مردانہ دماغ کی سیر – رضوان اسد خان

یہ جو کہتے ہیں کہ ”گند“ تو دیکھنے والے کے دماغ میں ہوتا ہے، یہ بالکل ٹھیک کہتے ہیں.
جی نہیں، میں لبرل نہیں ہو گیا… 😊
پوری بات تو سن لیں..

مخالف جنس کو صرف دیکھنا یا نہ دیکھنا ہی ایک مرد کے اختیار میں ہوتا ہے؛ کیونکہ دیکھنے کے بعد جو ”برقی رو“ آنکھوں سے اپنا سفر شروع کر کے جہاں جہاں تک اپنا اثر دکھاتی ہے، اس کے لیے پھر اسے اس ”بےچارے“ کی اجازت کی ضرورت نہیں رہتی. گویا ایک گولی ہے جو آپ کے ٹرگر دبانے پر نکل گئی ہے اور اب اسے روکنا ناممکن ہے.

چلیں شروع سے بات شروع کرتے ہیں:
پیدائش سے بھی پہلے ایک مرد میں، اس کا مخصوص مردانہ ہارمون، ”ٹیسٹوسٹیرون“ اپنا ”اثر دکھانے“ کا آغاز کر دیتا ہے. یہ ہر اس راستے کی ہر اس چوکی کو الرٹ (یعنی ”ایکٹیویٹ“) کر دیتا ہے جو جنسی کشش کی طرف جاتا ہے. اور وہاں موجود اہلکار (نیوروٹرانسمٹرز) اسے پہچان لیتے ہیں اور یہ جان لیتے ہیں کہ ”جنرل صاحب“ کی پسند کیا ہے. تاکہ بعد ازاں جب بھی مخصوص بصری (بشمول سمعی یا لمس سے پیدا ہونے والی) تحریک و تحریص کے ”ایجنٹ“ وہاں سے گزریں تو فوراً ”جنرل ٹیسٹوسٹیرون“ کو جگا دیا جائے.

بلوغت کے وقت ”جنرل صاحب“ جب پوری قوت سے اٹھتے ہیں اور مردانہ جسم پر مارشل لاء نافذ کر دیتے ہیں تو یہ دور جسمانی تاریخ کا ”نازک ترین“ دور بن جاتا ہے. بڑی بڑی تبدیلیاں ”جنرل صاحب“ کی پسند و ناپسند کی بنیاد پر رونما ہوتی ہیں. اس دور میں بالخصوص اور بعد میں بالعموم ”جنرل ٹیسٹوسٹیرون“ کو جوش دلانے کا سب سے مؤثر ذریعہ وہ بصری ”پیغام بر“ لہریں ہوتی ہیں جو جنس مخالف پر نظر پڑنے سے جنم لیتی ہیں.

یہ لہریں آنکھ کے پردے سے ”پیغام“ وصول کر کے برق رفتاری سے اپنا سفر شروع کرتی ہیں اور دماغ کے ہر اس حصے تک پہنچا دیتی ہیں جن کا تعلق بالواسطہ یا بلا واسطہ جنرل صاحب سے ہوتا ہے. اور یوں جیسے ہی دماغ کے وہ علاقے سگنل بھیجتے ہیں، جنرل صاحب”بےچین“ ہو کر اپنی ”سپاہ“ کے ہراول دستوں کو ”متحرک“ کر دیتے ہیں. پھر ایک پورا نیٹ ورک حرکت میں آتا ہے اور دماغ پر اپنے کنٹرول کے ذریعے جسم کے دیگر حصوں کو بھی ”مناسب“ طریقے سے استعمال میں لاکر جنس مخالف کو اپنے زیر نگیں کرنے کی جنگ میں جھونک دیتا ہے.

یہ تو ہے سیدھا سادہ ”فطری“ یا ”جبلی“ ماڈل. لیکن انسان چونکہ دیگر جانوروں سے ”آگے“ ہے، اسی لیے اس جنگ میں ”ہتھیاروں“ کو منظم طریقے سے استعمال کرنے کےلیے ایک زبردست ”کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم“ بھی نصب ہے. اس کا ہیڈ کوارٹر دماغ کے اگلے حصے میں ہے جسے ”پری فرنٹل کارٹیکس“ کہتے ہیں. یہ تحریکی مواد کے جسمانی ردعمل کو صورتحال کے مطابق کنٹرول کرتا ہے، اور جہاں سخت جوابی کارروائی (یعنی جوتے پڑنے) کا خطرہ ہو، وہاں فوراً جنرل صاحب کو سپر سیڈ کر کے پسپائی اختیار کرنے کا حکم جاری کرتا ہے. اس ”کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم“ کی افادیت کا انحصار اول تو دماغ کے دوسرے حصوں کی ”تربیت“ پر ہے. اور دوسرے نمبر پر ایک کیمیکل، ”ڈوپامین“ کی مقدار بھی ردعمل کی شدت کا تعین کرتی ہے. مثلاً جس دماغ کو سکھایا گیا ہوگا کہ جائز اور ناجائز تعلقات کیا ہوتے ہیں، وہ ایک فلٹر لگا کر ناجائز سمت میں ہونے والی کارروائی کو روک دے گا. اور جس دماغ کی تربیت جتنی ناقص ہوگی وہ اتنا ہی جانوروں کے مماثل ہو گا.

اسی طرح مخصوص بصری سگنلز کے تحت ڈوپامین کی مخصوص مقدار نکلتی ہے جو کہ تلذذ کی کیفیت پیدا کرتی ہے. لیکن کسی دوا کی طرح رفتہ رفتہ دماغ اس سگنل کا عادی ہو جاتا ہے اور اسی سگنل کی موصولی پر ڈوپامین کی وہ مقدار خارج نہیں کروا پاتا جو تلذذ کی کیفیت کے لیے ضروری ہوتی ہے. پھر اس کے لیے سگنل کی طاقت بڑھانی پڑتی ہے. یہی وجہ ہے کہ مخلوط ماحول میں رہنے والے جنس مخالف کے ”محض“ چہرے کے لیے کشش کم ہو جاتی ہے، اور پھر انہیں اس حسِ تلذذ کے لیے آہستہ آہستہ جسم کے دیگر اعضاء کا دکھائی دینا ضروری محسوس ہوتا ہے. اور یوں جنس مخالف کو کم سے کم اور تنگ سے تنگ اور بالآخر کپڑوں کے بغیر دیکھنے کے جتن کیے جاتے ہیں اور اگلے مرحلے پر ڈوپامین کی اسی ”نشہ آور“ ڈوز کے لیے غیر فطری طریقے اختیار کیے جاتے ہیں.

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایسا نہیں کہ زیادہ اختلاط کی عادت اور تربیت سے ”ہلکے بصری سگنلز“ (مثلاً بے پردہ پر ملبوس خاتون) کی تحریص بالکل ختم ہو جاتی ہو. یہ چونکہ ایک فطری نظام ہے، لہٰذا کسی بیماری کی عدم موجودگی میں ایسا ناممکن ہے. اسی لیے سب سے بڑا خطرہ یہی ہے کہ مرد ان کمزور سگنلز کو مقوی کرنے کی کوششوں کی طرف مائل ہوگا جس سے حیوانی جبلت جو جنرل ٹیسٹوسٹیرون کی تسکین چاہتی ہے، وہ تربیت پر حاوی ہو جائے گی جس کا بد ترین انجام ریپ کی صورت میں نکل سکتا ہے.

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ الکوحل اور کچھ منشیات پری فرنٹل کارٹیکس کے ممانعتی رسوخ کو بری طرح متاثر کر کے حیوانی جبلت کو مزید ابھارتے ہیں. ایسے میں جنس مخالف خود سے ایسی ”ناز و ادا“ اور ہیجان خیزی اختیار کرے، تو یہ چیز کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو مکمل طور پر مفلوج کر سکتی ہے.

حاصلِ کلام یہ کہ برے نتائج سے بچنے کا واحد حل یہی ہے کہ ”اختیار کی حدود“ کو پہچانا جائے، اور وہیں پر استعمال کر لیا جائے جہاں یہ امکان کی سرحدوں کے اندر اندر ہو. یعنی کسی بھی خاتون کو دیکھتے ساتھ ہی نظر ہٹا لی جائے، کیونکہ اس کے بعد معاملات ہاتھ سے نکل جاتے ہیں. اور خواتین بھی مردوں کے لیے تحریصی بصری لہروں کی تقویت کا سبب نہ بنیں اور حجاب اختیار کریں، کیونکہ:

”گند تو مرد کے دماغ میں ہوتا ہے.“

Comments

FB Login Required

رضوان اسد خان

ڈاکٹر رضوان اسد خان پیشے کے لحاظ سے چائلڈ سپیشلسٹ ہیں لیکن مذہب، سیاست، معیشت، معاشرت، سائنس و ٹیکنالوجی، ادب، مزاح میں دلچسپی رکھتے ہیں، اور ان موضوعات کے حوالے سے سوالات اٹھاتے رہتے ہیں

Protected by WP Anti Spam