دہشت گردی کی جنگ اور ہمارا بیانیہ - رضوان الرحمن رضی

گذشتہ دنوں وفاقی حکومت کے ادارے نیشنل کاونٹر ٹیررازم اتھارٹی (نکٹا) کی طرف سے سال 2002ء کے بعد سے لے کر اب تک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کام آنے اور زخمی ہونے والے پاکستانی سویلین افراد اور فوجیوں کی تعداد کے اعداد و شمار جاری کیے گئے۔ وزارتِ داخلہ کے تحت کام کرنے والے ادارے نکٹا کے مطابق اب تک دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں کام آنے افراد کی تعداد کسی بھی طور پر پانچ ہزار سے زائد نہیں تھی۔ اس کے نتیجے میں میڈیا پر قابض مخصوص اذہان اور لابی نے ایک مرتبہ پھر شور و غوغا کا ایک طوفان اٹھا دیا، اور نیشنل ایکشن پلان کا منترا پڑھنا شروع کردیا۔ وقت آ گیا ہے کہ معاشرے کے اس ففتھ کالمسٹ کو منہ توڑ جواب دیا جائے۔

اب تک ہمارے مین سٹریم میڈیا اور خصوصاً پر سوشل میڈیا پر ایک چورن بڑے تسلسل سے بیچا جاتا رہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک لاکھ سے پاکستانی کام آ چکے ہیں۔ یہ دو ہزار کے ہندسے سے ایک لاکھ تک کا سفر عین ہماری آنکھوں کے سامنے طے ہوا ہے، اس لیے ہمارا فرض ہے کہ اس ہندسے کی حقیقت آ شکار کیا جائے۔ پہلے یہ دیکھ لیا جائے کہ نکٹا نے یہ اعداد و شمار کیسے اکٹھا کیے ہیں۔ دراصل نکٹا کا ادارہ ہر سال کے خاتمے پر وزارتِ داخلہ کے ذریعے تمام صوبوں کی ہوم منسٹریز کے علاوہ جی ایچ کیو کو سرکاری طور پر خط لکھ کر پوچھتا ہے اور یہ حکومت پاکستان کے تمام ادارے اس کو اپنا جواب بھجواتے ہیں۔ ان کے علاوہ فاٹا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے انتظامی اداروں کو بھی پوچھا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں ایک ہندسہ مرتب کیا جاتا ہے کہ اب تک دہشت گردی اور تخریب کاری کے واقعات میں کتنا جانی و مالی تقصان ہوا ہے، تاکہ آئندہ منصوبہ بندی اور بحالی کا کام ہو سکے۔

چوں کہ یہ کام کرنے والی وزارت آج کل چوہدری نثار علی خان کے تحت ہوتی ہے، اس لیے یہ ہندسہ مرتب مرتب کرنے کی پاداش میں چوہدری نثار علی خان کی میڈیا میں جو بے پناہ ’پٹائی ‘ کی جا رہی ہے، وہ آپ اپنی آنکھوں سے ملاحظہ فرما سکتے ہیں، اس کے بارے میں ہمیں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔

یہ پروپیگنڈہ کرنے والے اور مسلسل کرنے والے بھی کمال کی مخلوق ہیں۔ جب ان افراد سے پوچھا جائے کہ ان کی ان اطلاعات کا ’ماخذ ‘ کیا ہے؟ تو ہمارے ذاتی تجرنے کی بات تو یہ دیکھی کہ بڑے بڑے بظاہر معتبر اور سنجیدہ افراد اس سوال پر فوراً آپے سے باہر ہوجاتے ہیں، منہ سے جھاگ اڑنی شروع ہوجاتی ہے، اور ایسا سوال اٹھانے والے کو دہشت گردوں کا سہولت کار قرار دے دے کر پنجے جھاڑ کر ان کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔

وقت ٹی وی پر ایسے ہی ایک مذاکرے میں یہی گستاخی دہرانے پر پاکستانی الیکٹرانک میڈیا پر دفاعی تجزیہ نگار نامی ایک سابق بریگیڈئیر صاحب، کہ جو مشرف دور میں آئی ایس آئی پنجاب کے سربراہ رہ چکے تھے، اپنا ذہنی اور دلیلی توازن کچھ یوں کھو بیٹھے کہ میزبان کو پروگرام جلدی ختم کرنا پڑا، لیکن موصوف ہمیں سبق سکھانے کے لیے پارکنگ تک آئے، اور اگر اس نشریاتی ادارے کے ملازمین درمیان میں حائل نہ ہوجاتے تو نہ جانے کیا سے کیا ہوجاتا۔ کوئی چھ ماہ بعد ایک جگہ پر ملے، اپنے گذشتہ رویے پر نادم تھے، معذرت کی، ہم نے انہیں گلے لگالیا، لیکن خاکسار نے ساتھ ان کے کان میں سرگوشی کی’’لیکن ایک لاکھ کا ہندسہ ابھی تک تشنہ ہے، اس کا ثبوت دینا ہے آپ نے مجھے‘‘۔ تھوڑے سے کبیدہ خاطر ہو کر پیچھے ہٹے، اور کہنے لگے، ’’آپ شرارت سے باز نہیں آتے؟‘‘

یہ بھی پڑھیں:   دینی بیانیہ اور تفہیم مغرب کی ضرورت - محمد رشید ارشد

یہی سوال ہم نے ڈیفنس ڈاٹ پی کے نامی ویب سائٹ کے بلاگ پر اٹھا دیا۔ یہ ویب سائٹ بظاہر پاک فوج کے کارنامے پھیلانے اور پاکستان کی اچھی اچھی باتیں کرنے کے حوالے سے معروف ہے، لیکن جیسے ہی ہماری طرف سے بات ہوئی تو وہی بیانیہ جو اس ملک میں ایران کے زیر اثر اقلیت دن رات کرتی پائی جاتی ہے تاکہ اپنے نظریاتی مخالفین پر ریاستی اداروں کو ’چھوڑا‘ جا سکے۔ پہلے تو انہوں نے ہمارے ساتھ وہی کیا جو بریگیڈئیر صاحب کر چکے تھے، چونکہ ہم اس رویے کے عادی ہو چکے ہیں اس لیے ہم انتہائی سنجیدگی کے ساتھ مُصر رہے تو انہوں نے مجبوراً ایک غیر ملکی ویب سائٹ کا حوالہ دے دیا جہاں یہ بات چھپی تھی۔ ہم نے یہ ویب سائٹ چیک کی تو وہاں پر ایک پاکستانی مصنف کی تحریر چسپاں تھی (نام ہی چیخ چیخ کر بتا رہا تھا کہ موصوف کی ممکنہ سیاسی سوچ کیا ہو سکتی ہے) جس میں یہ ہندسہ دیا گیا ہوا تھا، لیکن یہ اطلاعات ویسے ہی تھیں جیسے پاکستان میں لکھے گئے بیشتر کالموں کے اندر دی گئی معلومات ہو سکتی ہیں، اس تحریر کا کوئی قابلِ اعتماد حوالہ نہیں تھا۔

دراصل یہ ہندسہ اس لیے گھڑا کیا گیا ہے کہ اپنے ملک میں اپنے لوگوں پر فوج کشی کے مخالفین کا منہ دلیل سے تو بند ہو نہیں سکتا تھا تو اس ’’دھڑلے‘‘ سے ہی بند کیا جا سکے اور طریقِ کار واضح ہے، کہ جو ان کے بیانیے کے بارے میں سوال اٹھائے، اس پر اس قدر ردعمل دے کر اس کواس قدر دفاعی پوزیشن میں لے جاؤ، اور اسے (ایک لاکھ جعلی شہادتوں کے نام نہاد ذمہ دار) دہشت گردوں کا حامی قرار دے کر دفاعی پوزیشن لینے پر مجبور کر دو۔

ایسے میں ہمیں ابلاغ کے امریکی یہودی استاد پروفیسر نوم چومسکی یاد آئے اور خوب یاد آئے کہ جنہوں نے پوری دنیا کو بتایا ہے کہ حقیقت کیسے ’’تخلیق‘‘ کی جاتی ہے۔

جب افغانستان میں شکست کے زخم چاٹتے ہوئے امریکیوں نے وہاں سے مراجعت کا اعلان کیا تو ایسے میں اس ناکامی کا ذمہ دار قرار دینے کے لیے قربانی کے بکرے کی تلاش شروع ہوئی، کہ جس کے سر پر شکست کا تاج سجایا جاسکے۔ ایسے میں اپنے دیرینہ سرپرست اور مِتر کو پاکستان کے معاشرے میں ستر سال سے سرگرم عمل مختلف النوع عناصر نے قومی گردن پیش کر دی۔ امریکہ نے یہ کہہ کر سارا ملبہ پاکستان کے گلے ڈال دیا کہ افغانستان میں اسے شکست اس لیے ہوئی کیوں کہ پاکستان کی حکومت اور اس کے اداروں نے اس کی ’دل سے‘ مدد نہیں کی۔ اور یوں ان عناصر کی مدد سے بڑی عیاری سے افغانستان سے بین الاقوامی جنگ گھسیٹ کر پاکستان لانے کی کوششوں کا آغاز کر دیاگیا۔

یہ بھی پڑھیں:   گالیوں کے ہجوم میں گھرا ہوا شخص - عاکف آزاد

امریکی سرمایہ کاری کا پروردہ الیکٹرانک میڈیا، این جی او مافیا اور پاکستانی اداروں میں چھپے وہ عناصر جن کی امریکیوں کے ساتھ طویل المدتی شراکت کاری کی بنا پر مفادات سات سمندر پار سے منسلک ہو چکے تھے، وہ سارے اس مہم جوئی میں یک زبان ہو کر کچھ یوں سامنے آئے کہ آج تک ان سے اختلاف کرنے والے کو کوئی جگہ ہی نہیں مل پا رہی۔ اسی اثناء میں ’شیطانِ بزرگ‘ بھی ’مہربانِ بزرگ ‘ ہو چکا تھا، اس لیے ان عناصر کو بھی سجدہ سہو کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی کہ ولایت فقیہ کے تازہ ترین حکم کے مطابق امریکی اب اتحادی تھے اور بی جے پی ہمارے بھائی، اسی حکم کے تحت بھارت میں موجود ایسے تمام عناصر نے سیاسی طور پر خود کو حکومتی پارٹی میں یوں ضم کیا کہ بجرنگ دل کے سیاسی چہرے نے پہلی مرتبہ مسلمانوں کے سوادِ اعظم کے حقوق کے خلاف قانون سازی شروع کر دی۔

ایسے میں اقتدار سیاست کے وہ کھلاڑی جو براہِ راست انتخابات کے ذریعے ’’اقتدار کا چہرہ‘‘ نہیں بن سکتے تھے، اور اپنی کم وقعتی اور کوتاہ بینی کے باعث ملک کے اندر اقتدار کی بندر بانٹ کی ٹرین مس کر چکے تھے، لیکن کہ جنہیں ہر قیمت پر اقتدار چاہیے تھا، ان کو بھی شامل باجا کر لیا گیا اور یوں قوم کے ہاتھ میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ایک نام نہاد بیانیہ تھما دیا گیا، جس کا واحد مقصد پاکستان کو ایک طویل المدتی خانہ جنگی میں دھکیلنا تھا۔

جب اس طرح بات بنتی نظر نہیں آئی تو پاکستان کے دارالحکومت پر چڑھائی کرنا بھی ضروری کیا گیا۔ دھرنے کے نام پر ہونے والی اس نوع کی تمام چڑھائیوں میں وہ تمام عناصرِ اربعہ پورے تھے، جن کے ذریعے عراق کے دارالحکومت بغداد اور یمن کے دارالحکومت صنعا پر چڑھائی کی گئی تھی۔ نواز شریف کو اقتدار سے ہٹانا تو ایک بہانہ تھا ورنہ ایران کے حامی مسلح افراد کے جتھے، فوج میں موجود امریکی حامی عناصر اور عام انتخابات میں جیت نہ سکنے والے سیاسی عناصر۔ سب ہی تو موجود تھے ان نام نہاد دھرنوں میں۔ لیکن پاکستانی معاشرے نے تمام تر اختلافات کے باوجود اپنی قوت کا اظہار کیا اور ان کی تمام سازشیں ناکام ہو گئیں۔

(جاری ہے)