شوق کی تلاش – سید قاسم علی شاہ

کوئی نہیں چاہےگا کہ اس کی توانائیاں ضائع ہو جائیں، کوئی نہیں چاہتا کہ وہ ناکام ہو جائے، کوئی نہیں چاہتا کہ اس کی زندگی بے مقصد ہو اور کوئی نہیں چاہتا کہ اسے کامیابی نہ ملے۔ ہر شخص ناکامی سے بچنے کے لیے غور و فکر کرتا ہے اور یہی غور و فکر اسے سنجیدگی کی طرف لے کر جاتا ہے جبکہ سنجیدگی کی سب سے پہلی نشانی یہ ہے کہ بندہ یہ دریافت کرتا ہے کہ میں نے کس طرف جانا ہے، میرے لیے ہدایت کہاں پر ہے۔ اگر یہ احساسات نہ ہوں تو درحقیقت یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری کی نشانی ہے۔ وہ لوگ جنھیں خیال نہیں آتا کہ ہم نے سیکھنا ہے، ایسےلوگ صرف قبرستان میں پائے جاتے ہیں۔ زندہ انسان ہمیشہ اپنے آپ میں بہتری لانا چاہتا ہے، وہ اپنے کل کو آج سے بہتر بنانا چاہتا ہے۔

زندگی کے دو حصے ہیں، پہلے حصے میں شعور نہیں ہوتا جبکہ دوسرے حصے میں شعور ہوتا ہے۔ عام طور پر لوگ شعوری زندگی میں یہ نہیں سوچتے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے کس کام کے لیے پیدا کیا ہے، زیادہ تر کی یہی سو چ ہوتی ہے کہ ڈاکٹر یا انجینئر بن جائیں۔ یہ ذہن میں ہونا چاہیے کہ دنیا میں صرف ڈاکٹر یا انجینئر کی ہی فیلڈ نہیں ہیں بلکہ اور بھی بہت ساری فیلڈز ہیں۔ لوگوں کی سوچ اتنی محدود ہے کہ وہ سوچتے ہیں کہ میں ڈاکٹر یا انجینئر نہیں بن سکا لہذا میں ناکام ہوں۔ کامیابی تک جانے کے شاید سو زیادہ راستے ہیں لیکن ان کا انتخاب ہی صرف دو راستے ہوتے ہیں، انہوں نے کبھی سوچا ہی نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں انجینئر بننے کےلیے پیدا نہیں کیا، انہوں نے کبھی اپنے اندر کے آرٹسٹ کو نہیں دیکھا ہوتا ، انہوں نے کبھی اپنے اندر کے سائنسدان کو نہیں دیکھا ہوتا، انہوں نے کبھی اپنے اندر کے ٹیچر کو نہیں دیکھا ہوتا، انہوں نے یہ کبھی نہیں دیکھا ہوتا کہ جو میرے اندر ٹیلنٹ ہے، وہی میرا اصل ہے۔

دنیا میں دو طرح کے لوگ ہیں، پہلی طرح کے لوگ وہ ہوتے ہیں جنھیں صبح جلد اٹھنا عذاب لگتا ہے، انہیں اپنے کام سے کوئی محبت نہیں ہوتی، ایسے لوگوں کی زندگی میں کوئی چمک نہیں ہوتی، ان کی زندگی میں بوریت ہوتی ہے۔ دوسری طرح کے وہ لوگ ہوتے ہیں جن کو اپنے کام سے محبت ہوتی ہے، یہ محبت ان کو رات دیر تک جاگنے اور صبح جلدی اٹھنے پر مجبور کرتی ہے، ان کو تھکاوٹ سے کسی قسم کی کوئی واقفیت نہیں ہوتی کیونکہ وہ اپنے جسم سے نہیں بلکہ اپنی روح سے کام کرتے ہیں، ایسے لوگ پہلے لوگوں سے زیادہ سپارکل، چمک والے، ایکٹیو اور شوق والے ہوتے ہیں۔ 98 فیصد لوگ وہ کام کر رہے ہوتے ہیں، جنہیں اس کام کےلیے پیدا ہی نہیں کیا گیا ہوتا، وہ شوق کے بغیر زندگی گزار رہے ہوتے ہیں، نظر آنے میں تو وہ زندہ ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں مر چکے ہوتے ہیں۔ دو فیصد لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کا جو شوق ہوتا ہے، وہی ان کا کام ہوتا ہے۔

انسان کے دو چہرے ہیں، ایک چہرہ وہ جو نظر آتا ہے جبکہ دوسرا چہرہ وہ ہوتا ہے جو نظر نہیں آتا، وہ چہرہ کام کا چہرہ ہوتا ہے اور وہی اصل چہرہ ہوتا ہے کیونکہ وہ شناخت ہوتا ہے۔ زندگی میں شناخت کے لیے سفر کی ضرورت ہوتی ہے، اور وہ سفر بقول فیض حسن سیال کے خود شناسی کا سفر ہوتا ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ ہر شخص کے اندر ایک خزانہ ہوتا ہے اور وہ خزانہ شوق اور دلچسپی کا خزانہ ہوتا ہے، انسان کی جس چیز میں دلچسپی ہوتی ہے نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے پاس اس چیز کے متعلق ویسی معلومات، ویسی کتابیں، ویسی مجالس، ویسے دوست، ویسا ماحول اور ویسے ہیروز مل جاتے ہیں۔ ہر شخص کے ہیروز مختلف ہوتے ہیں کیونکہ انسپائریشن مختلف ہوتی ہے۔ جو لیڈر ہوگا اس کے لیے محمد علی جناح ؒ ہیرو ہوں گے جبکہ جو مفکر ہوگا، اس کے لیے حضرت علامہ محمد اقبال ؒ ہیرو ہوں گے۔ انسان کا دوسروں سے انسپائر ہونا، اللہ تعالیٰ کی انسان پر رحمت ہے۔ انسان واحد مخلوق ہے جو انسپائر ہوتی ہے، اور کوئی مخلوق کسی سے انسپائر نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر انسپائریشن کا مادہ رکھا ہے، اور اس مادے کی وجہ سے وہ اپنے شوق کو تلاش کرتا ہے۔ جس طرح ہر شخص اپنے جاننے والے کو پہچان لیتا ہے، اسی طرح جب اندر کے شوق کے متعلق چیزیں سامنے آتی ہیں تو وہ ان کو پہچان لیتا ہے۔

اس سے بڑا جرم اور کوئی نہیں ہے کہ کوئی شخص اپنی زندگی بغیر شوق کےگزار دے، شوق کے بغیر زندگی ایسے ہی ہے جیسے کانٹوں پر سونا اور تلواروں پر چلنا۔ اگر شوق سلامت ہو تو انسان کو کوئی تلوار نہیں کاٹ سکتی. حضر ت سلطان باہو فرماتے ہیں:
ایمان سلامت ہر کوئی منگے
شوق سلامت کوئی ہو
شوق اللہ تعالیٰ کے دربار کی سوغات ہے، اسے کوئی کوئی پہچانتا ہے، کسی کسی کو اس کی شناخت ہوتی ہے۔ شوق کا پتا لگ جانا اعتماد پیدا کر دیتا ہے، پھر انسان کو راستے کی رکاوٹ، رکاوٹ نہیں لگتی، جیت اور ہار کی پروا ختم ہو جاتی ہے، دوسروں کی تنقید کا اثر نہیں ہوتا۔ شوق والا معاوضے اور وقت کی قید سے آزاد ہوجاتا ہے، شوق کی مصروفیت میں اردگرد کا احساس ختم ہو جاتا ہے۔ شوق کے راستے پر چلنے والا مقابلہ نہیں کرتا، مقابلہ ہمیشہ تب ہوتا ہے جب اپنی صلاحیتوں کا علم نہ ہو۔ شوق کا راستہ عبادت کا راستہ ہے بلکہ یہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی طرف جانے کا راستہ ہے۔ جس شخص کو اپنے شوق کا پتہ لگ جاتا ہے، وہ اپنے کام کو عبادت سمجھتا ہے، اس سے بڑا اور کوئی مقام نہیں ہے کہ اگر اپنا کام عبادت لگنے لگ پڑے جبکہ عام طور پر لوگوں کو اپنا کام عذاب لگتا ہے۔

دنیا کا سب سے قیمتی سوال یہ ہے کہ میرا شوق کیا ہے، یہ اتنا سنجیدہ سوال ہے کہ جس کو بھی اس کا جواب مل گیا، پھر اس کو خریدا نہیں جا سکا۔ شوق انسان کو خواب بنانے پر مجبور کر دیتا ہے، وہ سکون سے نہیں رہنے دیتا۔ شوق کی آگ سے پکی ہوئی ہانڈی ضائقہ دار ہو تی ہے، خلیل جبران کہتا ہے کہ وہ روٹی مزیدار نہیں ہوتی، جس کے اندر شوق یا محبت نہیں ہوتی۔ ایک خاتون رائٹر برتن بناتی تھی، کسی نے اس سے پوچھا کہ تم برتن بناتی ہو، اس نے جواب دیا نہیں میں برتن نہیں بناتی، میں تو اپنے آپ کو بناتی ہوں، اسی طرح شوق والا اپنے کام کو نہیں دکھاتا بلکہ اپنے کام کے ذریعے اپنے آپ کو دکھاتا ہے۔ وہ شوق کسی کام کا نہیں ہے جس سے کوئی فائدہ حاصل نہ ہو۔ خوش قسمتی یہ ہوتی ہے کہ شوق اور زمانے کی ضرورت دونوں مل جائیں، جب اس طرح ہو تا ہے تو بندہ عبدالستار ایدھی بن جاتا ہے۔

جو لوگ اپنے شوق کو دریافت نہیں کرتے، وہ صرف زندگی کا سرکل پورا کرتے ہیں۔ انسان کی سب سے بڑی تمنا یہ ہوتی ہے کہ وہ سدا زندہ رہے۔ جینئس انسان وہ ہوتا ہے جو اپنے وقت اور کام کی انویسٹمنٹ اس انداز سے کرے کہ اس کے جانے کے بعد بھی لوگوں کو فائدہ ہو۔ جو شخص اپنے مزاج میں مثبت ہوتا ہے، اور وہ اپنے شوق کو بھی تلاش کر لیتا ہے، وہ شخص پھر ایسا کام کر جاتا ہے کہ پھر وہ امر ہو جاتا ہے۔ شوق کایہ فائدہ ہوتا ہے کہ اس کا صرف ایک حصہ خود اس شخص پر لگتا ہے، جس کا اس کو شوق ہوتا ہے جبکہ باقی حصوں سے زمانہ فائدہ اٹھاتا ہے۔ زندگی میں مزہ پیدا کرنے کے لیے اپنا شوق دریافت کریں کیونکہ بغیر شوق کے مزہ نہیں آئےگا۔ 65 سال کی زندگی میں انسان نوے ہزار گھنٹے کام کرتا ہے، اس کے دو ہی طریقے ہیں، ایک یہ کہ ان نوے ہزارگھنٹوں کو رو کرگزارہ جائے، اور ایک یہ ہے کہ ان کو کسی مقصد کے تحت گزارہ جائے۔ حضرت علامہ اقبال ؒ فرماتے ہیں کہ اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی۔ ہماری زندگی کا راز ہمارے ہی اندر ہے جب تک اس اندر کو تلاش نہیں کیا جائےگا، تب تک قرار نہیں آئےگا۔ چھوٹے انسان کی تقدیر دوسروں کے ہاتھ پر لکھی ہوتی ہے جبکہ بڑے انسان کے ہاتھ پر زمانے کی تقدیر لکھی ہوتی ہے۔ حضرت قائداعظم محمد علی جناح ؒکی وجہ سے کتنے لوگوں کی زندگی بدل گئی کیونکہ ان کے ہاتھ پر زمانے کی تقدیر لکھی ہوئی تھی جبکہ تمام جہانوں کی تقدیر ہمارے آقاحضور اکرم ﷺ کے ہاتھ پر لکھی ہوئی ہے یعنی آپ ﷺ جہانو ں کے لیے رحمت ہیں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ اے میر ے مالک مجھے ضائع ہونے بچا، مجھے چھوٹے چھوٹے مسئلوں سے نکال اور مجھے بامقصد انسان بنا، مجھے خود شناسی عطا کر، ہمیشہ دینے والا بنا اور آسانیاں بانٹنے والا بنا۔ آمین

Comments

FB Login Required

Protected by WP Anti Spam