چلغوزے کا بتنگڑ – ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

بات یہ ہے کہ نہ صرف علماء بلکہ عوام الناس کی کثیر تعداد کی فہم کے مطابق عورت ایک شے ہے جو ماں، بہن، بیوی اور بیٹی ہونے کے ناطے سے مرد کی راحت کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ چنانچہ وہ ایک آیا، نوکرانی اور جنسی ضروریات کے فرائض کے حوالے سے دیکھی، استعمال اور برتی جاتی ہے۔ مختصر الفاظ میں عورت کو ایک کموڈٹی سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ اب کچھ کچھ انسان سمجھنا شروع ہو گیا ہے۔ بہرحال افسوسناک بات ہے اور خواتین کی زیر بحث پوسٹ پر برہمی جائز ہے جو مجھے تو بالکل سمجھ میں آتی ہے۔

’’احسن تقویم‘‘ کی مثال کسی بھی کمتر خلق سے دینا ویسے ہی نامناسب ہے۔ مرد و عورت دونوں ایک ایسی پزل کے دو حصے ہیں جن میں برتری اور کمتری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اللہ تعالیٰ نے لقد خلقنا الانسان کہا، مرد یا عورت نہیں.

سلام ہے اس ایک ہستی صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کسی دنیاوی درسگاہ سے نہیں پڑھی، لیکن آج صدیاں گزر جانے کے بعد بھی اس کی بتائی مثالوں کا کوئی بتنگڑ نہیں بنا سکا. جبکہ آج کی دنیا کے اعلی تعلیم یافتہ انسان اپنی اچھی سوچ کو ہلکی مثال کے لبادے میں لپیٹ کر پیش کر بیٹھتے ہیں اور نہ صرف اپنا بلکہ اسلامی تعلیم کا بھی مذاق بنواتے ہیں۔ ابلاغ نعمت نہ ہوتی تو رب اشرح لی صدری کی تلقین ہی نہ کی جاتی.

لفظ پکڑنے والے اور ہوتے ہیں اور بات سمجھنے والے اور.. اصل اہمیت پیغام کی ہے، پیغام وصول کیجیے، ذریعے کو بخش دیجیے. عورت کے پردے کے احکامات واضح طور پر دیے جا چکے ہیں. وہ واضح، روشن اور مدلل کتاب میں تاقیامت موجود ہیں. بےشک ان کا ابلاغ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم پر فرض ہے، لیکن اس واضح حکم کو مبہم مثالوں کی ضرورت نہیں.
اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرما دیں کہ (باہر نکلتے وقت) اپنی چادریں اپنے اوپر اوڑھ لیا کریں، یہ اس بات کے قریب تر ہے کہ وہ پہچان لی جائیں (کہ یہ پاک دامن آزاد عورتیں ہیں) پھر انہیں ایذاء نہ دی جائے، اور اللہ بڑا بخشنے والا بڑا رحم فرمانے والا ہے۔ (الاحزاب، 33 : 59)

دوسری جگہ ارشاد باری تعالی ہے۔
اور آپ مؤمن عورتوں سے فرما دیں کہ وہ (بھی) اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش و زیبائش کو ظاہر نہ کیا کریں سوائے (اس حصہ) کے جو اس میں سے خود ظاہر ہوتا ہے اور وہ اپنے سروں پر اوڑھے ہوئے دوپٹے (اور چادریں) اپنے گریبانوں اور سینوں پر (بھی) ڈالے رہا کریں اور وہ اپنے بناؤ سنگھار کو (کسی پر) ظاہر نہ کیا کریں النور، 24 : 31)

اب ہوا کیا ہے؟ ایک نیک نیت انسان عمدہ پیغام کو اپنے انداز سے آگے پہنچانا چاہتا ہے، لیکن اس کے الفاظ اچک لیے جاتے ہیں. مثال پر طنز و تشنیع کی اتنی دھول اڑائی جاتی ہے کہ نہ صرف اصل پیغام پیچھے دھول میں گم جاتا ہے بلکہ بری مثال کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اصل پیغام کی مخالفت شروع ہو جاتی ہے. درست بات کو غلط مثال اتنا نقصان پہنچا دیتی ہے کہ بحث برائے بحث کا در کھل جاتا ہے. وہ خواتین بھی جو عموما پردے کے حق میں ہیں، وہ بھی خود کو چلغوزے (جنس جمع جس کی اجناس ہوتی ہے) سے مماثل قرار دینے پر منفی ردعمل کا شکار ہو جاتی ہیں. اس طرح ایک مثبت پیغام ایک منفی ردعمل کو جنم دیتا ہے، نتیجتا نہ صرف پردہ بلکہ اسلامی تعلیمات اور آپ بحیثیت ایک علمی شخصیت کے کٹہرے میں جا کھڑے ہوتے ہیں.

زید بکر کی لغویات سے اسلام کو تو فرق نہیں پڑتا کیونکہ دین حق اور کتاب مبین کی حفاظت خیر الحافظین کے ذمہ ہے. لیکن آپ بھی اس عوامی منفی ردعمل کا شکار ہو کر مزید منفی رسپانس دیتے ہیں. اس کیس میں دو منفیوں کی ضرب سے مثبت نتیجہ نکلنے کے بجائے منفیت و منافرت دگنی چوگنی ہونے لگتی ہے.

عوامی رد عمل کو درست کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ خاموشی اختیار کریں. پھر ایک ہاتھ کی تالی آخر کب تک بجتی رہے گی. دوسری صورت یہ ہے کہ آپ اپنی پوسٹ کے دفاع میں مزید سخت الفاظ لکھنا شروع کریں. یہ طریقہ آپ کو درست تو ثابت شاید نہ کرے لیکن منفی ردعمل کو بڑھا کر اس سے متاثر افراد کی تعداد میں اضافہ کرے گا اور اس طرح آپ اسلام کی خدمت کے بجائے نقصان کا باعث بن جائیں گے.

تیسری صورتحال یہ ہو سکتی ہے کہ آپ اپنی غلطی کا اعتراف اور تصحیح کر لیجیے. آپ کا یہ مثبت ردعمل آپ کے ابتدائی مثبت پیغام کو آگے پہچانے کا باعث بن جائے گا بلکہ یہ اڑی ہوئی دھول بھی آپ کے مثبت پیغام کے چہرے پر افشاں کی مانند چمکنے لگے گی.

(تحریر کی تیاری میں ژاں سارتر اور عثمان سہیل صاحب کے قلمی تعاون کا شکریہ)

Comments

FB Login Required

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

Protected by WP Anti Spam