہ صرف مسکرا دیے۔ یہ وہی مسکراہٹ تھی جو گاؤں میں میری ایسی گستاخیوں پر میری ماں کے چہرے پر اترا کرتی تھی۔

ایک دن قاضی صاحب آبپارہ میں ایک احتجاجی کیمپ لگائے ہوئے تھے۔میں نے رابطے کی کوشش کی مگر رابطہ ہو نہ پایا۔ میں ٹیم لے کر چلا گیا۔ قاضی صاحب سے کہا میں انٹرویو کرنے آیا ہوں۔ کہنے لگے، پھر کبھی کر لیں گے، مہمان آئے ہوئے ہیں، جگہ نہیں ہے، کہاں کیمرے لگاؤ گے؟ میں نے کہا قاضی صاحب باہر کیمپ میں، سڑک پر۔ قاضی صاحب کھڑے ہو گئے ’’ چلیں‘‘…۔ ہم سڑک پر بیٹھ گئے، سینکڑوں لوگ ارد گرد اکٹھے ہو گئے اور انٹرویو شروع ہو گیا۔ وہی سخت سوالات، وہی گستاخیاں .. جواب میں وہی شفقت وہی پیار۔

صرف ایک دفعہ قاضی صاحب نے غصہ کیا۔ قرطبہ ٹاؤن کے اسلام آباد دفتر میں، میں ان کا انٹرویو کر رہا تھا۔ میں نے پوچھا’’ آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمن میں سے بڑا سیاست دان کون ہے؟‘‘سوال پوچھتے ہوئے میں خود پر قابو نہ رکھ سکا اور ہنس پڑا۔ قاضی صاحب نے جواب دیا ’’اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ میں مذہبی قیادت کے خلاف بولوں تو آپ کو مایوسی ہو گی‘‘۔ میں نے کہا جواب تو آپ نے دیے دیا، بھلے سے بین السطور ہی دیا۔ قاضی صاحب خاموش رہے۔ میں نے اگلا سوال کیا:’’ شہداء کی جو زمینیں مبینہ طور پر مشرف نے مولانا فضل الرحمن کو دیں، اس پر آپ کیا کہتے ہیں؟‘‘۔ قاضی صاحب کہنے لگے ’’میں مذہبی قیادت کے خلاف کچھ نہیں بولوں گا۔ آپ مغرب کے ایجنڈے کے تحت سوال کر رہے ہیں.‘‘ میں نے کہا ’’ اس کا مطلب ہے مذہبی سیاست جو مرضی کرتی رہے آپ خاموش رہیں گے‘‘۔ قاضی صاحب کہنے لگے’’ آپ چاہتے کیا ہیں‘‘۔ میں نے عرض کی آپ کے منہ سے کلمہ حق سننا چاہتا ہوں۔ کہنے لگے آپ میرے منہ سے مذہبی لوگوں کے خلاف کچھ نہیں سن سکتے۔ میں نے کہا کیا ہم آپ کے منہ سے صرف زرداری کے بارے میں کلمہ حق سن سکتے ہیں؟ یہ سوال..قاضی صاحب کا ہاتھ اٹھا اور کالر مائیک پر جا کرتھم گیا۔ مجھے لگا میں مولانا فضل الرحمن کے بارے میں ایک سوال اور کروں تو قاضی صاحب مائیک اتار دیں گے، میں نے مو ضوع بدل دیا۔ میرا اگلا سوال تھا کہ اب آپ امیر جماعت نہیں رہے لیکن آپ نے ہزارہ میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے دینی جماعتوں کے اتحاد کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا کوئی اتحاد بنے تو جماعت اس میں شامل ہو جائے گی. آپ نے یہ بات کیوں کی. کیا فوج کی طرح سابق امیر کو بھی ریٹائر منٹ کے بعد کچھ عرصہ خاموش نہیں رہنا چاہیے تاکہ نیا امیر اعتماد سے فیصلے کر سکے. قاضی صاحب نے پھر خفگی کا اظہار کیا اور قریب تھا کہ ان کا ہاتھ پھر کالر مائیک کی طرف بڑھتا میں نے بات بدل دی.

ایک روز مولانا غفور حیدری کی رہائش گاہ پر، کوئی درجن سے زیادہ ڈشوں پر مشتمل ان کی غیر معمولی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے میں نے انہیں یہ واقعہ سنایا تو کہنے لگے، جب سے منور حسن آئے ہیں، ہمیں قاضی کی یاد ستاناشروع ہو گئی ہے، اب وہ ہمیں ایک مدبر لگنا شروع ہو گئے ہیں. وہ اتحاد کے بے لوث علمبردار ہیں۔

قاضی کی یاد تو اب سب کو ستائے گی، جنازہ کے بعد لوگ میت کو کندھا دینے آگے بڑھے تو ایک باریش بزرگ کی ٹوٹتی آواز سب کو رلا گئی: ’’ظالمو! قاضی جا رہا ہے‘‘۔
ہمیں سوگوار چھوڑ کر وہ اپنے رب کے مہمان بن گئے۔ خورشید ندیم ٹھیک کہتے ہیں: تنقید و اختلاف کے سارے تیر اب ترکش میں ہی پڑے رہیں گے۔

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ نئی بات میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam