آرتھوڈکس روس اور تہذیبوں کا تصادم – ناصر فاروق

آج کی دنیا میں ”تہذیبیں“ مرکزی مباحث کا ناگزیر موضوع بن چکا ہے۔ صدی پیچھے علامہ محمد اقبال اور سید ابولاعلی مودودی قدرے فصاحت سے مشرق میں یہ موضوع شعر، نثر، تشریح، تصریح، اور تفسیر میں پیش کر چکے تھے۔ مغرب میں یہ موضوع برطانوی مؤرخ آرنلڈ جے ٹوائن بی کے مطالعہ تاریخ سے متعارف ہوا۔ انگريزی تاریخ نئی تعریفات و تشریحات سے دوچار ہوئی۔ بہترین انسانی تہذیب کی وضاحت میں ٹوائن بی نے مذہب کا کردار از سر نو زندہ کر دیا۔ ٹوائن بی نے لکھا:
”انسانی تعلقات کے تمام مسائل کا حل مذہب کے پاس ہے، خواہ یہ تعلقات والدین اور اولاد کے ہوں، یا ایک قوم کے دوسری قوم سے تعلقات ہوں۔ آدمی کے سامنے ہمیشہ سے یہ سوال رہا ہے کہ آیا اُسے اپنی طاقت کی پرستش کرنی ہے یا خدا کي طاقت پر ایمان لانا ہے۔“

تاریخ کی تہذیبی تشریح نے دنیا کا نقشہ بدل دیا، مغربی مفکرین اور مؤرخین کی سوچ کا سانچہ بدل دیا۔ قومی ریاستیں، نسلی درجہ بندیاں، وطن پرستی، ثقافتی و لسانی شناختیں بےوقعت ہوگئیں، اور جغرافیائی لکیروں میں سمٹ گئیں۔ تہذیبی شناخت کی تلاش، تراش، اور اظہار ناگزیر ضرورت بن گیا۔ شکست خوردہ روس نے امریکہ اور یورپ سے زیادہ تہذیبی شناخت کی ضرورت کو محسوس کیا۔ اپریل دو ہزار پانچ میں صدر ولادیمیر پوٹن نے قوم سے خطاب میں کہا کہ ”کمیونزم کی موت اورسوویت یونین کا خاتمہ بیسویں صدی کی سب سے بڑی سیاسی و جغرافیائی تباہی تھی۔“

مغرب میں عیسائی تہذیب کا احیاء اور روس میں شناخت کا بحران متوازی خطوط پر چلے۔ امریکہ یورپ کی مانند روس نے بھی عیسائیت میں پناہ تلاش کی۔ صدر پیوٹن نے کہا آرتھوڈکس عیسائیت روس کی قومی شناخت ہے۔ ماسکو کے مرکزی گرجاگھر کے راہب کیریل نے دوہزار بارہ کے انتخابات سے پہلے فرمایا کہ جب سے پوٹن نے روس کا اقتدار سنبھالا، ملک مضبوط و مستحکم ہوا، اور یہ سب ”خدا کا معجزہ“ ہے۔ پوٹن کے تحت کریملن نے لوگوں کو چرچ تک واپس لانے کے لیے کافی تگ و دو کی ہے۔ پیٹریارک کیریل صدر پیوٹن اور وزیراعظم مدودیف کے ساتھ آرتھوڈکس عیسائیت کے عالمی اتحاد کے لیے کئی غیر ملکی دورے کر چکا ہے۔

نئی تہذیبی شناخت کی تراش خراش محض آرتھوڈکس عیسائیت کے احیاء اور فروغ تک ہی محدود نہیں رہی ہے۔ اسلامی تہذیب سے تصادم میں بھی روس کا نیا کردار ابھر کر نمایاں ہوا ہے، اس میں کمیونسٹ سوویت یونین کی شکستہ نفسیات بھی موجود ہے۔ نئے آرتھوڈکس روس کو مغربی تہذیب کا یورو ایشیائی ورژن سمجھا جاسکتا ہے، یہ چیچنیا سے شام تک اور ترکی سے وسطی ایشیائی ریاستوں تک اسلامی تہذیب سے حالت جنگ میں ہے۔ روس کی یہ حالت جنگ موجودہ حالات میں باقی مغرب سے مختلف حیثیت اختیار کر گئی ہے۔ روس کے سامنے بطور سپر پاور احیاء، تہذیبی شناخت، اورعلاقائی بالادستی کے ناگزیر سوالات کھڑے ہیں۔ کریملن بہ یک وقت تینوں سمتوں میں کام کر رہا ہے۔ امریکی صدر اوباما کی غیر فعالیت اور نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر سنجیدہ صورتحال نے مشرق وسطٰی میں روس کی مرکزی حیثیت مستحکم کر دی ہے۔ عالم صہیون نے بھی روس کی آرتھوڈکس آمریت میں ایجنڈے کی آسانیاں محسوس کی ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ماسکو جا کر پیوٹن انتظامیہ سے مستقبل کے امکانات پر راز و نیاز کیے ہیں۔

حالات یہ ہیں، روس مشرق وسطٰی کی بساط پر کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، شیعہ سنی مہروں کی خطرناک چالیس چل رہا ہے۔ ایک جانب بشارالاسد اور ایران کا اتحادی ہے، داعش کے مقابل مجاہدین پر بم برسا رہا ہے۔ دوسری جانب شام کی مسلمان آبادیاں ملیامیٹ کر رہا ہے۔ ترکی میں دہشت گردی کے واقعات کی ہر ممکن منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ اس سلسلہ میں کرد نسل پرست دہشتگرد اسرائیل اور روس کی پراکسی قوت بن چکے ہیں۔

ولادیمیر پیوٹن نے نئی خارجہ پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے، کہ مشرق وسطی کے محاذوں پر ماسکو واشنگٹن کا بہتر متبادل ہوگا، بھارت اور ایران کے ساتھ اتحاد میں علاقائی اہداف حاصل کیے جائیں گے۔ معروف برطانوی صحافی رابرٹ فسک نے تازہ مضمون It’s not Donald Trump who matters now in the Middle East – it’s Putin میں اسی جانب اشارہ کیا ہے۔

کمیونسٹ سوویت یونین کا گوہر یتیم آرتھوڈکس روس آج مشرق وسطٰی کی راکھ میں نئی تہذیبی شناخت کرید رہا ہے، مگر یہاں سوائے خاک کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ بارودی خاک زرخیز ہو ہی نہیں سکتی۔

انسانی تہذیب کی حتمی شناخت متعین ہو چکی ہے، مستقبل صرف اسلام کا ہے۔ مؤرخ آرنلڈ ٹوائن بی نے کہا تھا، ”سولھویں صدی تک اسلام نے مغرب کو دیوانگی کی حد تک متاثر کیا۔ روحانیت کی وہ تلوار سونتی کہ اسلحے کے ذخیرے تک مغرب کا دفاع نہ کرسکے۔ وحدانیت اسلام کا ایسا انمول تحفہ ہے جسے ٹھکرایا نہیں جاسکتا۔ اسلام آج بھی روحانیت کا طاقتور مشن مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔“

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam