انسان کا ون آن ون انٹرویو – ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

اللہ تعالی نے انسان کو تکریم بخشی. اس کو عقل والا بنایا، اسے متناسب وجود عطا کیا، پھر اس وجود کے لیے اسے پوشاک دی، بولنا اور سوچنا سکھایا. لیکن یہ سب اس تکریم کا عشر عشیر بھی نہیں جو دراصل اسے ممتاز اور قد آور کرتی ہے. وہ ہے انسان کی ”فری وِل“ یعنی اس کا یہ حق کہ وہ اپنے راستے کا فیصلہ اپنی آزادانہ رائے سے کرے. نہ صرف اسے یہ آزادی دی گئی بلکہ اللہ تعالی نے اپنے تمام تر اختیار اور اقتدار کے باوصف اس کا بھرپور پاس بھی کیا. کہیں ”لا اکراہ فی الدین“ کہہ کر اور کہیں یہ کہہ کر کہ اگر ایک بات پہلے سے ٹھہرا نہ دی گئی ہوتی تو فیصلہ کر دیا جاتا. یعنی زندگی کی آخری سانس تک، جب تک یہ مہلت قائم ہے، اس میں براہ راست دخل نہیں دیا جائے گا.

یہی نہیں، یہ عزت بھی انسان ہی کو دی گئی ہے کہ اس کے ساتھ معاملہ بطور نوع (Species) یا اقوام و گروہ نہیں ہوگا بلکہ ارب ہا انسان جو اس کرہ ارض پر قیامت تک ہو گزریں گے، سب سے اللہ تعالی انفرادی طور پر، ایک ایک کر کے، ون آن ون، دنیا کی زندگی میں ان کی کارگزاری پر بات کریں گے، اور اس بابت باز پرس بھی فرمائیں گے.

انسان کا اس ملاقات کی تیاری کرنا ہی دنیا میں اس کے قیام کا اصل مقصد ہے. یہ دو ہستیوں کے باہمی تعلق اور تعلقات کی ایک کسوٹی ہے. اسی لیے اللہ سے تعلق کی بنیاد قانون نہیں ہے، تقوی ہے تقوی

تقوی، خدا تعالی کے ساتھ تعلق کی اساس ہے اور اس کا محرک ”ڈر“ نہیں ہے، احساس ہے، پاسداری ہے. خدا کے مقام و مرتبہ کا احساس اور اس کی اپنے اوپر رحمتوں اور عنایتوں کی پاسداری. تقوی یہ سوال نہیں کرتا کہ نہ کرنے کی سزا کیا ہے؟ وہ اس تلاش میں رہتا ہے کہ کیا سبیل ہو کہ زیادہ سے زیادہ کر پاؤں.
ہم نے تقوی کو یوں دیکھا کہ گھر سے والد صاحب نے کسی کام بھیجا جبکہ اسی وقت آپ کا پسندیدہ پروگرام ٹیلیویژن پر لگا ہوا تھا. آپ مرتے بھرتے والد صاحب کی ڈانٹ یا مار کے خوف سے وہ کام کرنے نکل پڑے.
ایسا نہیں.
آپ اس کی تمثیل یوں دیکھیے کہ آپ کو ایک موبائل فون بہت پسند ہے. آپ نے کئی ماہ کی بچت کے بعد جیسے تیسے پیسے جمع کیے اور پھر ایک دن عین اس وقت جب آپ فون لینے کے لیے گھر سے نکل رہے تھے، آپ کے بچے نے فرمائش کر دی کہ اسے تو بیٹری والا اسکوٹر چاہیے. آپ ایک لمحہ سوچتے ہیں اور اپنی تمام تر خواہش، شوق اور پسند کے باوجود خوشی خوشی یہ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ فون نہیں لینا، بچے کی بات، اس کا مان رکھنا ہے، اور آپ کو اس وقت ذرہ برابر قلق محسوس نہیں ہوتا بلکہ بچے کی خوشی آپ کی خوشی میں ڈھل جاتی ہے. یہی تقوی کا اصل رنگ ہے. ہمیں بھی اپنی خواہش پر خدا کی بات کو فوقیت دینا ہے، خدا کا مان رکھنا ہے. وہ مان جب اس نے فرشتوں کے آدم کے مقام پر اعتراض کے جواب میں کہا، جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے.

تقوی کی حقیقی روح یہ ہے کہ آپ حکم عدولی پر سزاؤں کی مقدار معلوم کرنے، یا اس پر بحث کے بجائے پرفارمنس کے مواقع تلاش کرتے ہیں. جب یہ ہونے لگے تو پھر اللہ تعالی کی گارنٹی آپ کے شاملِ حال ہو جاتی ہے. اگر آپ اللہ کی شکرگزاری کریں گے تو وہ آپ کو سزا دے کر کیا کرے گا.
خدا کے ساتھ معاملہ تقوی پر ہے. آپ کی فری ول ہے، جو چاہیں راستہ چنیں.

اللہ کے احکام اور اس کی آپ سے امیدیں اور تقاضے بالکل واضح ہیں اور اس کے نبی، صلی اللہ علیہ والہ وسلم، کی سنت اور حیات طیبہ بھی ہمارے سامنے ہے. نصاب بھی واضح ہے اور امتحان و عواقب بھی. بس بات صرف اتنی ہے کیا آپ اس اسپیشل ون آن ون انٹرویو کے لیے تیار ہیں جو یہ طے کرے گا کہ آپ کی اگلے گریڈ میں ترقی ہونا ہے یا تنزلی و برطرفی.

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam