تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور رائٹ ٹریک؟ سردارجمیل خان

ہمارے اصل مسائل کیا ہیں؟
کرپشن، غربت، جہالت، اقربا پروری، بیڈ گورننس، دن بدن بڑھتی مہنگائی، قرضوں کا بوجھ، لاقانونییت، میرٹ کا استحصال، جعل سازی پر مبنی فرسودہ انتخابی نظام، کرپٹ سیاست زدہ ادارے، بجلی، پانی و گیس کا فقدان، ناجائز تجاوزات، کھلے ہوئے گٹر، بدبو دار ہسپتال، جعلی ذاتیں/جعلی ڈگریاں/جعلی ادویات، شرمناک شرح خواندگی، عدم تحفظ، قبضہ گروپ، سر عام چوری ڈکیتی، غیر یقینی صورت حال، اقتدار کے نقب زن ٹرن کوٹ سیاستدان، بانجھ/ بنجر/بوجھ بیوروکریسی، رشوت، سفارش، خوشامد اور موقع پرستی پر مبنی کلچر، دہشت گردی کا عفریت، ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنے کا چسکا، فتووں کی فروانی، فرقہ پرستی کی لعنت، منافقت کے اہرام، لاوارث عوام۔
ان مسال کا حل چار امور سے مشروط ہے
1. فری اینڈ فیئر الیکشن۔
2. آزاد، خود مختار و غیر جانبدار ادارے۔
3. بے رحم نظام احتساب۔
4. نیشنل ایکشن پلان پر سختی سے عملدرآمد۔

ان مسائل کو حل کرنے کے لیے کوئی مثبت و سنجیدہ بحث کرنے نیز پارلیمنٹ مں قانون سازی کرنے کے بجائے ہمارے سیاستدان اور پڑھا لکھا طبقہ لا یعنی موضوعات پر بحث و مباحثے اور تنقید برائے تنقید میں مشغول ہے۔ پاکستانی قوم کی بدنصیبی یہ رہی کہ اسے اچھی حکومت تو درکنار 1977ء کے بعد سے ڈھنگ کی اپوزیشن بھی نصیب نہیں ہوئی ماسوائے قاضی حسین احمد، نوابزادہ نصراللہ خان اور اب کسی حد تک عمران خان۔ کیا کوئی فرد ایماندری سے بتا سکتا ہے کہ آج کی تاریخ میں نواز حکومت کے مقابلے میں پپلزپارٹی، ایم کیو ایم، جے یو آئی، جماعت اسلامی، اے این پی، مسلم لیگ ق اور عوامی ملی پارٹی میں سے کوئی ایک جماعت بھی صحیح معنوں میں اپوزیشن جماعت ہے؟

ان حالات میں بحثیت قوم بچاؤ اور نجات کا ایک ہی راستہ ہے کہ پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی سمیت تمام محب وطن سیاسی جماعتیں سردست ایک ایسی حکومت کے قیام کے لیے متحد ہو جائیں جو حکومت
٭ جاندار انتخابی اصلاحات کرے۔
٭ کے پی کے پولیس کی طرح قومی اداروں بالخصوص نیب اور الیکشن کمیشن کی آزادی و خود مختاری کا میکینزم دے۔
٭ کرپشن کے خلاف سخت ترین قانون سازی کرے، حرام خوری کے تمام سوراخ بند کرے نیز لوٹی ہوئی دولت کی واپسی یقینی بنائے۔ اور
٭ تمام فرقہ پرست، شدت پسند و انتہا پسند مذہبی اور سیکولر تنظیموں کو بین کر دے۔

یہ بھی پڑھیں:   جماعت اسلامی کے لیے مہربانوں کے تیار کردہ 5 ٹریپ! - وسیم گل

1988ء سے 2017ء تک کے طویل دورانیے میں نوازشریف، بےنظیر بھٹو، پرویزمشرف، آصف زرداری، مولانا فضل الرحمن، اسفند یار ولی، محمود اچکزئی اور الطاف حسین نے نہ صرف یہ کہ ان چار اہم اور بنیادی اصلاحات کو قانونی شکل دینے میں عدم دلچسپی اور غیر سنجیدگی کا ثبوت دیا بلکہ انھی سیاستدانوں نے کرپشن، لوٹ مار، مفاد پرستی، مذہبی منافرت، افراتفری، انتہا پسندی، ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے کلچر کو پروان چڑھایا، لہذا پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور سیاسی و انتخابی بارگیننگ کرنے کے بجائے متحد ہو کر پہلے ملک کو رائٹ ٹریک پر لانے کے لیے مشترکہ جدوجہد کریں۔ نیا یا اسلامی پاکستان بہت بعد کی باتیں ہیں۔