قیادت کے تقاضے اور سیرت ہادی عالم – قاضی عبدالرحمن

وہ ممکناتِ جلال و جمال کے پیکر
وہ اعتدال کے سانچے میں عظمتِ آدم
(انور مسعود)

آج کل لیڈر شپ اسکلز یا قیادت کے تقاضوں پر ہر روز سیمینار منعقد کیے جاتے ہیں. ہر ماہ اس موضوع سینکڑوں مضامین، دسیوں کتابچے منصہ شہود پر آتے ہیں. ہر ٹرینر اپنے مطالعہ کی بنیاد پر چند افراد کو بطور مثالی قائد و رہنما کے پیش کرتا ہے. لیکن جب آپ انہیں ”مثالی اور آئیڈیل“ کی کسوٹی پر رکھ کر پرکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان تلوں میں تو تیل ہی نہیں ہے! جدید انسان کو ایسا آئیڈیل قائد درکار ہے جو جامع ہو، ہر شعبہ میں جس سے رہنمائی لی جاسکے، جس کی زندگی اعتدال کا نمونہ ہو، جس کا دامن وسیع ہو اور سایہ گھنا ہو، جس کے اصول و قوانین میں انسانی فطرت کا لحاظ کیا گیا ہو.

اگر ہم علم نفسیات کی رو سے مختلف شعبہ جات کے قائدین کی نفسیات کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ اہل علم، فلاسفہ اور مصلحین عموما ساری عمر مشاہدہ باطن میں مشغول رہتے ہیں، جنھیں علم نفسیات میں ”introvert“ کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے. سیاست داں، کشور کشاں، سلاطین جن کا شغف خارجی دنیا ہوتی ہے، انہیں نفسیات کی اصطلاح میں ”extrovert“ کہا جاتا ہے. دونوں صفات کا ایک ہی فرد میں موجود ہونا یعنی ہر فن مولا جسے ماہرین نفسیات ”ambivert“ کے نام سے موسوم کرتے ہیں، خال خال ہی کسی میں ملتی ہے. اس صفت کا کسی ایک ہی فرد میں درجہ کمال کو موجود ہونا امر محال ہے. تاریخ انسانی میں یہ رتبہ بلند کسی کو شایان شان عطا ہوا، تو وہ ہے خاتم الانبیاء محمد مصطفی احمد مجتبی ﷺ کی ذات ستودہ صفات.

مورخہ 15 جولائی 1974ء کو ٹائم میگزین نے ایک خصوصی گوشہ شائع کیا تھا – عنوان تھا تاریخ کے عظیم قائدین کون؟
موضوع کی مناسبت سے اس میں شکاگو یونیورسٹی میں نفسیات کے پروفیسر جولیس میسرمین ( Jules Messerman) کا تجزیہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے، موصوف مذہبا یہودی ہیں، لکھتے ہیں،
(سمجھنے میں آسانی کی خاطر نمبر کا اضافہ اور نکات کو علیحدہ کردیا گیا ہے-)
Leaders must fulfill three functions:
1:Provide for the well being of the led,
2:Provide a social organization in which people feel relatively secure, and
3:Provide them with a set of beliefs…
“-People like Pasteur and Salk are leaders in the first sense.
-People like Gandhi and Confucius, on one hand, and Alexander,Caesar and Hitler on the other, are leaders in the second and perhaps the third sense.
-Jesus and Buddha belong in the third category alone.
Perhaps the greatest leader of all time was Muhammad (p.b.u.h.), who combined all three functions. To a lesser degree, Moses (pbuh) did the same.
(Time magazine, July 15, 1974, article titled Who Were History’s Great Leaders?, this quote by Jules Masserman.)
ترجمہ:
”قائدین کو تین تقاضے پورے کرنے چاہییں،
1) پیروکاروں کی بھلائی کے لیے سہولیات کی فراہمی.
2) لوگوں کے لیے ایسی سماجی تنظیم کی فراہمی جہاں وہ اپنے آپ کو نسبتا محفوظ محسوس کرسکیں.
3) اپنے پیروکاروں کو عقائد کا مجموعہ فراہم کرنا.

پاسچر اور سالک (ویکسین کے موجد) کے قبیل کے افراد کا شمار پہلی قسم کے قائدین میں ہوتا ہے. ایک سمت گاندھی، کنفیوشس اور دوسری جانب سکندر، قیصر اور ہٹلر (فاضل مصنف کا باوجود یہودی ہونے کے ہٹلر کی صلاحیت کی تعریف کرنا، اس کی وسیع النظری کا پتہ دیتا ہے) جیسے افراد کا شمار دوسرے یا شاید تیسرے قسم کے قائدین میں ہوتا ہے. حضرت عیسٰی علیہ السلام اور گوتم بدھا کا تعلق صرف تیسری قسم سے ہے.
غالبا تاریخ انسانی میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ سب سے عظیم ترین قائد ہے جن میں یہ تینوں افعال مجموعی طور سے موجود تھے. اس سے کم تر درجہ میں حضرت موسٰی علیہ السلام نے بھی یہی تقاضے مجموعی طور سے پورے کیے.“

سیماب اکبرآبادی نے اپنی ایک نعت میں محسن انسانیت کی ہمہ گیریت پر یہ لازوال شعر تخلیق کیا تھا،
کہیں تو زندگی پیرا بہ اندازِ لب عیسیٰ ؑ
کہیں تو خطبہ فرما، اوج طائف پر کلیمانہ

قیادت و سیادت کے باب میں آپ تاریخ عالم کے دفاتر پر دفاتر پڑھتے چلے جائیے، آپ کو پتہ چلے گا کہ دنیا میں پیدا ہونے والے ہر نامور کا دائرہ عمل اور اثر محدود تھا، زمانی لحاظ سے بھی اور مکانی لحاظ سے بھی، اس بات کی بہترین تشریح ندوہ کے مایہ ناز عالم محمدالحسنی علیہ الرحمۃ نے اپنے شاہکار مضمون ”انسانیت آج بھی اسی در کی محتاج ہے“ میں کی ہے. لکھتے ہیں،
”اگر کوئی بہت اچھا فاتح تھا تو ظلم سے اس کا دامن پاک نہ تھا، اگر کوئی اچھا مصلح اور معلم اخلاق تھا تو قائدانہ صلاحیت اور اخلاقی جرات سے محروم تھا، اگر فلسفی تھا تو اخلاق سے بے بہرہ اور انصاف سے دور، روحانیت کا دلدادہ تھا تو عملی زندگی سے ناآشنا اور دنیا کے نشیب و فراز سے بےخبر.“
مزید لکھتے ہیں،
”اس کے برخلاف حضور اکرم کی پاک زندگی کے مطالعہ سے ہم کو دو چیزیں خاص طور سے نظر آتی ہیں:
ایک یہ کہ عام اجتماعی زندگی کے دائرے سے لے کر زندگی کے چھوٹے سے چھوٹے گوشے تک اس میں ہر چیز کے لیے رہنمائی موجود ہے، اور رہنمائی بھی ایسی جو قیامت تک کے لیے کافی ہے. دوسرے یہ کہ اس ہدایت اور رہنمائی کا ہر عنوان اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و ہدایت کا گوشہ بجائے خود ایک ایسا زندہ معجزہ ہے کہ اگر دوسری چیزیں نہ بھی ہوتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ابدی رسالت، حقانیت اور صداقت کے لیے وہی ایک چیز بس تھی.“

نوٹ: مضمون میں بیان کردہ ٹائم کے آرٹیکل کا لنک درج ذیل ہے،
http://content.time.com/time/magazine/article/0,9171,879377-3,00.html

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam