9/11؛ بھیک پاکستان نےمانگی یا امریکہ نے؟ اوریا مقبول جان

تاریخ کی ترتیب و تدوین میں غیرجانبداری ایسی نایاب چیز ہے جسے ڈھونڈنا ناممکن ہے۔ دنیا میں آپ کو کہیں کہیں ایسی تحریریں مل جاتی ہیں جو کم جانبدار ہیں لیکن میرے ملک پاکستان میں اس کی پیدائش کے دن سے لے کر آج تک غیر جانبدار تاریخ ڈھونڈنا ایسے ہی ہے جیسے سیاہ رات میں سیاہ پتھر پر سیاہ چیونٹی کو تلاش کرنا۔ اول دن سے اس ملک کے واقعات کو دو مختلف نظریات رکھنے والےگروہوں نے بیان کیا ہے۔

ایک وہ جو قائداعظم کو سیکولر ثابت کرنے کی ضد پر قائم رہے اور آج بھی اس ملک کی آزادی کی تحریک کو اسی رنگ میں دیکھتے ہیں۔ دوسرے وہ جو اس ملک کو ایک اسلامی نظریاتی ملک سمجھتے ہیں اور دوقومی نظریے کی ایک تاریخ بیان کرتے ہیں جس کا برصغیر میں بانی اورنگ زیب عالمگیر بتایا جاتا ہے۔ دونوں جانب تعصبات اور شخصیات پرستی سے رنگین تاریخ ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ چونکہ پاکستان کو انگریز ورثے میں برطانوی اقدار سے متاثر ایک سیکولر بیوروکریسی، سیکولر اشرافیہ اور سیکولر فوج عطا کر گیا تھا. اسی لیے تاریخ مرتب کرنے والوں پر بھی انھی کا پلڑا بھاری رہا۔ یہ ستر سال اس تگ و دو میں لگے رہے کہ آئندہ نسلوں کو یہ بتایا جائے کہ یہ ملک اسلام کے لیے نہیں بلکہ مسلمانوں کے لیے بنا ہے اور اس ملک میں بسنے والے 20 کروڑ مسلمان ان کے بتائے ہوئے تاریخی واقعات اس لیے جھٹلاتے رہے کہ مسلمان تو ہوتا ہی اسلام کے لیے ہے، اسلام کے بغیر اس کی حیثیت ہی کیا ہے۔

موجودہ دور میں پاکستان کی تاریخ کے خود ساختہ ماہرین کا ایک اور طبقہ وجود میں آ گیا ہے جسے کالم نگار کہتے ہیں۔ ان کے ذاتی تعصب بلکہ بعض مقام پر تو ذاتی بغض و عناد نے تاریخ کا دامن اتنا میلا کر دیا ہے کہ پوری تاریخ جھوٹ کا پلندہ لگنے لگتی ہے۔ آپ ضیاء الحق کو بیک وقت بہترین اور بدترین دونوں ثابت کر سکتے ہیں اور ذوالفقار علی بھٹو کو غدار اور محب وطن کے روپ میں پیش کیا جا سکتا ہے، اور دونوں کے بارے میں مواد گزشتہ بیس سالوں میں لکھے گئے کالموں، کتابوں اور ٹیلی ویژن کے ٹاک شوز میں وافر موجود ہے۔ اب یہ مرتب کرنے والوں کے تعصب، بغض، عناد اور محبت پر منحصر ہے کہ وہ کون سا حصہ چنتا ہے اور کون سا چھوڑ دیتا ہے۔

یہ معاملہ اور بھی گمبھیر ہو جاتا ہے جب تاریخ مرتب کرنے کا معاملہ افواج پاکستان سے متعلق ہو۔ یہ تو ایسی تنی ہوئی رسی ہے جس پر چلنے والا بمشکل تمام ہی سچ بولنے کے فریضے سے عہدہ برآ ہوتا ہے۔ یہاں فساد خلق کا اتنا خوف نہیں ہوتا جتنا اس بات کا ڈر ہوتا ہے کہ آپ محب وطن افراد کی فہرست سے ہی خارج نہ کر دیے جائیں۔

جنرل محمود احمد

ایسے میں اس تاریخی گھٹا ٹوپ اندھیرے میں کچھ لوگ ہوتے ہیں جو سچ کی مشعل ضرور روشن کرتے ہیں۔ ایسی ہی شخصیت لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمود احمد ہیں۔ جنرل صاحب سے میرا ایک محبت کا رشتہ برسوں سے قائم ہے اور بار بار میں ان سے یہ درخواست کرتا رہا ہوں کہ ’’گیارہ ستمبر‘‘ کے واقعات کے حوالے سے آپ کے بارے میں اس قدر جھوٹ سچ بولا جاتا رہا ہے تو پھر آپ خود ساری تفصیلات قوم کے سامنے کیوں نہیں رکھتے۔ ہر دفعہ ان کا جواب ہوتا کہ میں اس جھوٹ پر مبنی میڈیا پر نہ جانے کی قسم کھا چکا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان کے امراض خبیثہ کا شافی علاج - ریحان اصغر سید

ان کی 1965ء کی پاک بھارت جنگ پر لکھی گئی کتاب ”illusion of victory“ جیت کا سراب ایک ایسی دستاویز ہے جو پاکستان ہی نہیں پاکستان کے باہر اکثر ممالک کے فوجی تعلیمی اداروں میں مقبول ہے۔ یہ کتاب 1965ء کی جنگ کے دوران پاکستان کی سیاسی اور فوجی غلطیوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ ایسی غلطیاں جن کی وجہ سے ہمیں صرف چھ سال بعد ذلت آمیز شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ چھ سو سے زائد صفحات پر مشتمل اس کتاب میں کئی حصے ایسے تھے جن پر پاکستان فوج کو اعتراض تھا اور جی ایچ کیو اسے چھاپنے کی اجازت نہیں دے رہا تھا۔

1986 میں لکھی گئی اس کتاب کو اکتوبر2001ء میں ترمیمات کے ساتھ قابل اشاعت سمجھ کر منظوری دے دی گئی۔ کتاب کا دیباچہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے لکھا ہے۔ کتاب دراصل ان خامیوں کی نشاندہی کرتی ہے، ان کمزوریوں سے آگاہ کرتی ہے، اس اعتماد کی کمی کا بتاتی ہے اور ان عالمی، علاقائی اور فوجی سازشوں سے بے نقاب کرتی ہے کہ کس طرح ہم نے اپنے دفاع سے اغماض کیا اور چھ سال بعد اس کا خمیازہ بھگتا۔ کتاب کا آخری فقرہ سب کچھ بیان کرتا ہے۔
”The seeds of defeat had been sown on the banks of River Tavi on 2nd September, 1965 and the bitter harvest of humilation was reaped in East Pakistan in December 1971” (شکست کا بیج 2 ستمبر 1965ء کو دریائے توی کے کنارے بویا گیا اور اس کی فصل دسمبر1971ء کی ذلت آمیز شکست کی صورت مشرقی پاکستان میں کاٹی گئی)۔ اس فقرے کے پس منظر میں وہ ساری کہانی ہے کہ کس طرح 1965ء میں ایک مکمل جیت کی جانب بڑھتی ہوئی جنگ کو روک کر بھارت کو منصوبہ سازی کا موقع دیا گیا۔

جنرل محمود احمد کی اس حق گوئی کو نظر میں رکھتے ہوئے، میں نے ان سے بار بار ستمبر کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر، امریکی دباؤ کی کہانیاں، پرویز مشرف کا سرنڈر اور دیگر امور کے بارے میں گفتگو کو طشت ازبام لانے کے لیے کہا، جس پر انھوں نے میڈیا پر آنے سے انکار کر دیا۔ البتہ میرے ساتھ ایک کرم فرمائی کی کہ میں ان کے بیان کردہ حقائق کو اپنے کالم کے ذریعے عوام تک پہنچا سکتا ہوں۔ یہ اجازت میرے لیے ایک ایسی نعمت ہے کہ 9/11 کے واقعہ سے لے کر افغانستان پر امریکی حملوں تک کے مختصر عرصہ کے بارے میں ایسے بےبنیاد واقعات اخبارات، رسائل اور کتب میں گردش کر رہے ہیں کہ ان میں سے زیادہ تر ان افراد کے حوالے سے بیان ہوئے ہیں جو وہاں موجود ہی نہ تھے، جبکہ جنرل محمود احمد سے زیادہ کون ان دنوں کا گواہ ہوگا بلکہ ان پر تو یہ دن بیت رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   مسٹرٹرمپ! بہت ہوگیا - عابد محمود عزام

جنرل محمود احمد 11 ستمبر کے واقعات سے پہلے امریکہ میں کیا کررہے تھے۔ ان کی بیان کردہ تفصیلات حیرت انگیز ہیں۔ پرویز مشرف کے ابتدائی دو سالوں میں پاکستان پر امریکہ کی جانب سے شدید پابندیاں لگی ہوئی تھیں۔ حالت یہ تھی کہ کلنٹن نے بھارت کا طویل دورہ کیا اور پاکستان کی منت سماجت کے بعد چند گھنٹوں کے لیے یہاں قدم رکھا اور پاکستانی قوم کو ٹیلی ویژن کے ذریعے خطاب کر کے نصیحتیں کر کے چلے گئے۔ امریکا کے ساتھ اپنی ساکھ بحال کرنے اور امداد جاری کرنے کے لیے حکومت پاکستان نے اس زمانے کے وزیر خارجہ عبدالستار کو کشکول دے کر امریکہ بھیجا کہ وہ وہاں سے کچھ امداد لے کر واپس آئیں، لیکن ان کا یہ تفصیلی دورہ ناکام و نامراد ثابت ہوا۔ ایسے میں جنرل محمود احمد سے کہا گیا کہ چونکہ آپ آئی ایس آئی کے سربراہ ہیں، اور مدتوں آئی ایس آئی اور سی آئی اے کا ایک گہرا تعلق افغان جنگ کے سلسلے کے حوالے سے رہا ہے، اس لیے یہ کشکول آپ تھامیں اور اس وسیلے سے امریکی انتظامیہ کو قائل کرنے کی کوشش کریں۔ جنرل محمود کا یہ امریکی دورہ 9/11 کے تین دن پہلے ختم ہو جانا تھا۔ وزیر خارجہ عبدالستار کی طرح یہ دورہ بھی ناکام و نامراد ثابت ہو چکا تھا، اور جنرل محمود واپسی کے لیے اپنی شیڈول فلائٹ کے ذریعے واپس جانے والے تھے کہ نیویارک کے کچھ بااثر پاکستانی افراد نے انھیں کچھ دنوں کے لیے رک جانے کو کہا تاکہ کچھ ری پبلکن اور ڈیمو کریٹ سینیٹرز سے ان کی ملاقات کرائی جا سکے۔ یوں عین ان کی امریکہ موجودگی میں 11 ستمبر آ گیا اور ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ ہو گیا۔ اس کے بعد پوری دنیا کے پریس اور پاکستانی میڈیا نے ایک شور مچانا شروع کر دیا کہ جنرل محمود اس وقت امریکی کنٹرول میں ہیں، انھیں رچرڈ آرمٹیج دھمکی دے رہا ہے کہ ہمارا ساتھ دو ورنہ پتھر کے دور میں پہنچا دیں گے۔ لیکن ان تمام اخباری اطلاعات کے برعکس جن کا کوئی چشم دید گواہ نہیں، جنرل محمود کہتے ہیں کہ جیسے ہی9/11 ہوا، جو کشکول میرے ہاتھ میں تھا، وہی کشکول اب امریکیوں کے ہاتھ میں آ چکا تھا اور وہ مجھ سے اس سارے معاملے میں مدد کی بھیک مانگ رہے تھے۔

امریکی نائن الیون کے واقعے کی وجہ سے ہونے والی اپنی رسوائی کے خوف سے اس قدر پریشان تھے کہ کولن پاؤل جیسا تنومند آدمی جنرل محمود کے سامنے ایسے ڈھے جائے گا کہ پاکستان سے تعاون کی بھیک مانگتے ہوئے وہ جنرل محمود کے کندھے پر اپنا سر رکھ دے گا اور اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگیں گے، اور صرف یہی الفاظ تھے کہ اگر پاکستان نے ہمارے ساتھ تعاون نہ کیا تو ہم اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال نہیں کر سکیں گے۔
(جاری ہے)