مسئلہ تشبیہ ہے نہ استعارہ، مسئلہ کچھ اور ہے - رضوان اسد خان

ایک لڑکی کو دیکھا تو ایسا لگا:
جیسے کھلتا گلاب،
جیسے شاعر کا خواب،
جیسے اجلی کرن،
جیسے بن میں ہرن،
جیسے چاندنی رات،
جیسے نرمی کی بات،
جیسے مندر میں ہو اک،
جلتا دیا.....
جیسے صبح کا روپ،
جیسے سردی کی دھوپ،
جیسے وینا کی تان،
جیسے رنگوں کی جان،
جیسے بل کھائے بیل،
جیسے لہروں کا کھیل،
جیسے خوشبو لئیے آئے،
ٹھنڈی ہوا.....
جیسے ناچتا مور،
جیسے ریشم کی ڈور،
پریوں کا راگ،
جیسے صندل کی آگ،
جیسے سولہ سنگھار،
جیسے رس کی پھوار،
جیسے آہستہ آہستہ،
بڑھتا نشہ....
’’زمانہ جاہلیت‘‘ میں انیل کپور کی ہٹ فلم’’1942 اے لو سٹوری‘‘ کا یہ گانا مجھے بےحد پسند تھا. اسے مکمل ازبر کر کے کئی بار میڈیکل کالج میں کلاس اور بیچ فنکشنز میں سنایا. لیکن 300 کی کلاس میں سے، جس میں 40 فیصد لڑکیاں تھیں، کبھی ایک بار بھی کسی نے اعتراض نہیں کیا کہ اس گیت میں عورت کو ہرن اور مور جیسے جانوروں سے، دیے اور ڈور جیسے ’’چیپ آبجکٹس‘‘ سے، آگ اور پھوار جیسی ذومعنی اصطلاحات سے اور سب سے بڑھ کر (چرس کی طرح بڑھتے چلے جاتے) نشے سے تشبیہ دے کر اس کی تذلیل کی گئی ہے. بلکہ یہ تک کسی نے نہ کہا کہ ہرنی اور مورنی کے بجائے ان کے مردانہ ’’نصف بدتر‘‘ سے تشبیہ دینا تو ناقابل معافی جرم ہے.

اس گانے کو ایک فیس بک پیج پر شیئر کیا گیا ہے جہاں کمنٹس میں ایک محترمہ جو غالباً استانی ہیں، فرماتی ہیں کہ جب بھی مجھے بڑے بچوں کو تشبیہ اور استعارے کا فرق سمجھانا ہو تو تشبیہ میں انہیں اس گانے کی مثال دیتی ہوں.

تشبیہ:
تشبیہ کا لفظ ’شبہ‘ سے نکلا ہے جس کے معنی ’مماثل ہونا‘ کے ہیں۔ علم بیان کی اصطلاح میں جب کسی ایک شے کی کسی اچھی یا بری خصوصیت کو کسی دوسری شے کی اچھی یا بری خصوصیت کے معنی قرار دیا جائے تو اسے تشبیہ کہتے ہیں۔
اردو انسائیکلوپیڈیا کے مطابق:
کلام میں جس قدر تشبیہات استعمال کی جائیں، اتنا ہی کلام عمدہ ترین ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   عورت مضبوط ہے، کمزور نہیں - اے وسیم خٹک

استعارہ:
اردو لغت میں استعارہ کے معنی ’عارضی طور پر مانگ لینا، مستعار لینا، عاریتاً مانگنا، اُدھار مانگنا، کسی چیز کا عاریتاً لینا‘ ہیں۔ علم بیان کی اصطلاح میں ایک شے کو بعینہ دوسری شے قرار دے دیا جائے، اور اس دوسری شے کے لوازمات پہلی شے سے منسوب کر دیے جائیں، اسے استعارہ کہتے ہیں۔ استعارہ مجاز کی ایک قسم ہے جس میں ایک لفظ کو معنوی مناسبت کی وجہ سے دوسرے کی جگہ استعمال کیا جاتا ہے۔

اب چلغوزے اور اس کے چھلکے کو عورت اور پردے سے ’تشبیہ‘ دی گئی. اگر بطور ’استعارہ‘ استعمال کیا جاتا تو بھی شاید کچھ اعتراض کی گنجائش نکلتی کہ عورت کو چلغوزہ ہی بنا دیا. لیکن لبرلز کے ردعمل سے صاف ظاہر ہے کہ مسئلہ نہ تشبیہ ہے اور نہ استعارہ. مسئلہ تو پردہ ہے اور بے پردہ عورت کے لیے بری مثال کا استعمال ہے.

اب اگر قرآن فضول خرچ کو شیطان کا بھائی قرار دیتا ہے (جو کہ تشبیہ بھی نہیں بلکہ استعارہ ہے) تو کیا درس قرآن دینے والے پر بھی طعن کیا جائے گا کہ اس نے ایک انسان کو شیطان کا بھائی قرار دے دیا. اس کی جرات کیسے ہوئی کہ کسی کو ’جج‘ کرے.

اور اگر قران جاہلیت کے تبرج سے منع کرتا ہے تو کیا سج سنور کر اپنی نمائش کرتی لبرل خواتین کو اس اعتراض کا حق مل جائے گا کہ انہیں ’جاہل‘ یا ’جاہلیت زدہ‘ کیوں کہا گیا، جبکہ ان کے پاس تو پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے. و علی ہذا القیاس.

تو خلاصہ کلام یہ کہ اس ’تشبیہ‘ سے کسی کی دل آزاری مقصود نہ تھی، بلکہ محض پردے کی اہمیت اور اس کی عدم موجودگی کے نقصان پر توجہ دلانا تھا اور بس. (جسے دیندار خواتین نے بہت پسند بھی کیا) مگر جس طرح خلط مبحث کر کے سڑے ہوئے چلغوزے کی طرح اپنے اندر کا ’’ساڑھ‘‘ نکال کر مفتی سید عدنان کاکاخیل صاحب جیسے مدبر کو بھی نہیں بخشا گیا، اس سے محسوس یہی ہوتا ہے کہ لبرلز کو اپنے ’’مرشد اعظم‘‘، پرویز مشرف کو سکھائے گئے سبق کا غصہ نکالنے کا موقع آج ملا ہے.

Comments

رضوان اسد خان

رضوان اسد خان

ڈاکٹر رضوان اسد خان پیشے کے لحاظ سے چائلڈ سپیشلسٹ ہیں لیکن مذہب، سیاست، معیشت، معاشرت، سائنس و ٹیکنالوجی، ادب، مزاح میں دلچسپی رکھتے ہیں، اور ان موضوعات کے حوالے سے سوالات اٹھاتے رہتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں