تعلیم کی دستک کچھ تلخ حقائق-محمد فرحان نیازی

قوموں کی زندگی میں تعلیم بنیادی حثیت رکھتی ھے دنیا کی تمام قومیں تعلیم س ہی اپنے اہم ترین مقاصد حاصل کر رہی ہیں یہ ایک حقیقت ھے کہ پاکستان کو بنے 67سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ھے لیکن ہم اج تک ایک قوم نہیں بن سکے آخر جس قوم کا یکساں نظام تعلیم نہ ہو وہ ایک قوم کیسے بن سکتی ھے

پچھلے دنوں اسی سلسلے میں پاکستان تحریک دستک کے ایک اجلاس میں شرکت کا موقع ملا میں نے اجلاس کے دوران تحریک دستک کے بانی جناب عظمت اللہ خاں صاحب سے سوال کیا کہ آخر اس نظام تعلیم میں ایسی کون سی خرابی ھے کہ انھوں نے باقی سارے مسائل کو چھوڑ کو بنیادی نظام تعلیم کے ڈھانچے کو مضبوط کرنے کی ٹھان لی ھے انھوں نے اس کا جواب کچھ اس طرح سے دیا کہ ایسا نظام تعلیم جو غیر ملکی خیرات اور فنڈز کے بل بوتے پر بنایا گیا ہو اور اسی کے مقاصد کے لئے کام کرے ایسا نظام تعلیم جو قوم کو لسانی بنیادوں پہ تقسیم کرے ایسا نظام تعلیم جس میں غریب کا بچہ ٹاٹ پہ بیٹھ کہ اور امیر کا بچہ اے سی کلاس رومز مین پڑھے ایسا نظام تعلیم جو نئی نسل کے زہن سے نظریہ پاکستان کو ہی مٹا دے ایسا نظام تعلیم جس سے بچہ بچہ ٹیویشن کا محتاج ہو جائے ایسا نظام تعلیم جس سے جعلی ڈگری والا وزیر تعلیم بنا دیا جائے

ایسا سسٹم جس میں 60 فیصد سے زیادہ آبادی لکھنا پڑھنا نہ جانتی ہو ایسے نظام میں جمہوریت ایک بہترین انتقام تو ہو سکتی ھے لیکن نظام نہیںغربت، لاقانونیت ،بدعنوانی ،رشوت سفارش قتل وغارت اسٹریٹ کرائمز ،انتہا پسندی فرقہ وارانہ قتل عورتوں اور بچوں کی تلفی اور بہت سے مسائل ملک میں موجودہ نظام کا ہی نتیجہ ہیں انتہا پسندی ،فرقہ ورانہ قتل ،عورتوں اور بچوں کے حقوق کی حلق تلفی اور بہت سے مسائل ملک کے موجودہ نظام کا ہی نتیجہ ہیں.

عظمت اللہ خان بولتے جا رہے تھے اور میں سنتا جا رہا تھا،اور میرے زہن میں قائداعظم محمد علی جناح کا وہ ارشاد گونج رہا تھا جو انھوں نے 1947 میں پہلی تعلیمی کانفرس میں فرمایا تھا،اس میں کوئی شک نہیں کہ ریاست کے مستقبل کا دارومدار اس بات پہ ھے کہ ھم اپنے بچوں کو کس طرح کی تعلیم مہیا کرتے ہیں، کسی بھی ملک کی تعلیم کا دارومدار والدین ،اساتزہ اور حکومت پر ہوتا ھے ہمارے ملک کے استاد کا یہ حال ھے کہ ووٹر لسٹیں وہ تیار کرے ،مردم شماری کرنا استاد کا کام ھے حلقہ بندیاں استاد کرے سیاسی جلسے جلوسوں میں تعداد بڑھائے یہ سب حلانکہ حکومت کی زمہ داری ھے ،2002 میں تعلیم کے لئے جی ڈی پی کا 3 فیصد مختص کیا گیا،جو مزید بڑھانے کا بجائے 2006 میں 51۔2 اور 2006 میں 47۔2 اور 2009 میں کم کر کے 2فیصد کر دیا گیا

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان تو امر ہے - بشارت صدیقی

حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نے اپنے انتخابی منشور میں 5 فیصد کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن افسوس جب تعلیمی بجٹ پیش کیا گیا تو وہ پچھلے سال کی نسبت مزید کم ہو کے 7۔1 فیصد کر دیا گیا ایک عالمی رپورٹ کے مطابق دنیا میں جتنے بچے تعلیم سے محروم ہیں ان کا دس فیصد کا تعلق پاکستان سے ھے اسی طرح اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے مطابق پاکستان میں پانچ کروڑ 70 لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں ،یو این او کے اسپیشل انڈیکس میں پاکستان کا 173ممالک میں 166 واں نمبر ھے پاکستان میں ہر چار میں سے ایک بچہ سکول جاتا ھےاور کم سے کم ساٹھ بچوں کے لئے ایک استاد موجود ھے ،ترقی یافتہ ممالک اپنے بجٹ کا 25 فیصد تعلیم پر خرچ کرتے ہیں.

بنگلہ دیش جیسا ملک بھی اپنے بجٹ کا 1۔14 فیصد تعلیم پہ لگا رہا ھے ان اعدادو شمار کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان ان صفوں میں سب سے آخر میں کھڑا نظر اتا ھے پنجاب حکومت صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی لگانے کا اعلان کر چلی ہے اور آئین کی شق 25.fکے تحت پانچ سے چھ سال تک کے بچے کو تعلیم کی مفت فراہمی حکومت کی زمہ داری ہے۔میاں محمد شہباز شریف صاحب جو انقلابی ویژن رکھتبے ہیں ان کو اب یہ جان لینا چاہیئے کہ لیپ ٹاپ اسکیموں اور میٹرو بس منصوبوں سے زیادہ توجہ پاکستان کے تعلیمی نظام کو ضرورت ہے۔

کیونکہ کسی بھی ملک کی ترقی کا انحصار اس کی تعلیمی پالیسیوں پر ہوتا ہے۔اگر ملک میں 10 کروڈ لوگ مابائل فون استعمال کرتے ہیں تو یہ ترقی نہیں ہے ہم اپنے ملک میں موبائل نہیں بنا سکتے جو کہ ایک تلخ حقیقیت ہے۔حکومت کو فلفور چاہیے کہ تعلیمی کانفرس منعقد کرے اور طبقاتی نظام تعلیم کو ختم کرکے ملک میں یکساں نظام تعلیم نافذ کیا جائے۔ امریکہ،جاپان،چین،فرانس،روس الغرض دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک میں یکسیاں نظام تعلیم نافذ ہے جو غریب اور امیر کا میڑک اور ائے /او لیول کا فرق ختم کر دیتا یے۔اسی طرح دوسرے ممالک میں اگر غیر ملکی زبان لازم قرار دیجاتی ہے تو وہاں بھی ٹویشن،رٹے بازی اور بقل جیسے امراض پیدا ہوجاتے ،گر انہوں نے سب سے پہلا کام یہ ہی کیا کہ ہر سطح کے تمام مضامین کے نصابات اپنی کی زبان میں وضع کئے اور انہیں نافذ العمل بنایا۔

یہ بھی پڑھیں:   نئی پود میں رومانویت پسندی کے بڑھتے رجحانات - عمر خالد

اور وہ وقت آ گیا ہے کہ ملکی سالمیت اور بقاء کے لیے تعلیم کی دستک کو عام کیا جائے۔پاکستان تحریک دستک بھی اس بات پہ یقین رکھتی ہے کہ سرکاری ادارے کا چپڑاسی،محنت کش کا بیٹا اور ادارے کا سربراہ کا بیٹا ایک ہی کمرے میں بیٹھ کے علم کی روشنی سے سرفراز ہو گےتو تعلیمی نظام بہتر ہونے میں بہت کم وقت درکار ہوگا۔حکومت کو بھی یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ نظام تعلیم کو بہتر بنا کر اور شرح خواندگی کو بڑھا کر بیشتر مسائل حل کئے جا سکتے ہیں اور اس تعلیمی انقلاب سے ہر میدان میں انقلاب آئے گا ضرورت اس امر کی ہے کہ نظام تعلیم کو اس طرح سے منظم کیا جائے کہ پڑھا لکھا پاستان کا نعرہ حقیقی معنوں میں شرمندہ تعبیر ہو.