2016ء میں پڑھی گئی کتابیں – ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

جناب محمد عامر ہاشم خاکوانی صاحب نے احباب سے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ سال 2016ء میں ان کے زیر مطالعہ آنے والی کتابوں کی فہرست دیں۔ اسی کی تعمیل میں یہ چند گزارشات پیش کی جاتی ہیں۔

قرآن کریم کے علاوہ حدیث اور فقہ کی بعض کتابیں (جیسے امام سرخسی کی مبسوط، امام کاسانی کی بدائع الصنائع اور امام مرغینانی کی ہدایہ) تو مسلسل مطالعہ میں رہتی ہیں۔ یہی معاملہ قدیم تفاسیر میں امام طبری کی جامع البیان، امام جصاص کی احکام القرآن، امام قرطبی کی الجامع لاحکام القرآن، امام رازی کی تفسیر کبیر اور علامہ آلوسی کی روح المعانی، اور اردو تفاسیر میں مولانا مودودی کی تفہیم القرآن ، مولانا اصلاحی کی تدبر قرآن اور مفتی محمد شفیع کی معارف القرآن کے ساتھ ہے۔ 2016ء میں بھی بحمداللہ یہ سلسلہ جاری رہا۔

اس سال جو کتابیں بہت شوق سے پڑھیں، ان میں چند ایک کا تذکرہ یہاں کیا جاتا ہے۔ آکسفورڈ یونی ورسٹی پریس نے کئی سال سے A Very Short Introduction کے نام سے کتب کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے، اور درحقیقت اس سلسلے کی کتب بقامت کہتر بقدر بہتر کے مقولے پر پورا اترتی ہیں۔ نہ صرف مبتدیوں کے لیے، بلکہ اچھا خاصا تحقیقی ذوق رکھنے والے اور وسیع المطالعہ اہلِ علم کے لیے بھی یہ کتب بہت زیادہ مفید ہیں۔ اس سال اس سلسلے کی چند کتب جو مختلف وجوہ کی بنا پر باربار پڑھیں، یا ان میں بعض مباحث بار بار پڑھے، وہ درج ذیل ہیں :
Capitalism
Dreaming
Ethics
Evolution
Fascism
Fundamentalism
Game Theory
Human Rights
International Relations
Medical Ethics
Muhammad
Philosophy
Politics
Socrates
Terrorism
(ان میں سے بیش تر کتب مختلف ویب سائٹس سے فری ڈاؤن لوڈ کی جاسکتی ہیں، اگرچہ ذاتی طور پر میں اب بھی کتاب ہاتھ میں لے کر اس کے ساتھ الجھنے کو ہی ’’عبادت‘‘ سمجھتا ہوں۔)

یووال ہراری (Yuval Harari) کی کتاب Sapiens: A Brief History of Humankind بہت دلچسپ پیرائے میں لکھی گئی ہے۔ محمد افضل رضا کی کتاب ’’اردو کے قدیم پشتون شعرا‘‘ نے بہت متاثر کیا۔ گلزار کی’’تروینی‘‘ کئی دفعہ پڑھی۔ یہی کچھ غنی خان کی ’’لٹون‘‘ اور اباسین یوسف زئی کی ’’غورزنگونہ‘‘ کے بارے میں کہا جاسکتا ہے۔ جوناتھن براؤن کی کتاب Misquoting Muhammad اتنی اچھی نہیں لگی جتنی توقع تھی۔

امام شاطبی کی الموافقات کی دوسری جلد کا انگریزی ترجمہ استاد گرامی نیازی صاحب نے 2014ء میں The Reconciliation of the Fundamentals of Islamic Law کے عنوان سے کیا تھا، لیکن بالاستیعاب پڑھنے کا موقع اس سال ہی ملا۔ سال کے آخری دن جناب ڈاکٹر عطاء الرحمان صاحب نے اپنے والد گرامی جناب مولانا گوہر رحمان صاحب رحمہ اللہ کی کتاب ’’مباحثِ ایمان‘‘ ہدیہ کی جو ایک ہی نشست میں پڑھ لی۔ دل سے بے ساختہ حضرت مولانا کے لیے دعا نکلی۔ برادرم عمار خان ناصر کی کتاب ’’فقہائے احناف اور فہمِ حدیث‘‘ اور مولانا صلاح الدین یوسف صاحب کی’’فتنۂ غامدیت‘‘ کو کئی دفعہ بالاستیعاب پڑھنے کی کوشش کی، اور ہربار ناکامی ہوئی، حالانکہ دونوں پر تفصیلی تبصرے کا وعدہ بھی کیا۔ اللہ تعالیٰ ایفاء کی توفیق دے۔ دونوں کتب بدستور مطالعہ کی میز پر براجمان ہیں۔

Comments

FB Login Required

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد کے شعبۂ قانون کے چیئرمین ہیں ۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

Protected by WP Anti Spam