اسلام پسندوں اور لبرلز کی بھیانک خلیج – عابد محمود عزام

قرآن مسلمانوں کو نصیحت کرتا ہے ”اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑا و اختلاف نہ کرو، ورنہ تمھارے اندرکمزوری پیدا ہوجائے گی اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی۔“ مسلمانوں کو ہر قسم کے اختلاف سے روکا گیا ہے، نہ رکنے کا نتیجہ کمزوری ہے۔ آج دنیا بھرکے مسلمانوں کی ایک ہی کتھا ہے، جوعالم اسلام سے لے کر ہر ہر ملک میں نہ صرف مذہبی، سیاسی، اقتصادی، سماجی، معاشرتی، نظریاتی اورفکری سمیت دیگر بے بہا ٹکڑوں میں بٹے ہوئے، بلکہ ہر طبقہ دوسرے سے کمال بغض وعناد بھی رکھتا ہے، جس کے نتیجے میں ذلت وخواری مقدر ہے، کیونکہ ہم میں سے ہر ایک گروہ، طبقے، مسلک اور نظریے کی تمام تر محنت وکوشش فریق مخالف کو نیچا دکھانے اور غلط ثابت کرنا ہے۔ نتیجہ یہ کہ اصل مسائل سے توجہ ہٹ گئی اورایسے بکھیڑوں میں الجھے جن پر تمام ترکوشش بھی لاحاصل۔ اگرکچھ حاصل ہوا تو صرف کمزوروناتواں ریاست اورمایوس، متعصب، ضدی اور ہٹ دھرم معاشرہ۔

یوں تو روز اول سے تقسیم درتقسیم کے مراحل نے قوم کو آگے نہیں بڑھنے دیا،کیونکہ ہم میں سے ہر ایک نے ملک وقوم کے لیے سوچنے کی بجائے اپنے گروہ کے مفاد کو سامنے رکھا۔ حق وباطل کے فیصلے بھی تعصب میں لتھڑی اسی سوچ پر پروان چڑھے، لیکن اب لبرل اور اسلام پسند کی بھیانک اور ہولناک دراڑ دن بدن بڑھے ہی جارہی ہے، جو مسائل میں الجھی قوم کے لیے تباہی کا پیغام ہے۔ یہ معاشرہ فطری طور پر اسلام پسند واقع ہوا ہے۔ لبرلزکی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں، جو کسی صورت معاشرے میں قبولیت ومقبولیت حاصل نہیں کرسکتے، لیکن دونوں طبقات کشتوں کے پشتے لگانے کے لیے ایک دوسرے کے خلاف خم ٹھونک کر میدان میں اترے ہوئے ہیں۔ اپنے نظریات کو ایک طرف رکھ کر ضد کو شعار بنا چکے۔ چھوٹی چھوٹی بات پر یوں ایک دوسرے کے مدمقابل آکھڑے ہوتے ہیں، جیسے دھرتی پر اس سے بڑا مسئلہ کوئی اور ہے ہی نہیں۔ یہ ضد کا ہی کرشمہ ہے کہ لبرل و اسلام پسند دونوں کا تما م تر عقل و شعور اور علم و فہم صرف ایک چلغوزے پر مرکوز ہے۔ حقیقت میں مسئلہ چلغوزہ نہیں، بلکہ اسلام پسند اور لبرلز کی بھیانک تقسیم ہے، جو ہٹ دھرمی کی انتہا تک پہنچتی جارہی ہے۔

ایک مولانا صاحب نے سوشل میڈیا پر خواتین کے حجاب کو ایک چلغوزے کے چھلکے سے سمجھانے کی سعی کی، جس پر سیخ پا ہوکر لبرلز ہٹ دھرمی و عناد کا پرچم تھامے میدان میں کود پڑے اور اسلام پسندوں پر خواتین کی توہین کا الزام لگاتے ہوئے چڑھائی کردی، جسے اسلام پسندوں کو نظرانداز کردینا چاہیے تھا، لیکن ان کی بھی اکثریت اپنے تمام تر مشاغل چھوڑ چھاڑ ایک چلغوزے کو ہی محور بنائے بیٹھے ہیں، اپنی علمیت دکھائی بھی جارہی ہے تو صرف ایک چلغوزے پر، حیرت ہے۔ سچ ہے ضد انسان کو اندھا کردیتی ہے۔ یہ تو ایک مثال ہوئی، ورنہ اس سے پہلے سیکڑوں بار دونوں فریق، پوری طرح حریف بن کر ایک دوسرے کے سامنے آن کھڑے ہوئے۔ امریکا و پیرس میں حملہ ہو یا افغانستان میں امریکی بمباری، ممتاز قادری کی پھانسی ہو یا عبدالستار ایدھی کی وفات، امریکا میں انتخابات ہوں یا ترکی میں ناکام بغاوت، پشاور اسکول پر حملہ ہو یا پاکستان میں امریکی ڈرون حملے، اسلامی نظریاتی کونسل کے فیصلے ہوں یا حقوق نسواں بل کی منظوری،حمزہ علی عباسی کا میڈیا پر قادیانیوں کی حمایت ہو یا ماروی سرمد اور حافظ حمداللہ کی تکرار، یہ تو چند مثالیں ہوئیں، اس قسم کی سیکڑوں مثالیں دی جاسکتی ہیں، جن میں اسلام پسندوں اور لبرلز کے درمیان خوب دنگل ہوا۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی، بلکہ آئے روز یہ دنگل کسی نہ کسی بات پر ہوتا رہتا ہے اور دونوں فریق جہاد سمجھ کر میدان میں کود پڑتے ہیں۔

محسوس ہوتا ہے کہ ہر بات میں فریق مخالف کی مخالفت کرنا دونوں کے مزاج میں درآیا ہے۔ فریقین اپنے رویوں سے اپنے نظریات کی نفی کرتے ہیں۔ لبرلز تمام مذاہب کے احترام کے دعوے دار، لیکن اسلام پسندوں کی ضد میں بلاوجہ اسلام پر بے جا تنقید اور شعائر اسلام کا استہزا کرنا ان کا وطیرہ بن چکا ہے، جب کہ اسلام پسند، شریعت اسلامی کے نفاذ کی بات کرتے ہیں، لیکن لبرلزکی ضد میں اسلامی اصولوں کی بھی رعایت نہیں کرتے، بات بات پر لبرلزکو طعن و تشنیع کا نشانہ بنانا لازم ٹھہرا، جو قطعاً اسلام کے مزاج سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ضد پر مبنی ان رویوں سے بظاہر ایک فریق دوسرے کو چت تو کرسکتا ہے، لیکن کچھ ایسا نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا جو ملک وقوم کے لیے سود مند ہو، بلکہ یہ بھیانک خلیج معاشرے کوکسی نئی افتاد سے دوچارکرسکتی ہے۔ اس بھیانک تقسیم سے ملک دشمن قوتوں کا خوش ہونا فطری امر ہے، کیونکہ معاشرہ جتنے ٹکڑوں میں بٹے گا دشمن اتنا ہی فائدہ حاصل کرسکے گا، بلکہ مجھے تو لگتا ہے کہ سازش کے تحت کچھ محدود اور مخصوص لوگوں کے ذریعے اس خلیج کو مزید گہرا کیا جارہا ہے، جس میں سرمایہ دارانہ سوچ کار فرما ہے۔ کسی کو زبردستی اس کے نظریات سے پیچھے نہیں ہٹایا جاسکتا۔ ہر کسی کو اپنے نظریات عزیز ہوتے ہیں، لبرلز اور اسلام پسند بھی یقینا اپنے اپنے نظریات پر مضبوطی سے قائم ہیں، لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ لبرلز اور اسلام پسندوں کی دھینگا مشتی سے دیگر بہت سے بڑے بڑے مسائل پس پردہ چلے گئے ہیں۔

دیکھا جائے تو معاشرے میں تقسیم کی تمام شکلیں ایک ہی تقسیم کے گرد گھومتی ہیں اور وہ ظالم اور مظلوم کی تقسیم ہے۔ بعض مذہبی ٹھیکیدار،سرمایہ دار، جاگیردار، وڈیرہ اور سیاست دان کی تمام تر کوشش و محنت صرف اپنے مفادات کے حصول تک محدود ہے، جب کہ غریب کو دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں۔ ایک ظالم اور ایک مظلوم۔ اسلام پسند اور لبرلز کی یہ بھیانک تقسیم بھی متوسط اور نچلے طبقے میں ہی شدت سے پروان چڑھ رہی ہے، جن کے نزدیک اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی بجائے فریق مخالف کے خلاف آواز بلند کرنا فرض عین ہے۔ سوشل میڈیا پر اس کے لاتعداد مظاہر دیکھے جاسکتے ہیں، حالانکہ یہ پلیٹ فارم استحصالی طبقے کے خلاف ایک توانا ہتھیار کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس پلیٹ فارم نے کمزور کو زبان دی اور آواز اٹھانے کا موقع فراہم کیا۔ مظلوم اس سے ظالم کو ناکوں چنے چبوا سکتا تھا، لیکن یہاں بھی مظلوم کو کسی اور ہی بکھیڑے میں الجھا دیا گیا ہے۔ ہر جگہ استحصال نچلے طبقے کا ہی ہورہا ہے، لیکن یہ بات وہ سمجھنے سے قاصر ہے۔ کبھی اسے سیاست کے نام پر استعمال کیا جاتا ہے توکبھی مذہب کے نام پر اس کی جان لے لی جاتی ہے۔ جلسوں، جلوسوں، احتجاجوں اور ریلیوں سے لے کر سوشل میڈیا تک دوسروں کی جنگ وہی طبقہ لڑرہا ہے، جس کے پسینے کی کمائی وہ خود نہیں،کوئی اورکھاتا ہے۔
کوئی کسی کے نظریات نہیں چھین سکتا۔ زور زبردستی خیالات تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کرسکتا۔ ملک میں کسی بھی خوفناک خلیج کا مطلب ایک دوسرے کے خلاف محض دشنام طرازی اور فریق مخالف کو نیچا دکھانا ہے، اس سے کیا حاصل؟ کچھ بھی تو نہیں۔ حکمران اشرافیہ، بدعنوان ظالم انتظامیہ اور طاقتور استحصالی طبقات کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے پورا نظام تباہ ہوچکا۔ ہر طرف کرپشن کا راج، غریب کو انصاف میسر ہے نہ جینے کا حق۔ مہنگائی اور ناجائزمنافع خوری روکنے والا کوئی نہیں، بے روزگاری ہی بے روزگاری، ہر جگہ میرٹ پامال اور مافیاز طاقت پکڑ چکے ہیں۔ ایسے معاشرے میں دیگر مباحث میں الجھنے کی بجائے ظلم کے خلاف آواز اٹھانا اولین فریضہ ہونا چاہیے۔

سب سے بڑی ضرورت معاشرے کی فلاح ہے۔ ایک ایسی ریاست کا قیام ہے جو اپنے شہریوں کا بھلا چاہتی ہو اور جہاں شہریوں کو آزادی سے زندگی گزارنے کا حق مل سکے۔ اگر کرنا چاہیں تو لبرل و اسلام پسند اس پر محنت کریں۔ اپنی کاوشوں کا محور ایسی ریاست کے قیام کو بنائیں۔ اسلام پسند اور لبرلز ریاستی نظام کی بہتری اور اس میں اصلاحا ت لانے پر توجہ دیں۔ لبرلز انسانیت کے علمبردار اور اسلام پسند اسلامی شریعت کے نفاذ کے دعوے دار۔ دونوں نظریات میں ایسی ریاست کا قیام ضروری ہے۔ لبرل اگر واقعی انسانیت کا درد رکھتے ہیں تو اسلام پر بے جا تنقید کرنے کی بجائے دکھی اور بے بس انسانوں کا غم بانٹیں۔ ان کے حق میں آواز اٹھائیں۔ ان کی تکالیف کو ختم کریں۔ اسلام پسندوں کے ساتھ مل کر لائحہ عمل طے کریں۔ استحصالی نظام کی بیخ کنی کریں۔ استحصالی طبقے سے مجبور و ناداروں کو خلاصی دلائیں اور اگر اسلام پسند واقعی اپنے دعوے میں سچے ہیں تو انسانیت کے غمخواروں کے ساتھ مل کر ایسی آئیڈیل ریاست کے قیام کے لیے کوشش کریں جس کی مضبوط بنیادیں مدینہ منورہ میں ہیں۔ ایسی ریاست جہاں شہریوں کو تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔

زندگی کے ہر شعبے میں حقیقی اور فطری عدل و مساوات قائم کرنا ریاست کی ذمے داری ہے۔ کوئی بھی معاشرہ عدل وانصاف اور مساوات کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا۔آئیڈیل ریاست میں مذہبی، اخلاقی اور قانونی اعتبار سے تمام لوگ برابر ہوتے ہیں، امیر وغریب اور حاکم ومحکوم کی کوئی تمیز نہیں ہوتی۔ قانون اورآئین سب پر یکساں لاگو ہوتا ہے۔ سماجی، معاشی اور اقتصادی حقوق برابری کی بنیاد پر حاصل ہوتے ہیں۔ آئیڈیل ریاست ملک سے جرائم کا خاتمہ کرکے ہر فرد کو جان و مال کی حفاظت فراہم کرتی ہے۔ یہ سب وہ باتیں ہیں جن سے نہ تو کسی لبرل کو انکار ہوسکتا ہے اور نہ ہی کسی اسلام کو۔ اگر دونوں ہی اپنے دعوو¿ں میں سچے ہیں تو اپنی توانائیاں اسلام اور انسانیت کے اس مقصد پر مرکوزکریں۔

عابد محمود عزام

عابد محمود عزام 2011ء سے شعبہ صحافت میں میگزین رپورٹر، فیچر رائٹر اور کالم نویس کی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔ روزنامہ ایکسپریس اور اسلام میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ معاشرے میں تعمیری اور مثبت سوچ کا فروغ ان کا مشن ہے

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam