عورت یا چلغوزہ؟ محمود فیاض

ایک مفتی صاحب نے عورت کے پردہ کرنے کی مثال چلغوزے کے ساتھ دی، اور سوشل میڈیا پر طوفان برپا ہوگیا۔ پاکستانی سوشل میڈیا نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ ہم نان ایشو کو ایشو بنانے اور اپنے قومی وقت کوضائع کرنے میں ایوارڈ کے مستحق ہیں۔

مذہبی طبقہ اکثر عورت کے پردے کا فائدہ سمجھانے کے لیے ایسی الٹی سیدھی مثالیں گھڑتا رہتا ہے جن سے بات تو خیر کیا واضح ہونا ہے، الٹا مضحکہ خیر کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ کبھی عورت کو ایک لالی پاپ سے تشبیح دی جاتی ہے کہ جس کا ریپر اگر اتار دیا جائے تو مکھیاں بیٹھتی دکھائی جاتی ہیں، تو کبھی مٹھائی کا گلاب جامن اور رس گلہ قراد دے کر عورت کی عصمت کو ایک للچاتی ہوئی شے بنا دیا جاتا ہے۔

ایسی ہی ایک مثال ایک مفتی صاحب نے اگلے روز اپنے کسی بیان میں دے دی اور چلغوزے کی مثال سے واضح کرنے کی کوشش کی اور سوشل میڈیا اس کو لے اڑا۔ اگر بات یہیں تک محدود رہتی کہ ایسی مثال کا مضحکہ اڑایا جاتا یا عورت کو ایک شے بنا کر پیش کرنے پر مذہبی فکر کی بھد اڑائی جاتی تو بھی اس کو اسلامسٹوں اور لبرلز کی جاری مرغا لڑائی سمجھ کر برداشت کیا جاسکتا تھا۔ مگر ہر گزرتے دن کے ساتھ سوشل میڈیا کے بے ہودہ اور بے مہار ہونے کے تصدیق اس بات سے بھی لگائی جاسکتی ہے کہ ایسے ایشوز میں اصل بات کہیں پیچھے رہ جاتی ہے اور غیر سنجیدہ اور لونڈے لپاڈے والی ذہنیت والے لوگ آگے آ جاتے ہیں اور کسی ایک لفظ، واقعے، یا انداز کو لے کر اس کی وہ بھد اڑائی جاتی ہے کہ بسا اوقات اڑائی گئی خاک اپنے ہی سروں کو آ لیتی ہے۔

میرے مشاہدے کے مطابق ایسا ہی کچھ اس واقعے میں بھی ہوا ہے۔ مفتی صاحب نے جو کہا، اس کی سنجیدہ تشریح بہرحال یہی تھی کہ عورت اگر اپنی عصمت و حیا کی حفاظت رکھے گی تو اس کو معاشرے میں عزت حاصل ہوگی، البتہ مثال سطحی تھی۔ اب اس کے مقابلے میں ایسے طبقات جو عورت کی آزادی کی حفاظت کے قائل ہیں، میدان میں آئے اور لگے اس بات کا ٹھٹھا اڑانے۔ ہونا تو یہی چاہیے تھا کہ وہ مفتی صاحب کی بات کا مذاق بناتے، مگر ہوا یہ کہ وہ عورت کا مذاق اڑانے لگے۔ یعنی جس کی عزت و آزادی کی حفاظت کے وہ دعویدار ہیں، اسی کو سربازار رسوا کرنے لگے۔

یہ بھی پڑھیں:   مذہب اور جنسیت - جمیلہ خان

آپ عورت کی عزت کے دعویدار ہیں، یا اس کی آزادی کے، دونوں صورتوں میں آپ اپنے اس رویے سے اس کی کوئی مدد نہیں کر رہے۔ آپ کو مذہبی طبقے سے بیر ہے تو جوابی تیر مذہبی طبقے پر چلائیے، آپ تو اپنے ہی ممدوح کو زخمی کیے دے رہے ہیں۔ آپ عورت کو بےجا پابندیوں کے خلاف بات کرنے نکلے ہیں مگر آپ عورت کو بے جا موضوع بنائے دے رہے ہیں۔

مجھے انٹرنیٹ پر گردش کرتی ایک ویڈیو یاد آ رہی ہے جس میں ایک آدمی کی کہنی دوسرے کی بیوی کو لگ جاتی ہے، جواب میں وہ اس آدمی کی بیوی کو دھکا دے دیتا ہے، یہ دیکھ کر پہلا آدمی جوابی وار میں اس کی بیوی کو مکا دے مارتا ہے، اور پھر دونوں جواب الجواب ایک دوسرے کی بیویوں کو مار مار کر ادھ موا کر دیتے ہیں۔

بعینہ یہی حال عورت کے موضوع ہر دو مختلف نظریات رکھنے والے اور دیگر تماشبین کر رہے ہیں۔ دونوں عورت کے نام پر لڑائی میں ہر مکہ عورت کو ہی مار رہے ہیں۔ اگر مذہبی یہ کہتا ہے کہ عورت کو چلغوزے کی طرح پردے میں رہنا چاہیے، تو لبرل یہ ٹھٹھا اڑاتا ہے کہ مجھے چھلے ہوئے چلغوزے پسند ہیں۔ کیا لبرل کے اس جملے میں عورت کی عزت چھپی ہوئی ہے۔ کیا کوئی باحیا عورت اپنے لیے ایسے جملے پر داد دے گی کہ میری عزت کی حفاظت کا خاطر خواہ بندوبست ہوگیا ہے، اس طرح کے سوقیانہ جملوں سے۔

مذہبی طبقے کے بعض افراد بھی ردعمل میں اسی رویے کا شکار ہو جاتے ہیں اور وہ لبرلز کو لاجواب کرنے کے لیے جتنے طعنے گھڑتے ہیں، ان کی تان آ جا کر کسی عورت کی عزت پر ہی ٹوٹتی ہے۔

میرا ہر دو طبقات کے معتدل اور سوچ رکھنے والے افراد سے کہنا ہے کہ ایسے رویوں کی حوصلہ شکنی کریں۔ اور اگر سنجیدہ نظریاتی بحث کرنا ہے تو اس کے لیے سنجیدہ اسلوب اختیار کرنا چاہیے، اور اگر مضحکہ بھی اڑانا ہے تو اس رویے کا اڑائیں جو اصل میں مضحکہ خیر ہے، نہ کہ عورت کی عصمت کا۔

یہ بھی پڑھیں:   وہ ایک سیاہ رات - سہیل بشیرکار

فیس بک پر ایک اور طبقہ بھی عورت کے موضوع پر خصوصی طور پر ہر ہنگامے میں شریک ہو جاتا ہے، یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے اقبالؔ نے کہا تھا کہ ’’حیف ان کے اعصاب پر عورت ہے سوار‘‘۔ ان کو اسلام یا اینٹی اسلام سے کوئی غرض نہیں، نہ ہی عورت کی عزت بے عزتی ان کا مسئلہ رہی ہے، البتہ ان کی نفسیاتی بنت میں عورت ذات سے متعلقہ ناآسودہ اور ناممکن خواہشات اس طرح گڈمڈ ہو چکی ہوتی ہیں کہ ان کو عورت سے متعلق لکھا ہر جملہ دلچسپ لگتا ہے۔

ایسے مواقع پر یہ حضرات بھی اپنے ناآسودگی کو جملہ بازی کے ہنر میں چھپا کر پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ میری رائے میں (جو ان کو شاید ناقص ہی لگے) یہ نہ تو ادب ہے، اور نہ ہی مزاح۔ بد مذاقی البتہ ضرور ہے۔

جب آپ اس تناظر میں لکھتے ہیں کہ ’’میں نے چلغوزے کا چھلکا اتارا تو اس کی تازگی نے میرے منہ میں پانی بھر دیا‘‘، تو آپ کسی مفتی کا مذاق نہیں اڑا رہے ہوتے، نہ ہی آپ عورت کی عزت و آزادی کی جنگ لڑ رہے ہوتے ہیں، آپ محض یہ بتا رہے ہوتے ہیں کہ آپ نے زندگی بھر چلغوزے نہیں کھائے اور اس محرومی کا اثر آپ کے جینز میں اتر گیا ہے۔

امید کے خلاف امید کرتے ہوئے یہ چند سطریں ان دوستوں کے لیے لکھی ہیں جو شاید میری طرح اس صورتحال کو محسوس تو کرتے ہیں مگر اس کا تجزیہ نہیں کر پاتے۔ اور شاید کچھ ایسے دوست جو نا دانستگی میں ان میں سے کسی بھی طبقے کی زیادتی کا ساتھ دے رہا ہو، وہ ان کی حوصلہ افزائی کرنے سے احتراز کریں۔

Comments

محمود فیاض

محمود فیاض

محمود فیاض نےانگلستان سے ماس کمیونیکیشنز میں ماسٹرز کیا اور بین الاقوامی اداروں سے وابستہ رہے۔ آج کل وہ ایک عدد ناول اور ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اساتذہ، کتابوں اور دوستوں کی رہنمائی سے وہ نوجوانوں کے لیے محبت، کامیابی اور خوشی پر لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں