حلب، تہذیب وتمدن کا مرکز – پروفیسر جمیل چودھری

دنیا کے چند قدیم شہروں میں سے ایک۔ پرانے ناموں میں سے کھلپی، کھلبان اور بیورویا اب بھی تاریخی کتابوں میں مذکور ہیں۔ عربی میں اب بھی حلب اور دور جدید میں الیپو۔ حلب سفید کو کہتے ہیں اور سفید ماربل کی وجہ سے یہ نام معروف ہے۔ سفید ماربل یہاں کافی پایا جاتا ہے۔ اس کی قدامت کا اندازہ 5000 سال قبل مسیح سے لگایا جاسکتا ہے۔ تب یہ شہر اپنی ابتدائی سی شکل میں کرۂ ارض پر دریا کے کنارے موجود تھا۔ مشرق وسطی کی تمام قدیم تہذیبوں کے آثار اب بھی یہاں موجود ہیں۔ سمیری اور بابلی تہذیبوں کے مراکز اسی شہر کے قرب وجوار میں تھے۔ اب بھی قدیم زمانے کا ہداد کا ٹمپل موجود ہے۔ سکندر اعظم نے اسے333ء میں فتح کیا تھا۔

جب سپہ سالار اسلام عبیدہ بن الجراحؓ نے اسے فتح کیا تو شہر پر بازنطینی حکومت تھی۔ یوں637ء میں یہاں عرب حکومت قائم ہوگئی۔ صلیبی جنگوں میں اسے 2 بار غیر مسلم فوجوں نے محاصرہ میں لیا، لیکن فتح نہیں کرسکے۔ زنگی سے صلاح الدین ایوبی یہاں حکمران رہے۔ منگول عارضی طور پر آئے۔1516ء میں شہر عثمانی سلطنت کا حصہ بنا اور ظاہر ہے کہ صدیوں تک رہا۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد اس علاقے کا نقشہ بدل گیا۔ عراق اور شام نامی قومی سلطنتیں قائم ہوئیں۔ 1963ء میں بعث پارٹی کی حکومت اس علاقے میں قائم ہوئی۔ 1970ء میں حافظ الاسد اور بعد میں صاحبزادہ بشارالاسد۔ یہ شام کا سب سے بڑا شہر ہے۔ سول وار سے پہلے اس کی آبادی60 لاکھ سے بھی زیادہ تھی۔ اب تباہی کے بعد آبادی چند لاکھ رہ گئی ہے۔ یہ اسلامی تہذیب کا اس علاقے کا سب سے بڑا مرکز رہا ہے۔ مدرسے اور مساجد بےشمار۔ مدرسے بہت مشہور ہیں۔ فارابی جیسے فلاسفر بھی یہیں سے تعلق رکھتے تھے۔

UNESCO نے1986ء میں اسے اسلامی تہذیب کے مرکز کے طور پر تسلیم کیا اور آثار قدیمہ کی حفاظت شروع کی۔ اسلامی دور سے پہلے کی بھی یہاں معروف ترین بلڈنگز ہیں۔ اسی شہر میں دنیا کا سب سے بـڑا چھت والا بازار ہے۔ اسے المدینہ بازار کہاجاتا ہے۔ نہر سویز کے کھلنے سے پہلے یہ شہر تجارت کا سب سے بڑا مرکز تھا۔ بحیرہ روم سے تجارتی قافلے حلب سے گزر کر ہی مشرق وسطیٰ کے شہروں میں آتے تھے۔ قدیم حلب ہمارے لاہور کی طرح چار دیواری کے اندر تھا۔ اورشہر کا رقبہ تقریباً 400 ہیکٹر پر مشتمل تھا۔ اس کے کافی دروازے تھے۔ اب کہتے ہیں کہ صرف 5 نظر آتے ہیں۔ باقی گردش ایام نے برباد کر دیے ہیں۔ پرانے آثار کو محفوظ کرنے کے لیے یونیسکو اور ماہرین نے کئی پلان بنائے ہیں۔ جنگ سے پہلے تک یہ کوششیں بڑے پیمانے پر جاری تھیں۔

یہاں جنگ سے پہلے 80 فیصد سنی مسلمان بستے تھے۔ باقی نصیری اور عیسائی آبادی تھی۔ دنیا میں کچھ ایسے شہر ہیں جہاں جنگوں کے دوران لمبے عرصے کے لیے محاصرے جاری رہے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران تبروک8 ماہ تک محاصرے میں رہا۔لینن گراڈ (روس) کا محاصرہ تقریباً 2 سال جاری رہا۔حلب کا محاصرہ اکتوب ر2012ء سے شروع ہوا اور سرکاری افواج نے23 دسمبر 2016ء کو مکمل فتح کا اعلان کیا۔ شروع سے ہی شہریوں نے النصرہ گروہ کا ساتھ دینا شروع کر دیا تھا۔ سرکاری قاتلوں کے آگے وہ بہت لمبے عرصے تک چٹان کی طرح کھڑے رہے۔ پھر روس نے بمباری کر دی اور سرکاری افواج کے لیے پیش قدمی آسان ہوگئی۔

حلب کی 4 سال سے زائد لڑائی نے شہر کو تباہ و برباد کر دیا ہے۔ بےشمار تاریخی اور رہائشی عمارتیں تباہ ہوئیں۔ اور مرنے والے انسانوں کی تعداد کا بھی کسی کو کچھ پتہ نہیں۔ ننھے منے بچوں کی لاشیں ایک لائن کی شکل میں میڈیا اور سوشل میڈیا پر ہم اکثر دیکھتے رہتے ہیں۔ حلب پر سرکاری قاتلوں کے قبضے کے بعد صرف ایران میں مٹھائیاں تقسیم ہوئیں۔ جب بشارالاسد کو ایران، حزب اﷲ اور روس کی مدد مل گئی تو حلب پر چڑھائی کرنا اور اسے فتح کرنا مشکل نہ رہا۔ حکومت مخالف گروپ کو امریکہ اور ترکی زیادہ مدد فراہم نہ کرسکے۔ ترکی وہاں سے پناہ گزینوں اور زخمیوں کو نکال کر اپنے سرحدی علاقوں میں رہائش فراہم کر رہا ہے۔ ترکی نے پناہ گزینوں کے لئے جدید طرز کے کیمپ لگائے ہیں۔ طیب اردوان جو کچھ کہتے ہیں اس پر عمل بھی کرتے ہیں۔ حلب والوں کو صرف ترکی سے ہی توقعات تھیں۔ سعودی عرب والے صرف دعائیں ہی کرتے رہے۔ 34 ملکوں پر مشتمل نام نہاد اتحادی فوج کہیں بھی نظر نہ آئی۔ اس کا صرف میڈیا میں شہرہ ہے۔ یہ اتحاد تو ابھی یمن کے محاذ کو بھی نہیں سنبھال سکا۔

دنیا کے دیکھتے دیکھتے حلب جو صنعت کا مرکز تھا اور جہاں سے شام کی60 فیصد اشیاء باہر جاتی تھیں، کھنڈر بن گیا ہے۔ اس کے حالات کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے حلب کا سقوط ہوگیا ہو۔ کبھی قرطبہ، کبھی ڈھاکہ اور پھر حلب۔ کچھ لوگ اسے سقوط حلب سننا پسند نہ کریں گے، لیکن جہاں کے اصل باشندے شہر چھوڑ جائیں، لاکھوں قتل ہوجائیں، عمارتیں کھنڈر بن جائیں تو پھر کوئی اور لفظ نہیں، صرف سقوط ہی صحیح مفہوم ادا کرتا ہے۔صنعتیں تباہ، تجارت تباہ، مدرسے اور مساجد بمباری سے برباد، قطار اندر قطار لاشیں، اسے زندہ شہر نہیں کہا جاسکتا۔ کبھی اس کے بچے اجلی وردیاں پہنے سکول اور کالج جاتے تھے، بازاروں میں مرد و خواتین خرید و فروخت کرتے نظر آتے، مدرسوں میں اساتذہ قرآن و حدیث کی تشریح کرتے اور دور دراز سے آئے ہوئے لاکھوں طالب علم فائدہ اٹھاتے۔ ایک ہزار فیکٹریاں تو شروع کے دنوں میں ہی لڑنے والوں نے لوٹ لی تھیں۔ صرف 4 سال میں ایک پررونق شہر کھنڈر بن گیا۔

جب23 دسمبر2016ء کو شام کی وزارت دفاع نے شہر کی فتح کا اعلان کیا تو یہ ایک شہر کی نہیں بلکہ مرگھٹ کی فتح تھی۔ حلب کے شہریوں کے لئے سرکاری فوج اور مخالفین ایک جیسے تھے۔ موت کے نقیب۔ دونوں طرف موت کھیل رہی تھی۔ کئی سال کے محاصرے نے شہر کی آبادی کوکچل دیا۔ جہاں روس اور امریکہ دونوں ملوث ہوں، وہاں اقوام متحدہ کچھ نہیں کرتی۔ اگر کچھ کرسکتے ہیں تو مسلمان خود ہی کریں۔ دنیا کی اقوام مریخ پر جانے کی تیاریاں کر رہی ہیں، اور مسلمان آپس میں ہی لڑ کر اپنے آپ کو برباد کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے بغداد کے لیے اور پھر موصل پر قبضہ کے لیے مسلمان آپس میں لڑتے رہے اور اب لڑتے لڑتے اپنا ہی ایک بڑا شہر تباہ و برباد کر لیا۔ پاگلوں کے سینگ تو نہیں ہوتے۔

ویب ڈیسک

web.desk

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam