وہ مسکرا رہی تھی - محمود فیاض

کالج سے واپسی پر میں شدید غمگین تھا۔ کیا زندگی ہے میری بھی؟ دل بات بات پر ڈوب رہا تھا۔ ڈییریشن کا شدید دورہ تھا۔
۔
کالج سے اپنے گھر جانے والی وین میں بیٹھ گیا اور خیالوں میں گم ہو گیا۔ زندگی میں دکھ اور تکلیفیں ہی تکلیفیں ہی ہیں، دل و دماغ ایک ہی بات دہرا رہے تھے۔
۔
میری زندگی میں کیا ہے جس سے میں خوش ہوں۔ والدین مشکل سے میری پڑھائی کا خرچ اٹھا رہے ہیں۔ پڑھ کر بھی میں کیا تیر مار لوں گا، زندگی یونہی سسکتے سسکتے گذر جائے گی، اصلی خوشی مجھے کبھی نصیب نہیں ہوگی۔
۔
میں سوچتا جا رہا تھا، وین چلتی جارہی تھی، اور ہر اسٹاپ پر کچھ مسافر اتر جاتے ، کچھ نئے چڑھ جاتے۔
۔
وہ لوگ کون ہوتے ہیں جو خوش نصیب ہوتے ہیں؟ جن کے نصیب میں ہر خوشی لکھی ہوتی ہے اور وہ واقعی میں دل سے خوش ہوتے ہیں؟ ایسے ڈھیروں سوال سوچتے میں بے نظری سے ہر منظر کو گزار رہا تھا۔ میں وین میں ہوتے ہوئے بھی وہاں نہیں تھا۔
۔
شہر کی مصروف سڑکوں سے وین جیسے ہی کینٹ کے علاقے میں داخل ہوئی تو وین کے مسافر بہت کم رہ گئے۔ میں نے بھی زرا اپنی ٹانگیں پھیلا لیں کہ اب گھر تک زیادہ رش کا اندیشہ نہیں تھا۔
۔
وین اگلے اسٹاپ پر رکی تو دو بھنگن عورتیں وین میں سوار ہو گئیں۔ ان میں اس ایک کے ہاتھ میں بڑا سا جھاڑو بھی تھا جس سے وہ سڑکیں صاف کرتے ہیں۔ اس نے وہ نیچے اپنے پاؤں کے پاس رکھ لیا۔
۔
میں نے یونہی ان دونوں کا جائزہ لیا۔ ان میں سے ایک پر مجھے بہت ترس آیا۔ جس نے جھاڑو اپنے پاؤں میں رکھا تھا۔ وہ سیدھی ہوئی تو میں نے دیکھا کہ اس کی ایک آنکھ میں سفید موتیا تھا، اور وہ بہت بھیانک لگ رہا تھا۔ وہ بہت موٹی بھی تھی۔
۔
اب کیا ہے اس کی زندگی میں؟ میں نے اپنے ڈیپریشن میں اس کو بھی ڈال لیا۔ کیا فائدہ ہے اس کی زندگی کا؟ موٹی، بیمار، ایک آنکھ بیکار، غربت اور بھنگن کی نوکری، میں نے اپنے حساب سے اس کو ایک ٹریش بیگ سے بھی کمتر قرار دیدیا تھا۔ اور اپنی زندگی کے ساتھ ساتھ اس کی زندگی کو بھی فضول ہی خیال کر رہا تھا۔
۔
پھر یہ ہوا کہ اس کی سہیلی جو اس کے ساتھ ہی وین میں سوار ہوئی تھی، اس نے آگے جھک کر اس کے کان میں کچھ کہا، اور وہ موٹی، بھدی بھنگن مسکرائی۔ اس کی مسکراہٹ سلو موشن میں آج بھی میرے دماغ کے کسی خانے میں محفوظ ہے۔ وہ بات سن کر پیچھے کو ہٹی، پہلے اس کے ہونٹ کھلے، پھر دانت نمایاں ہوئے، اور مسکراہٹ طلوع ہوتے ہوتے اس کی آنکھوں تک جا پہنچی۔
۔
وہ اپنی پورے چہرے سے مسکرا رہی تھی، اس مسکراہٹ سے پھیلتی خوشی اس قدر زیادہ تھی کہ مجھے اپنا ڈیپریشن دھلتا ہوا محسوس ہوا۔ وہ کیسے مسکرا سکتی ہے؟ میرے دماغ نے دہائی دی۔ وہ تو ایک آنکھ سے کانی ہے۔ بھنگن ہے، سڑکوں پر جھاڑو پھیرتی ہے۔ وہ کیسے خوش ہو سکتی ہے۔ اس کی مسکراہٹ میں اتنی خوشی کیسے ہو سکتی ہے؟
۔
وہ لمحہ میری زندگی تبدیل کر گیا۔ مجھے اس بھنگن کی مسکراہٹ وہ سبق سمجھا گئی جو شاید میں زندگی میں کبھی نہ سیکھ پاتا۔ اس نے مجھے بتا دیا کہ خوشی کا تعلق، نہ اچھا نظر آنے سے ہے، نہ اچھا پہننے سے، اور نہ ہی اپنی من چاہی زندگی گزارنے سے۔
۔
خوشی تو آپ کے دل میں ہر وقت موجود رہتی ہے۔ بس اس کو ہونٹوں تک لانے والا جملہ چاہیے۔
۔
بس وہ دن اور آج کا دن، میں جب بھی ڈیپریس ہوتا ہوں، مجھے وہ مسکراتی ہوئی بھنگن یاد آ جاتی ہے، جو ایک سفید آنکھ، اپنے پھیلے ہوئے وجود، اور پاؤں میں پڑے ہوئے جھاڑو کے باوجود اپنے پورے دل سے مسکرا رہی تھی، اور اس کی مسکراہٹ کی چمک سے میرے دل کی دھند بھی دور ہو رہی تھی۔

Comments

محمود فیاض

محمود فیاض

محمود فیاض نےانگلستان سے ماس کمیونیکیشنز میں ماسٹرز کیا اور بین الاقوامی اداروں سے وابستہ رہے۔ آج کل وہ ایک عدد ناول اور ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اساتذہ، کتابوں اور دوستوں کی رہنمائی سے وہ نوجوانوں کے لیے محبت، کامیابی اور خوشی پر لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں