بھوک – آصف اقبال

”ابے اس اشارے پر ساری آبادی رک رک کے چلتی اب۔ ایک دفعہ گاڑی قطار میں لگ جائے تو چار دفعہ تو اشارہ بند ہو ہی جاتا۔ اتنی گاڑیوں کی قطار میں تیرے سے پانچ سو روپے اکٹھے نہیں ہوتے۔ بکواس کرتا رہتا ہے میرے ساتھ۔ سیدھی طرح بتا دے پیسے کدھر کرتا ہے تو۔“ استاد نے ایک چمانٹ جھلو کے منہ پر لگائی۔

جھلو کو خود سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ پیسے کیوں نہیں اکٹھے ہو رہے۔ اچھی بھلی اس کی دیہاڑی لگتی تھی۔ کام پہ آتے ہی استاد نے پہچان لیا تھا۔
واہ کیا چٹا رنگ ہے تیرا۔ مانگنے والا لگتا ہی نہیں۔ ابے سمجھ ۔ دیہاڑی اسی کی لگتی جو شکل سے مانگنے والا نہ لگے۔ آج کل مانگنے والوں کو کون خیرات دیتا۔ پیشہ پور ہیں جی۔ ارے ظالمو! پیشے والے ہی پیشہ کریں گے نا۔ کیوں بے فضلے۔ اب تیری جو دونوں ٹانگیں نہیں ہیں تو بھیک کی ضرورت تجھے ہے کہ مجھے۔ لے اس چپٹے کو دیکھ لے، بھلا یہ اوپر نیچے سے ہر طرح سے برابر نہ ہو تو کوئی کام دھندہ کر لے۔ اب یہ کیا کرے گا؟ پاؤں کے برابر ہو ہاتھ اس کے۔۔ جتنا سینہ۔۔ اتنی پٹھی۔۔۔ استاد نے ایک ہاتھ پٹھی پر مار کر بات مکمل کی۔۔

ابے او، کھیرے! او جا اس جھلو کے لیے لنڈے سے دو نئی پینٹیں لے آ۔ جیبیں سلامت ہوں ان کی۔ شرٹیں پڑی ہیں نبینے کی۔ بھاگ گیا کم بخت۔ چل ڈھونڈ تو میں نکالوں گا۔ اصل میں ”نابینا“ نہ کر دیا سالے کو تو پھر کہنا۔ اچھی دال روٹی کھاتا تھا یہاں۔ پتا نہیں کیا سوجھتی ان گھٹیا، نیچ ذاتوں کو۔ ٹک کے کام ہی نہیں کرتے۔ ابے یہ پیشہ نہیں ہے کیا؟ یہ بھی تو پیشہ ہے۔ بول ابے کھیرے! پیشہ ہے کہ نہیں یہ۔

کھیرے کی کیا اوقات کہ وہ انکار کرتا۔ ساری عمر کے احسانات تھے استاد کے اس پر۔ ہاتھ کاٹ کے بھیک مانگنے کے قابل بنایا، رہنے کو چھت دی، ساری عمر سے کھانا بھی دیتا۔ وہ کیا دیتا تھا استاد کو، بس ہزار بارہ سو کی دیہاڑی، وہ بھی کبھی کم کبھی زیادہ، اور تو اور، جب استاد کو پتا چلا کہ وہ جوان ہو گیا ہے تو نیلی بھی اسے عنایت کر دی۔ کیا غضب کی عورت تھی وہ۔ رنگ ذرا کالا تھا بس۔ باقی ایک دم پوری عورت۔ کھیرے کی تو مرادیں پوری ہو گئیں۔ کبھی کبھار اسے غصہ آ جاتا کہ نیلی کو جب کوئی ٹریفک کے اشارے پر چار روپوں کی چاٹ لگاتا، وہ آرام سے اس کے ساتھ سو جاتی، لیکن پھر وہ سوچتا کہ آخر استاد کا بھی حق ہے کہ اسے زیادہ پیسے کما کر دے وہ۔ سونے کی اجازت ملنے پر نیلی کوئی اس کی منکوحہ تو نہیں ہو گئی۔ پھر وہ سوچتا ہو بھی جاتی، تب بھی وہ یہی کرتی۔ کھیرا اسے کیسے روک سکتا تھا بھلا۔

استاد کا اندازہ ٹھیک تھا۔ جھلو جب شام کو لوٹتا تو جیب بھری ہوتی اس کی۔ ایسی معصومیت تھی اس کے منہ پر کہ بھیک منگا لگتا ہی نہیں تھا۔ استاد کہتا جب یہ ایسی شکل بنا کر میرے سامنے آتا ہے تو میرا بھی دل چاہتا ہے کہ پانچ دس روپے اسے دے دوں۔ کھیرا بڑا ہستا تھا اس بات پر۔ اس کو پتا تھا، کچھ ہی دن ہیں، ڈاڑھی مونچھ آنے کی دیر ہے، ساری معصومیت ختم۔ پھر تو اس کا کوئی ہاتھ پاؤں کاٹنا ہی پڑے گا بھیک منگوانے کے لیے۔ ایسے تھوڑی دیں گے لوگ۔ اس نے مدتوں میں یہ جانا تھا کہ بھیک کا تعلق دینے والے کی بھوک کے ساتھ ہے۔ جس چیز کی بھوک اس کے اندر زیادہ ہوتی، اسی کی بھیک وہ دیتا۔گورے چٹے معصوم بچے کو بھیک وہ دیتا جس کے بچے نہ ہوتے، یا ایسے نہ ہوتے۔ نیلی نے ساری عمر ماڑو سے بھیک زیادہ اکٹھی کی تھی، اور دینے والوں میں مرد و خواتین دونوں شامل تھے۔

ایک دفعہ کھیرے نے نیلی پہ یہ فلسفہ جھاڑنے کی کوشش بھی کی تھی۔ لیکن نیلی نے ایک بھرپور دھکا اسے دے کر کہا تھا۔۔”وے تجھے جو مانگنے سے اور استاد کی ہاں میں ہاں ملانے سے وقت مل جاتا، اس میں سو جایا کر، تیرا دماغ ٹھیک رہے گا.“

لیکن اب اس ہال میں جہاں ایک طرف مرد فقیر سوتے، اور دوسری طرف خواتین فقیر، اور عین درمیان وہ تمام کھیرے جن کو نیلیاں عنایت ہو چکی تھیں، ایک نیا مسلہ درپیش تھا، کہ جھلو کی کمائی کم ہو گئی تھی، حالانکہ فقیروں کو اس بات سے کوئی زیادہ غرض وابستگی نہیں تھی، کیونکہ و ہ سب جانتے تھے کہ اگلہ مرحلہ کیا ہوگا۔ جھلو کی کوئی ٹانگ بازو کاٹ کر اس کو معذور بنا دیا جائے گا، یا پھر تیزاب کی مدد سے چہرہ ایسا بھیانک کر دیا جائے گا کہ باہر کے صاحب لوگوں کو دیکھنے سے ابکائیاں آئیں۔ خود ان کو ایسے چہرے دیکھنے کی عادت تھی، کیونکہ کئی نیلیاں جن کے ساتھ کھیرے ہال کے وسط میں سوتے تھے، ایسے ہی چہرے رکھتی تھیں، لیکن چونکہ استاد کے لیے یہ معاملہ اہم تھا تو سب ہی پریشان نظر آنے کی کوشش کر رہے تھے۔

استاد ٹانگ اتروا دے اس کی، لکڑی کی ٹانگ پڑی پجھے کی، اس کو تھوڑا کاٹ کے اس کا گذارہ ہو جائے گا، کمینہ روٹی تو پوری کھاتا، رہتا گھٹا ہی جا رہا، فقیرے نے جھلو کا طائرانہ جائزہ لیتے ہو ئے مشورہ دیا۔

”پھکیرے ۔۔ تیرا تو دماخ ۔۔ خھراب۔۔۔ ابے پورا فیوچر پڑا ابھی۔۔۔ چھوٹی عمر میں ۔۔ کٹی لات پہ بھیک کوئی نہ دیوے۔۔ ہجار آ جاویں گے۔۔ بھرتی کرن والے۔۔ کھدا ترسی بوہت ہو گئی اب۔۔ کوئی لے گئے تو ڈھونڈتا پھریں۔۔ اتنا اچھا پیس ہے۔۔ ابھی بڑا وکت ہے ۔۔ کام لینے کی سوچ۔۔“ جیرے نے ہونٹوں پر زبان پھیری۔۔ اس کو کئی دفعہ نیلیاں عنایت ہوئی تھیں۔۔ لیکن اس کو ہال کے اسی طرف رہنے کا شوق تھا۔ چنانچہ جب کوئی نیا جھلو آتا فورا قبضہ جما لیتا۔ چونکہ وہ مدتوں سے استاد کے ساتھ تھا، اس لیے باقی فقیر اس سے جھگڑا کرنے سے دور ہی رہتے۔

”میرا تو خیال۔۔۔ منھ وگاڑ دیں۔۔ استاد تیرے پاس وہ تجاب تھا تو ۔۔ جس سے منھ کا ماس لٹک جاوے۔۔ وہ لٹکا دے۔۔۔ پھر کھدا ترسی والے بھی دور ہی رہویں۔۔“ جیرے نے گویا اپنے دلائل مکمل کیے اور ایک کرسی نما لکڑی پر بیٹھ کر استاد کے لیے سگریٹ بھرنے لگ گیا۔۔
بات تو تیری وزن دار ہے۔۔ جیرے ۔۔ تو کیا کہتا بے کھیرے۔۔
استاد جیسا تیرا خیال۔۔ جیرے کی بات میں وزن تو ہے۔۔ کھیرےکے لیے یہی بات کافی تھی کہ استاد نے جیرے کی بات میں وزن ڈھونڈ لیا۔

”استاد! مجھے ایک دن کے لیے اس کے اڈے پہ بھیج دے“۔ ایک نیلی نے آواز لگائی۔ اس کا چہرہ تیزاب سے کئی رنگا ہو چکا تھا۔ ا س کو پتا تھا کہ ماس لٹکنے سے کیا ہوتا تھا۔”میں دیکھ لوں گی کیا ہو رہا اس کے اڈے پے، کون زیادہ بھیک اڑا رہا اس سے، تو ذرا کھیرے کو پیچھے بھیج دینا، کوئی پھڈا لفڑا ہوگیا تو سنبھال لے، ویسے ہونے نہیں دیتی میں۔“

محفل ایک دن کے لیے برخواست ہوئی تو جھلو کو لگا کہ موت اگلے دن پہ ٹل گئی ہے۔ جیرے کے بستر سے فارغ ہو کر وہ سونے کے لیے لیٹا تو اس کی آنکھوں کے آگے لال لال تارے ناچنے لگے۔ اسے ایسے لگا جیسے اس کی ٹانگ کٹنے کا کوئی جشن ہو گا۔ جس پہ سارے تارے لال لباس پہن کر گول گول دائروں میں ناچیں گے۔ آنکھ لگی تو خواب آنے لگے۔ کٹی ہوئی ٹانگ اس کے منہ پر آ کر ناچنے لگی، اور کٹا ہوا بازو اسے جھپیاں ڈالنے لگا۔ پھر وہ کٹی ٹانگ اور بازو تیزاب کی پیلی پیلی بوتلیں بن گئیں۔ ان میں سے تیزاب تیز دھار کی طرح اس کے منہ پر گرنے لگا، اور اس کے منھ پہ جیسے آگ لگ گئی۔ اس نے دیکھا کہ جب وہ آگ میں جھلس رہا تھا، کٹے ہوئے بازو ٹانگوں والے کھیرے اور جھلسے ہوئے منہ والی نیلیاں اس کے ساتھ جھلس رہے ہیں۔ اچانک اس کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے جلدی سے اپنی ٹانگ پکڑنے کی کوشش کی، جو ایک لمحے کے لیے اسے لگا کہ اپنی جگہ پر نہیں ہے۔ اس نے چیخنے کی کوشش کی لیکن حلق ایسا خشک تھا جیسے جنگلی کانٹا ہوتا ہے۔ باقی کی ساری رات اسے ٹانگ اور بازو کو ڈھونڈتے گذری۔ کبھی اسے لگتا کہ دونوں ٹانگیں پینٹ کے ایک ہی طرف سمٹ گئی ہیں۔۔ کبھی یہ لگتا کہ بازو اور ٹانگوں کو کسی نے جوڑ کو اوپر سے پٹی باندھ دی ہے۔ کبھی لگتا کہ جڑی ہوئی دونوں چیزوں کے درمیان میں جیرے کا استرا چل رہا ہے، جو پہلے بھی اس کے جسم کے بیچوں بیچ چلتا رہتا۔

صبح اسے ماڑو کے ساتھ اڈے پہ پہنچنا تھا۔ اس سے پہلے کہ سکول جانے والے بچوں اور دفتر جانے والے بڑوں کا رش شروع ہو جائے، اس نے دھیان سے اپنی دونوں ٹانگیں سنبھالیں، اور پینٹ میں اپنی اپنی جگہ ڈالیں، اور اڈے پر بھیک مانگنے چلا گیا۔ دفتری رش کچھ کم ہوا تو ماڑو نے اسے آواز دی۔
”ادھر آ بے جھلو! تیری ٹانگ کٹے ہی کٹے اب، تیرے مسئلے کا کوئی حل نہیں، ادھر دیکھ، وہ کیا ہے؟“
“کھسرا ۔۔۔ ماڑو۔“
”دیکھ کیا کرتا وہ۔ گاڑی والے کے آگے جا کر جھک جاتا گلا کھول کے۔ دیکھ بے بھیک ملتی کہ نہیں اسے۔ دیکھ کیسے لوگ نوٹ ڈالتے، اس کے گلے پہ وارتے۔ اب تیرے پاس اس مسئلے کا کوئی حل تو ہے نہیں۔ تیرے پاس کون سی کوئی چیز ہے جو تو دکھا کے بھیک مانگے گا۔“

جھلو کی آنکھوں کے آگے پھر لال تارے ناچنے لگے۔ اس کو لگا کہ اس کے جسم پہ پھر جیرے کا استرا پھرنے لگا گیا ہے۔ اور اس کے سر پر جو درخت ہے وہاں سے تیزاب موسلا دھار بارش کی مانند اس پر برس رہا ہے۔ اس کے منہ سے ماس کے ٹکڑے لٹک لٹک کے زمین پر گرے ہیں، اور اب سارے گاڑیوں کے پیچھے بھیک بھیک پکارتے ہوئے بھاگنے لگ گئے ہیں۔

اچانک اس کی نظر ایک موٹر سائیکل سوار پر پڑی، فیشن کے مارے کی پینٹ کمر سے کافی نیچے تھی۔
جھلو نے ایک دم اپنی پینٹ اتار کر سڑک پر پھینک دی اور بھاگ بھاگ کر گاڑیوں کے درمیان بھیک مانگنے لگ گیا۔

دسمبر 29۔۔ دو ہزار سولہ۔۔
رات بارہ بج کر پانچ منٹ۔

Comments

FB Login Required

Protected by WP Anti Spam