قرآن کریم سے تعلق کی نوعیت کیسی ہو؟ سید متین احمد

قرآنِ کریم کا پیغام سمجھنے کے لیے اس کے ’نظائر‘ کو ملا کر غور وفکر کرتے رہنا چاہیے۔ اس کو اصطلاح میں ’تفسیر القرآن بالقرآن‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ سورۂ فاتحہ پڑھ کر ہم نماز میں اللہ سے بار بار ’اہدنا الصراط المستقیم‘ کی دعا کرتے ہیں۔ قرآنِ کریم صراطِ مستقیم اہلِ انعام کے راستے کو قرار دیتا ہے جس کی عملی اور واضح شکل قرآنِ کریم سے مضبوط تعلق قائم کرنا ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ سورۂ آلِ عمران میں اللہ نے فرمایا:ومن یعتصم باللہ فقد ہدی الی صراط مستقیم(جو اللہ (کی رسی) کو مضبوطی سے تھام لے، تو تحقیق کہ وہ ہدایت یافتہ ہو گیا۔)ایک موقوف حدیث میں اسی آیت کے اسلوب پر فرمایا گیا: ومن دعا إليه فقد هدي إلى صراط مستقيم(جو اس کی طرف دعوت دے، وہ راہ یاب ہو گیا۔) اس ’اعتصام باللہ‘ کو اگلی ہی آیت میں ’واعتصموا بحبل اللہ‘ کہا گیا ہے اور اللہ کی رسی سے مراد اس کے ساتھ کا معاہدہ ہے جو لاریب قرآن ہی ہے۔ ایک حدیث میں حبل اللہ کی تفسیر واضح طور پر قرآن سے کی گئی ہے:
[pullquote] کتاب اللہ ھو حبل اللہ الممدود من السماء الی الارض[/pullquote]

(اللہ کی کتاب ہی اللہ کی رسی ہے جو آسمان سے زمین تک خدا اور اس کے بندوں کے درمیان تنی ہوئی ہے۔ )

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر ہم نماز میں بار بار ’صراط مستقیم‘ کا سوال کرتے ہیں تو زندگی میں دیکھنا چاہیے کہ قرآن سے تعلق بڑھ رہا ہے یا نہیں؟ اگر یہ تعلق نہیں پیدا ہو رہا تو نماز کی یہ دعا محض رسمی لفظوں کا دھرانا ہے، ان میں کوئی جان نہیں ہے۔’رسی کو تھامنا‘ ایک خوب صورت تعبیر ہے جو اپنے اندر ایک بلاغت کا حسن، محاکات اور تمثیل رکھتی ہے۔ جدید شعریات (Poetics) کی زبان میں یہاں ایک ’پیکر ‘ تخلیق کیا گیا ہے جو کہ تخلیقی تحریر کے چار بنیادی لوازم میں خیال کیا جاتا ہے۔ فرض کیا ایک شخص نے ایک عمارت کے اوپر چڑھنا ہے اور اس کے لیے اس کے پاس واحد معاون ایک رسی ہے جو اوپر سے لٹک رہی ہے ، یا ایک شوریدہ سر دریا ہے ، جس سے ایک مسافر نے پار ہونا ہے۔اس کے اوپر ایک مضبوط رسی تانی گئی ہے اور مسافر کو اس رسی کے ساتھ لٹک کر پار ہونا ہے۔ اب ظاہر ہے جب تک اس کاتعلق اس رسی سے اپنے جسم کی پوری قوت صرف کر کے مضبوط نہیں ہوگا، اس کے لیے عمارت کی چھت تک جانا اور دریا سے پار ہونا ممکن نہیں اور اگر اس کا یہ تعلق کچا ہے تو وہ گر کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھ سکتا ہے۔ اللہ کی طرف سے بندے کا جو قرآن سے تعلق مطلوب تھا، اس کی نوعیت کو واضح کرنے کے لیے اللہ نے یہاں ’قرآن سے تعلق جوڑو‘ کے بجائے بلاغت کا راستہ اختیار کیا ہے اور’اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامو‘ کہ کر ایک ’پیکر‘ یا ’تمثیل‘ تخلیق کی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں بار بار مانگے جانے والے ’صراط مستقیم‘ کے نتیجے میں قرآن سے ہمارا تعلق وہ نہیں پیدا ہو رہا جس کی تصویر مذکورہ بالا ’پیکر‘ سے سمجھ میں آتی ہے تو ہمارا مانگنا کچا اور کھوٹا ہے۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

  • ایک کامیاب تجزیہ ۔۔
    واقعی غامدی صاحب کی زبان تو بہت میٹھی ہے جو انکے فیسبکی تلامذہ کے محل تفاخر ہے ۔۔۔
    سرسری بات کرنا ۔۔۔بڑی مہارت سے خوبصورت الفاظ کی آڑ میں سامعیں(کہے جا، سنے جا) کو قائل کرتے ہیں ۔۔۔ خدا نسل نو کو اس فتنہ انکار حدیث سے بچائے ۔۔۔اور ہمیں جلد از جلد اسکا سدباب کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین