نیا سال ، پرانا عزم ! قادر خان افغانؔ

سال 2016ء بھی اپنے اختتام کو پہنچا۔ عیسوی سال نت نئے انداز کے ساتھ منایا جاتا ہے جبکہ ہجری سال کا پہلا دن مسلم امہ، سیدنا حضرت عمرفاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کے عظیم سانحے کے طور پر ایثار و جذبے کے تحت خلیفہ اسلام اور خلافت راشدہ کے عظیم سربراہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے مناتی ہے۔ کتنا فرق ہے، ان دونوں سال نو میں.

جب صلیبی سال کا آغاز ہوتا ہے تو خرافات، شراب و شباب کی محافل، رقص و سرور کی مغربی اندھی تقلید اور فحاشی کی تمام حدود کو پھلانگتے ہوئے، نقالی ِصلیب میں اپنی اسلامی و معاشرتی ثقافت و روایات کو سر عام پامال کرتے ہوئے ’’خوشی‘‘ حاصل کرنے لیے مصنوعی طریقے اور کاک ٹیل پارٹیوں میں نشے میں دھت ہو کر بے حسی و بے شرمی کے مظاہرے کر کے طبقاتی تفریق میں بھی مزید خلیج پیدا کردی جاتی ہے۔

دوسری جانب اسلام میں ہر دن مبارک قرار دیا گیا، کسی دن کے لیے نحوست نہیں ، کوئی دن یوم سوگ نہیں، البتہ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں خصوصی طور پر دوتہوراوں کو یوم تشکر کے طور پر منانے کے احکامات دیے، جن میں رمضان المبارک کے ایام ہیں تو جشن نزول قرآن اور ماہ صیام کے بعد شکرانے کے طور پر عید الفطر۔ قرآن کریم میں ایام حج کا ذکر ہے تو اس کے ساتھ ہی سنت ابراہیمی کومسلم امہ ایثار، قربانی اور بھائی چارے کیلئے عید الاضحی کے طور پرمناتے ہیں ۔غم کے لیے کوئی دن مخصوص نہیں، اور کسی دن کو کسی دوسرے دن پر فوقیت بھی حاصل نہیں ہے۔ یوم جمعہ ،کی نسبت سے حکم ہے کہ جب جمع ہونے والے دن بلایا جائے تو سب دنیاوی کاروبار مشاغل چھوڑ کر اکٹھے ہوجائیں لیکن صلوۃ ِجمعہ ہونے کے بعد کاروبار زندگی میں دوبارہ مشغول ہونے کی اجازت ہے. باقی جو تہوار منائے جاتے ہیں، ایسے کوئی بھی رنگ دار عینک پہن کر خود کو ہی دھوکہ دیتے ہیں۔نظام اسلام میں جو تصورات ہیں ، ان سے مبرا کوئی بھی اقدام انسانی خواہش تو ہوسکتا ہے، لیکن فرمان خداوندی نہیں۔

گو کہ عیسوی سال ِ نو منانا صلیبی اقدارکی تقلید ہے لیکن اخلاقی دائرے میں رہتے ہوئے ہلڑ بازی اور غیر اخلاقی محافل و حرکات کے بغیر، کوئی بھی دن ، خوشی کے نام پر منانے میں کوئی قباحت نہیں۔ چونکہ چلن آنکلا ہے کہ ہم شمسی سال کے حساب سے پیدا ہوتے ہیں، اور شمسی سال کے حساب سے مرتے ہیں ، اس لیے ہمیں قمری سال کے حوالے سے صرف اتنا معلوم ہے کہ پشاور اور کراچی میں ایک ساتھ روزے رکھے جائیں گے یا نہیں، عید ایک ساتھ منائی جائے گی یا نہیں؟ باقی ہم قمری سال کے مزید ایام اپنے اپنے مسلک کی بنیاد پر جوش و خروش سے مناتے رہتے ہیں۔ اس پرکوئی اختلافی رائے نہیں دینا چاہتا، کیونکہ ہر شخص کو اپنے اعمال کا جواب اللہ تعالی کو خود دینا ہے، ایسے عقل و شعور رب کائنات نے دیا ہے کہ وہ خود اپنے عقل سلیم کو استعمال کر کے سوچے کہ وہ کس راہ پر ہے۔ لیکن معاشرے میں ایک جماعت ضرور ایسی ہونی چاہیے جو اُن افراد یا اقوام کودین اسلام کے نظام کی اصل روح سے آگاہ کرے اور یہ کسی فرد واحد یا مجھ جیسے کم علم کا کام نہیں بلکہ ریاست کا ہے۔ تاہم بنی نوع انسان خوش قسمت ہیں کہ دور جدید میں قرآن کریم کے تراجم، تفاسیر و لغات ہر زبان میں موجود ہیں، اور اللہ تعالی اپنی کتاب میں واضح فرماتا ہے کہ کیا تم قرآن کریم میں غور و فکر نہیں کرتے، کیا تمھارے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں ، اللہ تعالی نے ایسے لوگوں کو کائنات کی ہر ذی حیات سے بدتر قرار دیا ہے۔

مجھ جیسا کم علم اگر کسی مسئلے میں الجھتا ہے تو اہل علم سے رابطہ کرتا ہے، اگر قانونی معاملات ہوں تو عبوری دور کے اس نظام کے تحت قانونی ماہرین سے رابطہ کرتا ہوں، معاملات اگر طب سے متعلق ہوں، شعبہ طب سے وابستہ ماہرین کی جانب میرے قدم اٹھتے ہیں، رزق کا حصول ہو تو صبح تا شام اپنے فرائض کی سر انجام دہی کے لیے سرگرداں ہوتا ہوں۔ دنیا سے بے رغبتی و گوشہ نشینی کے بجائے اللہ تعالی کے دیے گئے احکامات پر عمل پیرا ہونے کی حتی المقدور کوشش اور اپنی غلطیوں کے استغفار کے لیے کسی مخصوص دن کا انتظار نہیں کرتا، انسان غلطی کا پتلا ہے، اس لیے کسی بھی امر میں اپنی دانستہ یا غیر دانستہ غلطی پر معافی مانگنے میں لمحہ برابر دیر نہیں کرتا۔ اس بات پر یقین رکھتا ہوں کوئی انسان کسی دوسرے انسان کے اُس رزق کو جو اللہ تعالی نے اس کی محنت کے عوض مقرر کردیا ہے ، چھین نہیں سکتا ۔ اسی طرح کوئی انسان کسی دوسرے انسان کی صلاحیتوں سے فائدہ یا نقصان تو اٹھا سکتا ہے لیکن اس کی صلاحیتوں پر قابض نہیں ہوسکتا۔ بیشتر انسان اپنی پیشہ وارانہ رقابت کی سر انجام دہی میں خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں کہ وہ اُن امور میں اپنے تئیں رکائوٹیں پیدا کرتے ہیں ، تاکہ عدم برداشت کی وجہ سے دوسرا شخص کوئی ایسا عمل کر گذرے جو اُس خیانت دار شخص کے لیے ذہنی یا جسمانی تکلیف کا سبب بن جائے۔لیکن میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ سامنے اپنی منزل کا پتہ موجود ہے ، اس لئے راستے کے ان جھوٹے پتھروں کو خاطر میں نہیں لاتا، بلکہ نظر ہمیشہ ستاروں پر کمند ڈالنے پر مرکوز رہتی ہے۔اور ہم جیسوں روایت پسند ,قوم پرستوں کیلئے تو مشہور ہے کہ ’’پختون کو محبت سے جہنم جانے کو کہو تو وہ چلنے پر تیار ہوجاتا ہے، زبردستی تو اُسے جنت بھی کوئی نہیں لے جا سکتا‘‘۔

کبھی کھبار اس بات پر حیرت بھی ہوتی ہے کہ کسی فرد کو ذاتی یا پیشہ وارانہ امور میں نقصان نہ پہنچانے کے باوجود اُس کی سیاہ بخت، کینہ، حسد و رقابت کی روش تبدیل نہیں ہوتی، اگر خوئے پختون کے مطابق ردعمل دے دوں تو حسد سے جل کر خاک ہونے والوں کی خاکستر بھی نظر نہ آئے۔ لیکن یہاں میں رب تعالی کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اُس نے مجھ میں برداشت کی قوت پیدا کی، صبر کا مادہ میرے وجود میں اُس وقت سے حلول ہوا جب شاہکار رسالت حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی کی سیرت کا غیر جانبدارنہ مطالعے کا اثر اپنے دل میں محسوس کیا۔ اسوہ حسنہ پر چلنے کا حوصلہ نبی اکرم رحمت دو عالم حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ، اور اصحاب رسول ﷺ کی مقرب ہستیاں خلفائے راشدین اور ان میں میرے آئیڈیل فاروق اعظم ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی ذات مبارکہ کی وجہ سے پیدا ہوا ہے، جن کی سیرت اور اسلام کے لیے خدمات تمام دنیا کے لیے بلا امتیاز مشعل راہ ہیں۔

شمسی سال کے نئے سال کے ہر دن کو اسی مناسبت سے لکھتا ضرور ہوں، لیکن اسلام کا عظیم سانحہ محرم الحرام کی پہلی تاریخ، شہادت فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی عظیم قربانی کی یاد میں منانا نہیں بھولتا۔ اپنی چند روزہ زندگی میں عدم تشدد کے پیروکار باچا خان بابا محترم خدائی خدمت گار خان عبدالغفار خان کی شخصیت سے سیاسی اثرات سے متاثر ہونے کا اثر ابھی تک مجھ میں موجود ہے، جو میری لسانی جبلت پر حاوی ہو کر مجھے سیاست کے بعد صحافت میں بھی اپنے جذبات پر قابو رکھنے کے لیے معاون و مددگار ہے۔ پاکستانی سیاسی میدان میں اپنے اہداف کی تمام کامیابیوں کے باوجود سیاسی میدان سے الگ ہوکر صحافت میں پہچان بنانے میں ایک عشرہ بیت گیا۔گو کہ میں نے اپنے اُن احباب کو اپنے ایک فیصلے سے انتہائی ناراض کر دیا جو مجھ سے محبت کرتے تھے، لیکن اس فیصلے نے دور رس نتائج بھی دیے۔ تاہم اپنے اُس فیصلے پر میں آج بھی شرمندہ ہوں اور تمام احباب سے معافی کا خواستگار ہوں، کیونکہ میرا وہ کمزور فیصلہ، جذباتی تھا اور مجھے ہمیشہ جذباتی فیصلوں نے ہی نقصان دیا۔ ایسے ہی جذباتی فیصلے صحافت میں بھی نقصان کا سبب بنے۔

جس طرح سیاسی آغاز ایک سیاسی اونچی سطح سے شروع ہوا، اُسی طرح صحافت کا آغاز قلمی نام کے ساتھ بغیر سفارش پاکستان کے بڑے میڈیا ہاؤس سے شروع کیا تاکہ کل کوئی یہ نہ کہے کہ سیاسی تعلقات کا فائدہ اٹھایا۔ تاہم بلاجواز رقابت میں مخالفین، حسد کرنے والوں کی سوچ و کردار کو دونوں میدانوں میں یکساں پایا، لیکن میری روش و تربیت وہی خدائی خدمتگار والی تھی، جس نے مجھے استقامت و حوصلہ دییے رکھا۔

سال نو پر انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کی بنا پر کافی سہل ہوجاتا ہے کہ آپ کے احباب برقی مراسلات ارسال کر دیتے ہیں۔ میں نے بھی اس موقع پر ایک پوسٹ کو اپنی سوشل میڈیا کی سائٹ پر دو روز کے لیے جگہ دی۔ چونکہ ہر انسان اپنے لفظوں سے اپنے جذبات کا اظہار کرتا ہے ، اس لیے میں نے بھی عدم تشدد کی ہر دوقسم کا عہد کرتے ہوئے اپنے اس عزم کو دہرایا کہ اپنے خلاف باتیں خاموشی سے سنتا ہوں، جواب دینے کا حق، وقت کو دے رکھا ہے.
نیا سال ۔۔ پرانے عزم کے ساتھ۔ ان شاء اللہ!

ویب ڈیسک

web.desk

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam